تاخیر سے ٹیکس گوشوارے جمع کرانا بے سود، فائلز نہیں مانا جائے گا

ارشاد انصاری  جمعـء 18 مئ 2018
ایکٹوٹیکس پئرلسٹ سے نکال کرنان فائلر والے زیادہ ٹیکس ریٹ عائدکیے جائینگے، دیر سے ریٹرن جمع کرانے کی حوصلہ شکنی ہوگی،ذرائع۔ فوٹو : فائل

ایکٹوٹیکس پئرلسٹ سے نکال کرنان فائلر والے زیادہ ٹیکس ریٹ عائدکیے جائینگے، دیر سے ریٹرن جمع کرانے کی حوصلہ شکنی ہوگی،ذرائع۔ فوٹو : فائل

 اسلام آباد:  فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے دیر سے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والے ٹیکس دہندگان کے نام ایکٹو ٹیکس پئیر لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے نتیجے میں لیٹ فائلر کو پورا سال نان فائلرکی طرح اضافی شرح سے ٹیکسوں کی ادائیگی کرنا پڑے گی۔

ایف بی آر کے سینئر افسر نے ’’ایکسپریس‘‘ کو بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے فنانس بل کے ذریعے دیر سے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کو آڈٹ کے لیے منتخب کرنے سے متعلق انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق سیکشن 214 ڈی تو ختم کرنے کافیصلہ کر ہی لیاہے مگر ساتھ ہی ان کے لیے ایک بہت بڑی سزا بھی تجویز کردی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کی طرف سے فنانس بل میں ایک اور ذیلی شق شامل کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جو ٹیکس دہندگان مقررہ وقت پر اپنے انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کرائیں گے یا مقررہ تاریخ کے بعد گوشوارے جمع کرائیں گے انہیں اس ٹیکس ایئر کے لیے ایکٹو ٹیکس پیئرز کی لسٹ سے نکال دیا جائے گا۔

دیر سے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کے باوجود ان کے ساتھ نان فائلر والا سلوک کیا جائے گا اور انہیں ہر قسم کے لین دین، جائیداد کی خریدو فروخت پر نان فائلر کے لیے عائد کردہ زیادہ شرح کے مطابق ٹیکس کی ادائیگی کرنا ہوگی جس سے ان کے لیے مشکلات بہت زیادہ بڑھ جائیں گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کی جانب سے اگر ایک جانب دیر سے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کو آڈٹ کے لیے منتخب نہ کرنے کا فیصلہ کرکے بہت بڑی سہولت فراہم کی گئی ہے تودوسری جانب اسی فنانس بل کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس میں کی جانے والی ترمیم کے ذریعے بہت بڑی سزا بھی تجویز کردی ہے اور فنانس بل 2001کی پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد صدر کے دستخط سے ایکٹ کی صورت نفاذ کے بعد اس نئی شق کا اطلاق ہوجائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ شق 214 ڈی کے ختم ہونے کے باعث دیر سے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والے لاکھوں ٹیکس دہندگان کو آڈٹ سے استثنیٰ مل جائے گا مگر ساتھ ہی یہ لاکھوں ٹیکس دہندگان ایکٹو ٹیکس پیئرز کی لسٹ سے بھی نکل جائیں گے اور ان پر اضافی شرح سے ٹیکس لاگو ہو جائے گا جس کے باعث ایف بی آر کو کروڑوں روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوگا اور ساتھ ہی دیر سے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کے رجحان کی بھی حوصلہ شکنی ہوگی اور لوگ پورا سال نان فائلرز کی طرح اضافی شرح سے ٹیکسوں کی ادائیگی سے بچنے کے لیے اپنی ذمے داری بروقت پوری کریں گے اور مقرر مدت کے دوران ہی اپنے ٹیکس گوشوارے جمع کرائیں گے اور ساتھ ہی ایف بی آر کے آڈٹ ڈپارٹمنٹ پر آڈٹ کا غیر ضروری بوجھ کم ہوجائے گا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔