امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے پر آمادہ ہیں تاہم دونوں ممالک کے درمیان نافذ جنگ بندی اب ختم ہوچکی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خیالات کا اظہار اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کیا۔
صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ایران نے خود مذاکرات جاری رکھنے کی درخواست کی تھی جسے امریکا نے قبول کرلیا لیکن ہمارا مؤقف بالکل واضح ہے کہ جنگ بندی اب ختم ہو چکی ہے۔
اگرچہ صدر ٹرمپ نے جنگ بندی ختم ہونے کا اعلان کیا ہے لیکن دوسری جانب امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران ایران پر کوئی نئی امریکی فوجی کارروائی نہیں کی گئی۔
یاد رہے کہ ایک روز قبل وائٹ ہاؤس نے عندیہ دیا تھا کہ اگر ایران گزشتہ ماہ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی شرائط پر عمل کرے تو امریکا بھی اس کی پابندی جاری رکھے گا۔
اپریل کے اوائل سے دونوں ممالک کے درمیان ایک جنگ بندی برقرار تھی تاہم دو روز سے جاری حالیہ فوجی جھڑپوں نے اس معاہدے کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
دوسری جانب قطر، پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب سمیت متعدد ثالث ممالک کشیدگی کم کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔ قطری مذاکرات کار تہران پہنچ چکے ہیں جہاں وہ ایرانی حکام سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔
ان مذاکرات کا مقصد حالیہ کشیدگی کو کم کرنا، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق تنازعات کا حل تلاش کرنا اور امریکا-ایران مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔ امریکی حکام بھی ان سفارتی کوششوں سے رابطے میں ہیں۔
ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں یہ بھی کہا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ دوبارہ کشیدگی بڑھی بھی تو یہ مختصر ہوگی اور مکمل جنگ کی صورت اختیار نہیں کرے گی۔
امریکی صدر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے بچنا چاہتے ہیں اور مسلسل کشیدگی سے خام تیل مہنگا ہوسکتا ہے جس کے امریکی معیشت اور نومبر میں ہونے والے وسط مدتی کانگریسی انتخابات پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔