وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا فوتی کوٹہ بحال کرنے فیصلہ

فوتی کوٹہ کے ستمبر 2024ء تک جو بھی کیسز ہیں ان پر غور کر کے میرٹ پر فیصلہ کریں، وزیراعلیٰ کی ہدایت

کراچی:

سندھ کابینہ کی مشاورت کے بعد وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے فوتی کوٹہ بحال کرنے فیصلہ کر لیا۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں سندھ کابینہ نے پالیسی فیصلوں کے ایک سلسلے کی منظوری دے دی۔

منظوری میں متوفی کوٹہ کی بحالی، وسائل کے اجتماعی استعمال کے ذریعے کسانوں کو بااختیار بنانے کے اقدامات، درآمدی اشیاء کے لیے لیٹرز آف کریڈٹ (LCs) کھولنے اور پراسیس کرنے کے لیے سندھ بینک کو بااختیار بنانا، لیاری ندی کو ٹی ایم سی (TMC) لیاری کے دائرہ اختیار میں لانا، اور روہڑی ریلوے اسٹیشن کی اَپ گریڈیشن کے لیے 497.574 ملین روپے جاری کرنے سمیت دیگر امور شامل ہیں۔

وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں صوبائی وزراء، مشیران، معاونین خصوصی، چیف سیکریٹری، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔ کابینہ نے ملازمت کی پالیسی، زراعت، تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور مالیاتی گورننس میں بڑی اصلاحات کا جائزہ لیا۔

متوفی کوٹہ کے کیس وزیراعلیٰ نے کابینہ کی مشاورت سے فیصلہ کیا کہ متوفی کوٹہ کے تحت وہ کیسز جن کی درخواستیں ستمبر 2024 سے پہلے جمع کرائی گئی تھیں اور وہ دیگر شرائط پر پورا اترتے ہیں، ان پر میرٹ پر کارروائی کی جائے گی۔

کابینہ نے نوٹ کیا کہ متوفی کوٹہ پالیسی 2002 میں متعارف کرائی گئی تھی۔ مزید مشاہدہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 26.09.2024 کے اپنے فیصلے کے ذریعے متوفی کوٹہ سے متعلق تمام قانونی دستاویزات کو امتیازی اور ماورائے قانون (ultra vires) قرار دیا تھا۔ نتیجتاً، حکومت سندھ نے مذکورہ فیصلے کے پیش نظر متوفی کوٹہ کے کیسز پر کارروائی روک دی تھی۔

تفصیلی غور و خوض کے بعد، کابینہ نے منظوری دی کہ ستمبر 2024 سے پہلے دائر کردہ متوفی کوٹہ کے کیسز پر قانون کے مطابق غور کیا جا سکتا ہے اور متعلقہ محکموں کی جانب سے میرٹ پر کارروائی کی جا سکتی ہے۔

متعلقہ

Load Next Story