ٹیکس چوری و منی لانڈرنگ کیس؛ عمران خان نے تمام الزامات مسترد کردیئے

ویب ڈیسک  منگل 29 نومبر 2016
اثاثوں کی حوالے سے کوئی غلط بیانی نہیں کی، چئیر مین تحریک انصاف۔ فوٹو : فائل

اثاثوں کی حوالے سے کوئی غلط بیانی نہیں کی، چئیر مین تحریک انصاف۔ فوٹو : فائل

 اسلام آباد: ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ کیس میں عمران خان نے سپریم کورٹ میں اپنا جواب جمع کرادیا ہے جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

عمران خان نے سپریم کورٹ میں ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ کیس سے متعلق  درخواست پر اپنا جواب جمع کرا دیا  ہے جس میں انہوں نے مبینہ ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ کے تمام الزامات مسترد کر دیئے۔ عمران خان کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ کالا دھن سفید کرنے کے الزامات بے بنیاد، جھوٹے اور غلط ہیں، حنیف عباسی نے درخواست سیاسی آقاؤں کے کہنے پر دائر کی جس میں انہوں نے اپنے پس پردہ مقاصد کی خاطر الزامات لگائے لہذا درخواست جرمانے کے ساتھ خارج کی جائے۔

عمران خان کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ لندن فلیٹ بیرون ملک آمدن سے ایک لاکھ 17 ہزار پاوٴنڈ میں خریدا جو بعد میں 7 لاکھ 15 ہزار پاوٴنڈ میں فروخت ہوا جب کہ ٹیکس ادائیگی کرکے 6 لاکھ 90 ہزار 307 پاوٴنڈ ملے، مارچ 2003 میں لندن فلیٹ کی رقم جمائما کو دے دی۔

عمران خان نے عدالت میں جمع کرائے گئے جواب میں کہا کہ 9 ملین پاوٴنڈ کی رقم سے نیازی سروسز لمٹیڈ کمپنی بنائی گئی جب کہ نیازی سروسز لمیٹڈ کا اثاثہ لندن کا فلیٹ تھا،2002  میں بنی گالہ کی زمین 43 کروڑ 50 لاکھ روپے میں خریدی اور اراضی کی ابتدائی رقم 65 لاکھ روپے خود ادا کی جب کہ لندن فلیٹ کی فروخت میں تاخیر پر جمائما نے بنی گالہ اراضی کی رقم ادا کی جس کے شواہد موجود ہیں لہذا بنی گالہ کی اراضی منی لانڈرنگ سے خریدنے کے الزامات غلط ہیں۔

عدالت میں جمع کرائے گئے جواب میں چئیر مین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ اثاثوں کی حوالے سے کوئی غلط بیانی نہیں کی اور تین دہائیوں سے ٹیکس بھی ادا کر رہا ہوں جب کہ ایف بی آر نے 13 سال سے بنی گالہ اراضی کی ٹرانزیکشن پر اعتراض نہیں کیا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔