رہنماؤں نے رابطے تیز کر دیئے، سیاسی ہلچل ہو سکتی ہے؟

جی ایم جمالی  بدھ 13 فروری 2019
آصف زرداری نے نہ صرف عوامی رابطہ مہم تیزکردی ہے بلکہ سندھ کے بااثر سیاسی خاندانوں سے بھی رابطوں میں اضافہ کردیا ہے۔ فوٹو: فائل

آصف زرداری نے نہ صرف عوامی رابطہ مہم تیزکردی ہے بلکہ سندھ کے بااثر سیاسی خاندانوں سے بھی رابطوں میں اضافہ کردیا ہے۔ فوٹو: فائل

کراچی: سندھ میں ایسی سیاسی فضاء بن گئی ہے، جس میں یہ محسوس ہو رہا ہے کہ صوبے کے سیاسی حالات میں کوئی ڈرامائی یا غیر معمولی ہلچل پیدا ہو سکتی ہے۔

سندھ اسمبلی کا اجلاس غیر متوقع اور حیران کن طور پر بہت طویل ہو گیا ہے جو 9 جنوری 2019ء کو شروع ہوا تھا اور 14 فروری کو 36 ویں دن بھی جاری رہے گا ۔ حالانکہ اسمبلی کے پاس قانون سازی کا کوئی بزنس بھی نہیں ہے۔ اس اجلاس کو اتنی طوالت کیوں دی جا رہی ہے؟ یہ سوال بہت اہم ہوگیا ہے ۔ اس کے ساتھ یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ کیا سندھ اسمبلی دو ماہ کے لیے معطل ہو سکتی ہے اور گورنر راج لگ سکتا ہے؟

اور یہ بھی پوچھا جا رہا ہے کہ کیا حکومتی ارکان اسمبلی کی گرفتاری کے خدشے کے پیش نظر اسمبلی اجلاس کو طول دیا جا رہا ہے؟ اسمبلی کی معطلی اور گورنر راج کے نفاذ کے امکان کو حکومت اور اپوزیشن دونوں کے رہنما مسترد کرتے ہیں لیکن ارکان کی گرفتاری کے امکان کو دونوں رد نہیں کر رہے ہیں ۔ دیکھنا یہ ہے کہ سندھ اسمبلی کا اجلاس کب تک جاری رہتا ہے اور اجلاس ختم ہونے کے بعد کیا ڈرامائی سیاسی صورت حال پیدا ہوتی ہے۔

سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے سندھ کے مختلف علاقوں میں اپنے سیاسی رابطوں کو تیز کردیا ہے۔ اگلے روز ٹنڈوآدم میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بھی ہم ان کے ہاتھوں میں کھیل گئے اس لیے بنگلہ دیش بن گیا اب دوسرا بنگلہ دیش نہیں بننے دیں گے۔ مخالفین کے ساتھ پاکستان کے وسائل کی جنگ لڑ رہے ہیں اپنے حق کے لیے لڑیں گے، ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔

آصف علی زرداری نے نہ صرف عوامی رابطہ مہم تیز کردی ہے بلکہ سندھ کے بااثر سیاسی خاندانوں سے بھی رابطوں میں اضافہ کردیا ہے۔ دوسری طرف صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی، گورنر سندھ عمران اسماعیل اور تحریک انصاف کے وفاقی وزراء نے بھی اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کردیا ہے۔ اگلے روز گورنر ہاؤس میں صدر ڈاکٹر عارف علوی سے عامر خان کی قیادت میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے وفد نے ملاقات کی اور دونوں اتحادی جماعتوں کی ورکنگ ریلیشن شپ میں حائل رکاوٹوں اور سندھ کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔

کچھ عرصہ قبل تحریک انصاف نے سندھ میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو ہٹانے کے لیے جو سیاسی مہم شروع کی تھی، ایم کیو ایم اور جی ڈی اے نے اس کی کھل کر حمایت نہیں کی تھی۔ دیکھنا یہ ہے کہ اب ایم کیو ایم نئی صورت حال میں کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہے۔ ایم کیو ایم کی حکمت عملی بہت اہم ہوگی۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل دائر کردی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ جے آئی ٹی نے بلاول بھٹو زرداری کو سنے بغیر آبزرویشن دی، جو انصاف کے منافی ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے مختصر حکم میں بلاول بھٹو زرداری اور سید مراد علی شاہ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کا حکم دیا۔ نظر ثانی کی درخواست میں بھی اپیل کی گئی ہے کہ نیب مذکورہ کیس کی تحقیقات راولپنڈی کی بجائے کراچی میں کرے۔ دوسری طرف نیب نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں سربمہر پیش رفت رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی ہے۔ نیب نے چار مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں کراچی بھجوادی ہیں۔ اس کیس میں ہونے والی پیش رفت سندھ کی سیاست پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔

دوسری طرف سندھ میں مختلف اسباب کے باعث سیاسی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سندھ بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے بعد گیس کی بھی بڑے پیمانے پر لوڈشیڈنگ شروع ہوگئی ہے۔ صنعتوں اور تجارتی اداروں کے ساتھ ساتھ گھریلو صارفین کو بھی گیس کی فراہمی معطل ہو رہی ہے۔ اس صورت حال نے سندھ کے لوگوں میں غم وغصہ کی لہر پیدا کردی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اس معاملے پر وزیراعظم عمران خان کو خط لکھا ہے اور کہا ہے کہ سندھ میں گیس کی لوڈشیڈنگ کرکے آئین کے آرٹیکل 158 کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ وزیراعظم سندھ کی گیس بحال کریں۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔