پاناما کے معاملے پر ایک بھی جھوٹ ثابت ہوجائے تو سیاست چھوڑ دوں گا عمران خان
الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد سچ اور جھوٹ واضح ہوگیا، چیرمین تحریک انصاف
الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد سچ اور جھوٹ واضح ہوگیا، چیرمین تحریک انصاف، فوٹو؛ فائل
تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ پاناما لیکس کے معاملے پر میرا ایک بھی جھوٹ ثابت ہوگیا تو میں سیاست چھوڑ دوں گا۔
بنی گالا میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ حکومتی وزرا روزانہ مجھے بر ابھلا کہتے ہیں، میں انگلینڈ میں 33 فیصد ٹیکس دیتا تھا، پاکستان سے باہر سب کچھ میرے نام پر تھا میں نے جو فلیٹ 2003 میں بیچا تھا اس کی سیل ڈیڈ دکھائی، جو پیسا لے کر پاکستان آیا اس کی منی ٹریل بھی دکھائی جب کہ نواز شریف پر الزام ہے کہ وہ پاکستان سے پیسہ چوری کرکے منی لانڈرنگ کرکے بیرون ملک لے کر گئے، ان کی منی لانڈرنگ کا اعتراف اسحاق ڈار نے بھی کیا، ایک طرف پاکستان میں پیسا آرہا ہے تو دوسری طرف ڈالر باہر جا رہے ہیں۔
اس خبرکوبھی پڑھیں: عمران خان اور جہانگیر ترین کیخلاف نااہلی ریفرنس خارج
چیرمین پی ٹی آئی نے کہا میرے اور جہانگیر ترین کے خلاف چار ریفرنسز دائر کیے گئے، میں نے گزشتہ برس دسمبر کے پہلے ہفتے میں الیکشن کمیشن کو تمام جواب دے دیئے تھے اور میں نے کہا تھا ایک بھی جھوٹ ثابت ہوگیا تو سیاست چھوڑ دوں گا، آج الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد سب کے سامنے واضح ہو گیا سچ کیا تھا اورکیس کیا تھا۔
اس خبرکوبھی پڑھیں: عمران خان اور جہانگیر ترین کو بے نقاب کر کے چھوڑیں گے
عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نے پارلیمنٹ میں پاناما کے معاملے پر آوازاٹھائی اور میرے ساتھ مشترکہ اپوزیشن نے بھی وزیراعظم سے جواب مانگا جب کہ پارلیمنٹ میں نواز شریف نے جو بیان دیا سپریم کورٹ میں ان کے بچوں کے جواب میں تضادات آگئے، اسپیکر نے الیکشن کمیشن کو نوازشریف کا ریفرنس بھیجنے کے بجائے میرا ریفرنس بھیج دیا، میںٕ تو اپوزیشن کا کام کررہا تھا تو اسپیکر نے میرا ریفرنس کیوں بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ ایازصادق نے نواز شریف کےساتھ مل کر میری آواز بند کرنے کی کوشش کی، ایاز صادق کے پاس اسپیکر قومی اسمبلی رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔
چیرمین تحریک انصاف نے کہا کہ ملک میں صرف نام کی جمہوریت ہے، حکومت کا کام قانون بنانا ہے اور اپوزیشن کا کام حکومت کا پیسا غلط استعمال ہونے پر آواز اٹھانا ہے۔
بنی گالا میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ حکومتی وزرا روزانہ مجھے بر ابھلا کہتے ہیں، میں انگلینڈ میں 33 فیصد ٹیکس دیتا تھا، پاکستان سے باہر سب کچھ میرے نام پر تھا میں نے جو فلیٹ 2003 میں بیچا تھا اس کی سیل ڈیڈ دکھائی، جو پیسا لے کر پاکستان آیا اس کی منی ٹریل بھی دکھائی جب کہ نواز شریف پر الزام ہے کہ وہ پاکستان سے پیسہ چوری کرکے منی لانڈرنگ کرکے بیرون ملک لے کر گئے، ان کی منی لانڈرنگ کا اعتراف اسحاق ڈار نے بھی کیا، ایک طرف پاکستان میں پیسا آرہا ہے تو دوسری طرف ڈالر باہر جا رہے ہیں۔
اس خبرکوبھی پڑھیں: عمران خان اور جہانگیر ترین کیخلاف نااہلی ریفرنس خارج
چیرمین پی ٹی آئی نے کہا میرے اور جہانگیر ترین کے خلاف چار ریفرنسز دائر کیے گئے، میں نے گزشتہ برس دسمبر کے پہلے ہفتے میں الیکشن کمیشن کو تمام جواب دے دیئے تھے اور میں نے کہا تھا ایک بھی جھوٹ ثابت ہوگیا تو سیاست چھوڑ دوں گا، آج الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد سب کے سامنے واضح ہو گیا سچ کیا تھا اورکیس کیا تھا۔
اس خبرکوبھی پڑھیں: عمران خان اور جہانگیر ترین کو بے نقاب کر کے چھوڑیں گے
عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نے پارلیمنٹ میں پاناما کے معاملے پر آوازاٹھائی اور میرے ساتھ مشترکہ اپوزیشن نے بھی وزیراعظم سے جواب مانگا جب کہ پارلیمنٹ میں نواز شریف نے جو بیان دیا سپریم کورٹ میں ان کے بچوں کے جواب میں تضادات آگئے، اسپیکر نے الیکشن کمیشن کو نوازشریف کا ریفرنس بھیجنے کے بجائے میرا ریفرنس بھیج دیا، میںٕ تو اپوزیشن کا کام کررہا تھا تو اسپیکر نے میرا ریفرنس کیوں بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ ایازصادق نے نواز شریف کےساتھ مل کر میری آواز بند کرنے کی کوشش کی، ایاز صادق کے پاس اسپیکر قومی اسمبلی رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔
چیرمین تحریک انصاف نے کہا کہ ملک میں صرف نام کی جمہوریت ہے، حکومت کا کام قانون بنانا ہے اور اپوزیشن کا کام حکومت کا پیسا غلط استعمال ہونے پر آواز اٹھانا ہے۔