یک طرفہ محبت کا عذاب

وقار احمد شیخ  جمعرات 23 مئ 2019
محبت ان سے کیجیے جو آپ سے محبت کرتے ہیں۔ (تصویر: انٹرنیٹ)

محبت ان سے کیجیے جو آپ سے محبت کرتے ہیں۔ (تصویر: انٹرنیٹ)

آج کا موضوع بطور خاص ان لوگوں کے لیے ہے جو یک طرفہ محبت میں گرفتار ہیں۔ ہاں وہی لافانی محبت، جو ابتدائے آفرینش سے اس دنیا کی خوبصورتی کو قائم رکھے ہوئے ہے۔ محبت کا خوبصورت جذبہ کسی مخصوص جنس، رشتے یا صرف انسانوں سے منسوب نہیں کیا جاسکتا بلکہ یہ محبت تو کسی سے بھی، کبھی بھی ہوسکتی ہے، چاہے وہ آپ کا کوئی اپنا ہو یا بیگانہ، قدرتی نظارے ہوں یا پالتو جانور، بلکہ برسوں سے آپ کے پاس موجود کسی بے جان شے سے بھی آپ کو محبت ہوسکتی ہے۔ یہ اور بات کہ دنیا والے اپنے اپنے مزاج کے مطابق کسی جذبے کو محبت کا نام دیں اور کسی کو ”ایب نارمل“ کہہ کر مذاق بنائیں۔ محبت کرنے والے اس موضوع پر بلاتکان بول سکتے ہیں لیکن زیر نظر تحریر میں ہم ان ”لاچارگانِ محبت“ کی بات کریں گے جو کسی کی محبت میں یک طرفہ گرفتار ہوکر ایک اَن چاہا عذاب بھگت رہے ہیں، خاص کر ”ٹین ایجرز“ اس خرابے کا شکار ہوکر مختلف معاشرتی اور نفسیاتی مسائل کا سامنا کررہے ہیں۔

ایک انسان کی پہلی محبت یقیناً اس کی ”ماں“ ہوتی ہے، اس کے بعد دیگر رشتے اور خود کی ذات آتی ہے۔ لیکن معاشرے میں جب آپ کسی کی پہلی محبت کا سوال کریں تو عموماً مقصد ان رشتوں سے ہٹ کر جنس مخالف میں دلچسپی سے ہوتا ہے۔ یہ ”پہلی محبت“ کا تجربہ بھی بڑا انوکھا ہے، عموماً آج کی نوجوان نسل اسکول لائف میں ہی ”پہلی محبت“ میں گرفتار ہوجاتی ہے۔ یہاں ہم اس بحث سے گریز کرتے ہیں کہ آیا وہ واقعی محبت کا جذبہ ہوتا ہے یا وہ نوعمری میں ہارمونز کی تبدیلی کے باعث جسمانی ضروریات کے سبب ’’مائل‘‘ ہوتے ہیں۔ لیکن ٹین ایجرز کی اس محبت سے معاشرے میں بہت سے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ کھیلنے کودنے اور تعلیم حاصل کرنے کی اس عمر میں محبت میں ناکامی یا ملن میں ظالم سماج کا خوف، بچوں کو خودکشی جیسے انتہائی اقدام پر مجبور کررہا ہے۔ گزشتہ برسوں میں کتنی ہی ایسی خبریں میڈیا کے ذریعے ہمارے سامنے آچکی ہیں، یہاں تک کہ محبت کرنے والے جوڑے نے اپنے اسکول میں ہی ایک دوسرے کو گولی مار کر خودکشی کرلی۔ کہیں یک طرفہ محبت کا شکار فرد نے محبوب کی بے اعتناعی سے دل برداشتہ ہوکر نہ صرف اپنے محبوب کو قتل کردیا بلکہ خود کی زندگی کا بھی خاتمہ کرلیا۔

کیا ان واقعات کے تناظر میں محبت کو بھی ایک نفسیاتی عارضہ کہہ سکتے ہیں؟ نہیں! کوئی بھی جذبہ بذات خود برا نہیں ہوتا، لیکن اس کی شدت ”نارمل“ سے ”ایب نارمل“ کی طرف لے جاسکتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ محبت کا جنون جب سر پر سوار ہوتا ہے تو اکثریت کا برتاﺅ یکسر تبدیل ہوجاتا ہے اور ایسا یک طرفہ محبت کرنے والوں کے ساتھ اکثر ہوتا ہے۔ یہاں ہم صرف ٹین ایجرز کی محبت کا ہی ذکر نہیں کررہے بلکہ محبت کے لیے کوئی عمر بھی مخصوص نہیں۔ محبت کا جذبہ کبھی بھی کسی بھی عمر میں بیدار ہوسکتا ہے، بار بار ہوسکتا ہے۔ ایسے میں پختہ عمر میں بھی آپ کا دل کسی بچے کی طرح ہمکتا رہتا ہے۔

بات ہورہی ہے یک طرفہ محبت کی۔ ”کسی سے خاموش محبت کرنا کوئی بڑی بات نہیں۔ مگر کسی سے محبت کرکے اسے بتا کر اِک طرفہ محبت کرنا کمال ہے۔ جب آپ کے جذبات کو روندا جاتا ہے، ان کا مذاق بنایا جاتا ہے، تب بھی ہنس کر محبت کرتے جانا کمال ہے۔ خاموش محبت میں تو کوئی دکھ تکلیف نہیں ہوتی، مگر جب بتادیا جاتا ہے، تب شروع ہوتی ہے۔“ آپ کے ضبط اور محبوب کے ظرف کا امتحان یہیں سے شروع ہوتا ہے۔

خاموش محبت میں جب تک یہ جذبہ سامنے والے سے پوشیدہ رہتا ہے آپ ایک خوشگوار کیفیت میں ڈوبے رہتے ہیں۔ محبوب کا دیدار، انتظار، غیر موجودگی میں اُس کا خیال آپ کو الگ ہی خیالی دنیا میں پہنچا دیتا ہے۔ لیکن جب اس محبت کا اظہار کردیا جائے اور محبوب بے اعتناعی برتے، آپ اور آپ کی محبت کو نظر انداز کرے تو دل کی خلش بڑھ جاتی ہے، ٹھکرائے جانے کا احساس روح کو کچلتا رہتا ہے۔ ایسے میں دل باغیانہ خیالات کی زد میں آجاتا ہے۔ کسی بھی طرح محبوب کو اپنی بے پناہ چاہت کا احساس دلانے اور جوابی محبت کا تقاضا غلط حرکات پر اکساتا رہتا ہے۔ اوپر ہم نے جن جرائم کا تذکرہ کیا وہ بھی ان ہی کیفیات میں سرزد ہوتے ہیں۔

یک طرفہ محبت میں دل کی خلش روز فزوں تر ہوتی جاتی ہے۔ آپ کسی کو چاہ تو سکتے ہیں لیکن چاہے جانے پر مجبور نہیں کرسکتے۔ بے چارگی کا احساس جہاں آپ کو ڈستا رہتا ہے، وہیں اَن چاہی محبت محبوب کو مغرور بنادیتی ہے اور اس کی بے اعتناعی بڑھتی جاتی ہے۔ لیکن دل اسی خوش فہمی میں مبتلا رہتا ہے کہ ایک دن اس پرخلوص جذبے کی شدت محبوب کا دل پگھلانے میں کامیاب ہوجائے گی۔

یہ آپ کی بدقسمتی ہوگی کہ آپ کو کسی خودپرست انسان سے محبت ہوجائے۔ ایسے لوگ جو خودپسندی کا شکار ہوں وہ کبھی بھی دوسرے کی محبت کا مثبت جواب نہیں دیتے، بلکہ اس محبت کو بھی اپنا ”استحقاق“ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ بعض اوقات کسی محبت میں ٹھکرائے ہوئے انسان سے محبت کرنا بھی وبال جان بن جاتا ہے، کیونکہ ایسے لوگ جو خود اپنی پہلی محبت میں ناکامی کا شکار ہوئے ہوں وہ اپنی تشنگی کا بدلہ خود کو چاہنے والوں کو تکلیف پہنچا کرلیتے ہیں۔ حالانکہ یہ محبوب کا کمال نہیں ہوتا کہ اس سے محبت کی جارہی ہے بلکہ محبت کرنے والے دل کی عظمت ہوتی ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کے لیے جذبات رکھتا ہے۔

کم ظرف لوگوں سے محبت کرنا خود محبت کی توہین ہے۔ ایسے لوگ جو یک طرفہ محبت کا عذاب بھگت رہے ہیں جتنی جلد اس کیفیت سے باہر آجائیں ان کے لیے اچھا ہے، وگرنہ یہی جذبہ ان کے لیے قاتل ثابت ہوسکتا ہے۔ ہم مانتے ہیں کہ محبت انسان کو مجبور و لاچار کردیتی ہے، نیز محبت میں دل پر اختیار نہیں رہتا۔ یہ تو وہ جذبہ ہے جو خود سے دل میں پنپتا ہے۔ دانستہ کسی کی محبت میں گرفتار ہوجانا یا ناکامی پر بھلا دینا اس قدر آسان نہیں ہوتا۔ محبت کوئی ایسا جذبہ بھی نہیں کہ آپ نے اظہار محبت کیا اور انکار کی صورت میں اپنا دل بدل لیا۔ یہ کوئی بجلی کا سوئچ نہیں کہ آن آف کرکے جب چاہے جذبہ جگا لیں اور جب چاہیں ختم کردیں۔ ایک بار کسی کی محبت دل میں بس جائے تو اتنی آسانی سے نہیں نکلتی۔ یہ بھی مشہور ہے کہ انسان اپنی پہلی محبت کبھی نہیں بھولتا۔ لیکن اس محبت سے کیا حاصل جو خود آپ کو تباہ کردے۔ محبت ان سے کیجیے جو آپ سے محبت کرتے ہیں۔ ایک لاحاصل محبت کے لیے اپنی زندگی اور خود سے وابستہ افراد کی خوشیاں داﺅ پر نہ لگائیے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

وقار احمد شیخ

وقار احمد شیخ

بلاگر جامعہ کراچی سے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز ہیں اور گزشتہ پندرہ سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ موصوف اپنے حقیقی نام کے علاوہ ’’شایان تمثیل‘‘ کے قلمی نام سے نفسیات وما بعدالنفسیات کے موضوعات پر ایک الگ پہچان رکھتے ہیں۔ کالم نگاری کے علاوہ کہانیوں کی صنف میں بھی طبع آزمائی کرتے رہے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔