شیرکا بچہ بھی شیر ہوتا ہے وہ کبھی نہیں ہارتا حنیف عباسی

عمران خان سیاست کےساتھ غنڈہ گردی بھی کرنا چاہتے ہیں، حنیف عباسی

سیاست میں مقدمات کا قائم ہونا بڑی بات نہیں ان مقدمات کا جرات سے سامنا کرنا اہم ہے، حنیف عباسی فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کا کہنا ہے کہ شریف فیملی پر مقدمات اور احتساب کا سلسلہ 1974 سے شروع ہوا لیکن یاد رکھیں شیر کا بچہ شیر ہی ہوتا ہے۔

جوڈیشل اکیڈمی اسلام آباد کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ سیاست میں مقدمات کا قائم ہونا بڑی بات نہیں ان مقدمات کا جرات سے سامنا کرنا اہم ہے، وزیراعظم کے اہل خانہ کا ہمیشہ ہی احتساب ہوتا رہا ہے اور یہ سلسلہ 74 سے شروع ہوا لیکن یاد رکھیں شیرکا بچہ بھی شیر ہی ہوتا ہے وہ کسی میدان میں نہیں ہارتا اور نہ گھبراتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انصاف سب کے لیے برابر ہونا چاہیئے، ایک شخص عدالت عظمیٰ میں جاکر پاؤں پر پاؤں رکھ کر بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ نیازی سروسز کو ظاہر نہ کرنے میں غلطی ہوگئی، عمران خان کے وکیل نے 5 بینکنگ ٹرانزیکشن ہونے کی تصدیق کی، عمران نےکہا کہ میری بیوی کے اکاؤنٹس سے دوست کے اکاؤنٹ میں پیسےگئے لیکن ان کے اس بیان اور پیش کردہ شواہد کو عدالت نے مضحکہ خیز قرار دیا۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: عمران خان کی آف شور کمپنیوں کے شواہد سپریم کورٹ میں جمع

حنیف عباسی نے مزید کہا کہ عمران خان سیاست کےساتھ غنڈہ گردی بھی کرنا چاہتے ہیں، اداروں کوگالیاں دینےکی بات انہوں نے بھی کی ہے، کیا انہوں نے اداروں پر حملہ اور پولیس اہلکاروں کونہیں مارا، کیا عمران خان نے سرکاری ٹی وی پر حملہ اور اداروں پر قبضے کی بات نہیں کی، اب انہیں چاہئے کہ وہ جرات سے مقدمات کا سامنا کریں۔


اس خبرکوبھی پڑھیں: عمران خان اور جہانگیر ترین کو بے نقاب کر کے چھوڑیں گے

دانیال عزیز کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے غیر کسی حیلے بہانے کے خود کو اور خاندان کو احتساب کے لیے پیش کیا، ہم نے عدالت عظمیٰ میں کچھ معاملات پر نکات اٹھائے ہیں کیوں کہ جب معاملات قانون سے تجاوز کرجائیں تو تحقیقات کا مطالبہ ہمارا حق ہے، ہماری گزارش ہے چیزیں ہوا میں نہیں رہنی چاہییں توقع کرتے ہیں کہ ہمارے پیش کیے گئے نکات پر تفتیش ہوگی۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: عمران خان دہشت گردی سمیت سنگین مقدمات میں اشتہاری ہیں

دانیال عزیز نے کہا کہ ہمارے بیان میں نہیں عمران خان کے بیان میں تضاد ہے ہم صرف وہ تفصیلات مانگ رہے ہیں جن پرعمران نےالیکشن لڑا اور انہوں نے خود اثاثے چھپانے اور ٹیکس چوری کااعتراف کیا، یہ چیزیں تحریری طور پر بیان کی گئی ہیں ہمیں اس معاملےکی تہہ تک پہنچنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کہتےتھے کہ جس معیار پر حکومت کی تفتیش ہو اسی پر ہمارا احتساب ہو عمران خان اب اسی معیار کے احتساب سے بھاگ رہے ہیں، یہ کہیں اور کا معاملہ نہیں صرف سڑک پار کا کیس ہے۔
Load Next Story