ایران امریکا کشیدگی کم کروانے کیلیے وزیراعظم متحرک، ایرانی صدر اور امیر قطر سے رابطے
ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کروانے کیلیے وزیراعظم متحرک ہوگئے اور انہوں نے ایرانی صدر و امیر قطر سے رابطے کیے ہیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کروانے کیلیے ایک بار پھر کردار ادا کرنا شروع کردیا جس کے تحت انہوں نے ایرانی صدر اور امیر قطر سے ٹیلی فونک رابطے کیے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایرانی صدر سے گفتگو میں اسلام آباد مفاہمی یادداشت، وعدوں اور ذمہ داریوں کی پاسداری کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے گفتگو میں خطے میں حالیہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امن و استحکام کی فوری بحالی کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیراعظم نے ایران اور دیگر تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل و بردباری کا مظاہرہ کریں اور ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کریں جو گزشتہ چند ماہ کے دوران امن کے لیے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو نقصان پہنچا سکتا ہو۔
وزیراعظم نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MoU) کے تحت کیے گئے باہمی وعدوں اور ذمہ داریوں کی پاسداری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت خطے اور اس سے باہر باہمی افہام و تفہیم، احترام اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے ایک پائیدار بنیاد ہے۔
وزیراعظم نے خطے میں امن کے فروغ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے صدر پزشکیان کو یقین دلایا کہ پاکستان علاقائی امن و استحکام کی بحالی اور اسے برقرار رکھنے کے لیے مخلصانہ اور دیانتدارانہ کردار ادا کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔
صدر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پاکستان کی دیگر اعلیٰ قیادت کی جانب سے علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین میں شرکت پر شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے خطے میں امن کے لیے ایران کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس ضمن میں پاکستان کی حمایت اور تعمیری کردار کو سراہا۔
دونوں رہنماؤں نے گزشتہ ماہ صدر پزشکیان کے دورۂ اسلام آباد کے دوران طے پانے والے فیصلوں پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا اور دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے ان پر تیزی سے عملدرآمد جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
وزیراعظم نے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے نیک تمناؤں اور پرتپاک جذبات کا اظہار بھی کیا۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی رابطے برقرار رکھنے اور علاقائی امن و استحکام سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
بعد ازاں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا جس کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان انتہائی خوشگوار اور پرتپاک گفتگو ہوئی۔
گفتگو کے دوران وزیراعظم نے خطے میں حالیہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور حالیہ حملوں کے تناظر میں قطر کے عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی اور حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کریں جو خطے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچا سکتا ہو۔
وزیراعظم نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (Islamabad Memorandum of Understanding) اور برگن اسٹاک میں اعلیٰ سطحی تکنیکی مذاکرات کے پہلے دور کے انعقاد تک پہنچنے والی امن کوششوں میں قطر کی مستقل اور غیرمتزلزل حمایت پر امیرِ قطر کا دلی شکریہ ادا کیا۔
دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ امن کے لیے سفارتی روابط اور بامعنی مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنا اور امن مفاہمتی یادداشت کے تحت تمام فریقین کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد یقینی بنانا ناگزیر ہے۔
امیرِ قطر نے خطے میں امن کے قیام کیلیے کردار ادا کرنے پر وزیراعظم، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں اور قائدانہ کردار کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا اور اس سلسلے میں قطر کی مسلسل حمایت جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔