کراچی میں ہلاکت خیز طوفان اور بارش سے 19 افراد جاں بحق
شہر قائد کے مختلف علاقوں میں شدید طوفانی ہواؤں کے بعد موسلادھار بارش ہوئی، جس کے دوران مختلف حادثات میں 19 افراد جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہوگئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی کے تقریبا تمام ہی علاقوں میں شدید طوفانی ہواؤں کے بعد گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی۔
اموات کی تفصیل
ایدھی اور ریسکیو 1122 حکام کے مطابق بلدیہ مواچھ گوٹھ میں دیوار گرنے سے 11، قائد آباد مجید کالونی میں دیوار گرنے سے میاں بیوی، کورنگی میں درخت گرنے سے شہری، ملیر میں بجلی گرنے سے ایک شہری جبکہ بلدیہ میں مکان کی دیوار گرنے سے شہری جاں بحق ہوا۔
بلدیہ میں ہلاک ہونے والے نشے کے عادی افراد تھے، ترجمان ریسکیو 1122
ترجمان ریسکیو 1122 کے مطابق بلدیہ مواچھ گوٹھ میں دیوار اور چھت منہدم ہونے کے نتیجے میں مرنے والے افراد نشے کے عادی تھے اور بارش سے بچنے کیلیے عمارت میں جمع ہوئے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ ریسکیو آپریشن کا عمل جاری ہے جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد سامنے آئے گی۔
بلدیہ ٹاؤن میں مکان کی دیوار گر گئی
طوفانی ہواؤں کے باعث کئی علاقوں میں بل بورڈ اور درخت گرے جبکہ بلدیہ ٹاؤن میں مکان کی دیوار گرنے سے ایک ہی خاندان کے 7 افراد زخمی ہوئے جن میں سے ایک شخص دم توڑ گیا۔
گلستان جوہر میں دیوار گرنے سے 4 سالہ بچی جاں بحق
ترجمان چھیپا فاؤنڈیشن چوہدری شاہد کے مطابق کلفٹن نیلم کالونی کے قریب درخت گرنے سے ایک خاتون جاں بحق ہوگئی جس کی فوری طور پر شناخت نہیں ہو سکی جبکہ اس کی عمر 35 سال کے قریب بتائی جاتی۔
اس کے علاوہ گلستان جوہر کامران چورنگی کے قریب دیوار گرنے سے کمسن بچی جاں بحق ہوگئی جس کی فوری طور پر شناخت نہیں ہو سکی اور اس کی عمر 4 سال بتائی جاتی ہے۔
درخت گرنے کے واقعات
کلفٹن میں لائسنس برانچ آفس کے قریب درخت گرنے سے دو افراد زخمی ہوئے جن میں سے ایک کو شدید چوٹیں آئیں جبکہ کورنگی میں درخت تلے دب کر پانچ افراد زخمی ہوئے اس کے علاوہ ناظم آباد میں بھی درخت گرنے کا واقعہ پیش آیا۔
کورنگی میں درخت گرنے سے زخمی ہونے والے پانچ میں سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔
ملیر میں آسمانی بجلی گرنے سے ایک شخص جاں بحق
ریسکیو ذرائع کے مطابق ملیر ندی یارو گوٹھ کے قریب آسمانی بجلی گرنے سے 01 شخص جاں بحق ہوا جس کی شناخت 35 سالہ حضرت عمر کے نام سے ہوئی۔
ترجمان ریسکیو 1122 کے مطابق بلدیہ ٹاؤن کے علاقے مواچھ گوٹھ کے قریب عمارت کے گرنے سے 7 افراد جاں بحق ہوئے جن کی لاشوں کو سول اسپتال منتقل کردیا گیا۔
ترجمان کے مطابق 3 سے زائد افراد موقع پر موجود ہیں اور مزید لاشوں کی موجودگی کی تصدیق نہیں ہوسکی تاہم ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
شہر کا بیشتر علاقہ تاریکی میں ڈوب گیا
شہر میں طوفان اور بارش کے بعد 645 فیڈرز متاثر ہوئے، جس کے باعث کراچی کے بیشتر علاقے رات گئے تک بجلی سے محروم رہے۔
گلشن اقبال، گلستان جوہر، ملیر، لانڈھی، کورنگی، اورنگی، لیاقت آباد، اولڈ سٹی ایریا، نمائش، صدر سمیت کئی علاقوں میں طوفانی ہواؤں کے بعد تیز بارش ہوئی۔
واضح رہے کہ محکمہ موسمیات نے شہر کی جانب سسٹم بڑھنے کی پیش گوئی کر رکھی تھی جس کے بعد یہ سلسلہ رات گئے تک جاری ہے گا اور جمعے ہفتے کو نیا سسٹم داخل ہوگا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق شاہراہ فیصل پر ہواؤں کی رفتار90 کلومیٹر فی گھنٹہ جبکہ ماڑی پور میں ہواؤں کی زیادہ سے زیادہ رفتار 97 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی ہے۔
کراچی سمیت صوبے بھر میں ہائی الرٹ جاری
وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے کراچی سمیت پورے صوبے میں ہاٸی الرٹ جاری کرتے ہوئے متعلقہ محکموں کے تمام عملے کی عید کی چھٹیاں منسوخ کردیں۔
وزیر بلدیات نے کہا کہ سندھ حکومت عوام کی جان و مال کی حفاظت کے لیے سرگرم ہے، عوام گھروں میں رہے اور بجلی تنصیبات کو ہاتھ لگانے میں احتیاط کریں۔
ناصر حسین شاہ نے کہا کہ پانی کی نکاسی کیلیے مختلف مقامات پر افسران کو ٹیموں کے ہمراہ بھیج دیا جبکہ مشینری بھیجی جارہی ہے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ نکاسی آب کا سلسلہ فوری شروع کیا جائے اور پانی جمع ہونے کی صورت میں ایکشن لیا جائے، مارکیٹوں کے اطراف سے نکاسی فوری شروع کی جائے۔
بارشوں سے نمٹنے کے لیے کراچی انتظامیہ الرٹ ہے، کمشنر کراچی
کمشنر کراچی سید حسن نقوی نے بتایا کہ بارشوں سے نمٹنے کیلیے شہر بھر میں انتظامیہ ہائی الرٹ ہے جبکہ انہوں نے تمام ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز فوری فیلڈ میں جانے اور بارشوں سے نمٹنے آور امدادی کاموں کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کی ہدایت بھی کی۔
انہوں نے کہا کہ بلد یاتی اداروں اور ٹریفک پولیس سمیت متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ اور تعاون سے شہریوں کی مدد کریں، یقینی بنائیں عید کی خریداری کے لئے گھر سے باہر نکلے ہوئے شہر یوں کو مشکلات پیش نہ آئیں جبکہ پانی کی نکاسی اور ٹریفک روانی بہتر بنانے کے لئے ٹریفک پولیس سے رابطے میں رہیں۔
مئیر کراچی کی ہدایات پر ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں تشکیل
چیف فائر آفیسر ہمایوں خان نے بتایا کہ کراچی میں بارش کی صورت حال کے پیش نظر میئر کراچی کی ہدایت پر ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں تشکیل دے دی گئیں ہیں۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ بارش کے دوران کسی بھی ایمرجنسی صورتحال کی اطلاع 1339کی ہیلپ لائن پر دی جائے۔ ہمایوں خان کے مطابق شہر میں تمام فائر اسٹیشنز پر ہائی الرٹ کردیا گیا ہے جبکہ ایمرجنسی رسپانس ڈیوٹی کے لئے 7 فوکل پرسنز تعینات کردیے گئے ہیں۔
ہمایوں خان کے مطابق ایمرجنسی رسپانس کیلیے مرکزی کنٹرول روم کے ایم سی بلڈنگ میں قائم کیا گیا ہے، ایمرجنسی رسپانس ڈیوٹی پر تعینات فوکل پرسنز 24 گھنٹے کنٹرول روم سے رابطے میں ہونگے جبکہ ٹیمز میونسپل کمشنر کراچی کی سربراہی میں کام کررہی ہیں۔
کے الیکٹرک کی شہریوں کو ہدایت
کے الیکٹرک نے شہر میں بارشوں اور تیز ہواؤں کے پیش نظر عوام کیلیے آگاہی پیغام جاری کیا جس میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ تیز ہواؤں اور بارش کے دوران برقی آلات کے استعمال میں احتیاط کریں۔
ترجمان کےالیکٹرک کا کہنا تھا کہ بارش اور نکاسی والے علاقوں میں پانی کی موٹر جیسے برقی آلات کا غیر محفوظ استعمال حادثات کا سبب بن سکتے ہیں، شہری ٹی وی انٹر نیٹ کیبلز اور ٹوٹے ہوئے تاروں، بجلی کے ترسیلی تنصیبات سے محفوظ فاصلہ برقرار رکھیں۔
ترجمان کے الیکٹرک نے کہا کہ غیر قانونی ذرائع سے بجلی کا حصول اور کنڈے جان لیوا حادثات کا سبب بنتے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ شہر میں بارش کے بعد کی صورت حال کا جائزہ لیا جارہا ہے جس کیلیے تمام فیلڈ اسٹاف الرٹ ہے۔