افغان و دیگر کی شہریت کا معاملہ، قوم پرست جماعتیں برہم

رضا الرحمٰن  بدھ 26 ستمبر 2018
بلوچستان عوامی پارٹی نے بھی وزیراعظم عمران خان کے بیان پر اپنے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ فوٹو: فائل

بلوچستان عوامی پارٹی نے بھی وزیراعظم عمران خان کے بیان پر اپنے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ فوٹو: فائل

کوئٹہ: وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کراچی میں اپنے خطاب کے دوران افغانیوں سمیت دیگر غیر ملکیوں کو شہریت دینے کے اعلان کے بعد بلوچستان میں بلوچ قوم پرست جماعتوں کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔

وفاق میں تحریک انصاف کی حمایت کرنے والی پارلیمانی جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اخترجان مینگل نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم کے اس بیان کی نہ صرف وضاحت مانگ لی بلکہ ان کی جماعت نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ انھوں نے وزیراعظم اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے دوران جو 6 نکاتی معاہدہ کیا تھا اس میں ایک نقطہ افغان مہاجرین کے انخلاء کا بھی تھا لہٰذا ان کی جماعت اس معاہدے کی خلاف ورزی پر اپنی حمایت واپس لے سکتی ہے اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن بنچوں پر بیٹھ سکتی ہے۔

اس ردعمل پر تحریک انصاف کی قیادت نے فوری طور پر بی این پی مینگل کی قیادت سے رابطے کئے اور انہیں رام کرنے کی کوششیں شروع کردیں جبکہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بھی قومی اسمبلی کے اجلاس میں اس حوالے سے وضاحت دی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق بی این پی مینگل سے رابطوں اور پھر وزیراعظم کی وضاحت کے باوجود صورتحال ابھی تک اطمینان بخش نہیں ہے۔

ان مبصرین کے مطابق ایک دو روز میں وزیراعظم عمران خان اور بی این پی کے سربراہ سردار اخترجان مینگل کے درمیان ون ٹو ون ملاقات ہونے جا رہی ہے جس کے بعد صورتحال واضح ہوجائے گی؟ بلوچستان عوامی پارٹی نے بھی وزیراعظم عمران خان کے بیان پر اپنے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کو مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں بھی اُٹھائیں گے۔

بلوچستان میں بھی سیاسی موسم میں گرمی کے اثرات دکھائی دے رہے ہیں، جہاں متحدہ اپوزیشن صوبائی مخلوط حکومت کو ٹف ٹائم دینے کیلئے متحرک ہوگئی ہے۔ متحدہ اپوزیشن نے اسمبلی اجلاس بھی ریکوزٹ کروا دیا ہے جس میں 2018-19ء کی پی ایس ڈی پی کے معاملے کو زیر بحث لایا گیا ہے۔

بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن ارکان نے اس پی ایس ڈی پی پر اپنے سخت تحفظات اورخدشات کا اظہار کرتے ہوئے بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں عوامی مفادات کے منصوبوں کو شامل کرنے پر زوردیا جبکہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے اپوزیشن ارکان کی پی ایس ڈی پی 2018-19ء پر تندوتیز بیانات پر ایوان میں رائے کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد ہماری کابینہ نے اپنے پہلے اجلاس میں پی ایس ڈی پی کا جائزہ لیا اور اس فیصلے کی روشنی میں اسکیمات پر غور کیا، ابتدائی جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ بہت سی اسکیمات پر قانونی طریقہ کار مکمل نہیں کیا گیا، اب کابینہ کے اگلے اجلاس میں محکمہ منصوبہ بندی وترقیات اس پر مفصل رپورٹ پیش کرے گا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کی جو رپورٹ آئے گی اسے ہم عوامی دستاویز بنائیں گے اور اسے اسمبلی میں بھی پیش کرینگے انہوں نے ایوان کو مزید بتایا کہ اس سلسلے میں ایک کمیٹی بھی بنائی جا رہی ہے جوکہ ارکان اسمبلی سے اس حوالے سے تجاویز لے گی۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر یہ بات دہرائی ہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی اور تحریک انصاف میں کوئی ڈیڈ لاک نہیں ہے، دونوں جماعتوں میں دوری کا تاثر بے بنیاد ہے بلوچستان عوامی پارٹی نے وزیراعظم اور صدارتی انتخاب میں پی ٹی آئی کو ووٹ دیا جبکہ تحریک انصاف بلوچستان میں ہماری اتحادی جماعت ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق بلوچستان عوامی پارٹی اور تحریک انصاف بلوچستان کے درمیان ابھی تک کھچائو والی صورتحال برقرار ہے، تاہم ایک دوسرے کے خلاف بیانات کا جو سلسلہ گزشتہ دنوں جاری تھا وہ ختم ہوگیاہے جس میں اہم کردار وزیراعظم عمران خان کا ہے جن سے وزیراعلیٰ جام کمال اور تحریک انصاف کے صوبائی پارلیمانی لیڈر سرداریار محمد رند کی الگ الگ ملاقاتیں ہوئیں اور ان ملاقاتوں کے نتیجے میں دونوں اطراف سے بیانات کی حد تک خاموشی ہوگئی ہے جو کہ وقتی دکھائی دے رہی ہے کیونکہ ابھی تک وزیراعلیٰ جام کمال کی کابینہ بھی نامکمل ہے مزید دو وزراء اور ایک مشیر لیاجانا ہے جس کیلئے دونوں جماعتوں میں مشاورت کا عمل ہونا باقی ہے۔

ان مبصرین کے مطابق وزیراعظم سے ملاقات کے بعد تاحال وزیراعلیٰ جام کمال اور سرداریار محمد رند کے درمیان ابھی تک نہ کوئی ملاقات ہوئی ہے اور نہ ہی مشاورت جوکہ یہ بات واضح کرتی ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان ابھی تک کھنچائو والی صورتحال برقرار ہے؟

سیاسی حلقوں میں گورنر بلوچستان کی تقرری نہ ہونے کی بات بھی زیر بحث ہے جبکہ دیگر تینوں صوبوں کے گورنرز کی تقرری کا عمل مکمل ہوچکا ہے بعض سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں ایک لابی اسپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو کو گورنر بلوچستان کے عہدے کیلئے فیورٹ قرار دینے کیلئے سرگرم عمل ہے جس میں سینٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی پیش پیش ہیں۔

ان سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال بھی اسی حق میں ہیں کہ میر عبدالقدوس بزنجو کو گورنر بلوچستان مقرر کردیا جائے کیونکہ انہیں یہ خدشہ ہے کہ اگر بلوچستان میں ان کی وزارت اعلیٰ کو کسی سے خطرہ لاحق ہوسکتا ہے تو وہ اسپیکر میر عبدالقدوس بزنجو ہوسکتے ہیں؟جبکہ اسپیکر میر عبدالقدوس بزنجو اس حق میں نہیں کہ انہیں گورنر بلوچستان تعینات کیا جائے کیونکہ وہ اس عہدے سے زیادہ پارلیمانی اورعوامی سیاست کو زیادہ فوقیت دیتے ہیں۔

سیاسی حلقوں کے مطابق گزشتہ دنوں قائمقام گورنر اسپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو نے اسلام آباد میں وزیراعظم پاکستان عمران خان سے بھی ملاقات کی اورانہیں اپنی رائے سے آگاہ کیا۔ تاہم بعض سیاسی حلقوں کا یہ خیال ہے کہ کیونکہ چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کا شمار قائم مقام گورنر اور اسپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو کے قریبی دوستوں میں ہوتا ہے اور گورنر شپ کیلئے چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کا سرگرم ہونا اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ میر عبدالقدوس بزنجو کی بھی شاید اس میں رضا مندی شامل ہو؟۔

بلوچستان میں کاپر اور گولڈ کے منصوبوں ریکوڈک اور سیندک کی شکل میں ذخائر جس کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ موجودہ حکومت کیلئے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوگا اور بلوچستان کے عوام کی نگاہیں سی پیک کے بعد ان دونوں بڑے منصوبوں پر مرکوز ہیں۔ صوبے کی سیاسی اور قوم پرست جماعتوں نے بھی ماضی میں ان منصوبوں کو سیاسی ایشوز کے طور پر اپنے ایجنڈے کا حصہ بنائے رکھا ہے۔

بلوچستان میں1980ء کی دہائی میں سیندک سے نکلنے والے گولڈ کے بہت بڑے ذخائر صوبے کی ترقی میں بہترین کردار ادا کرسکتے تھے لیکن ماضی کی حکومتوں کے فیصلے نے اس اہم موقعے کو گنوا دیا اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم سے بلوچستان کو سیندک جیسے بڑے منصوبے سے ایسا کوئی فائدہ نہیں مل سکتا جس سے ترقیاتی انقلاب برپا ہوسکے۔اسی طرح چلی کی کمپنی سے بلوچستان کے کاپر کے سب سے بڑے ذخائر ریکوڈک منصوبے میں بھی کوئی خاطر خواہ فائدہ صوبے کیلئے حاصل کرنا تو کجا بلکہ دو دہائی گزرنے کے باوجود یہ منصوبہ بھی صوبے کے عوام کی بدحالی کو خوشحالی میں تبدیل کرنے کا موجب نہ بن سکا۔

بلوچستان کی نئی حکومت جو صوبے کے مفاد اور یہاں رہنے والے باسیوں کے فائدے، پسماندگی کے خاتمے اور صوبائی وسائل سے صوبے کے عوام کو مستفید کرنے کے دعوے کرکے اقتدار تک آئی ہے ریکوڈک اور سیندک جیسے منصوبوں کے حوالے سے اس کے فیصلے بھی مستقبل میں ایک بڑے چیلنج کی شکل اختیار کئے ہوئے ہیں کیونکہ ریکوڈک کیس عالمی عدالت انصاف میں زیر سماعت ہے جبکہ سیندک کے حوالے سے سابقہ دور حکومت میں چائنا کو مزید دس سال لیز کی تجدید کی گئی ہے۔ جس میں ایک بار پھر معاشی ماہرین پر صوبے کے مفادات کو نظر انداز کرنے اور عوامی فلاح و بہبودکو ملحوظ خاطر نہ رکھنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے وزیراعلیٰ جام کمال اور انکی کابینہ کیلئے یہ کڑا امتحان ہوگا کہ وہ قومی اقتصادی کونسل سے صوبے کے مفادات اور قومی مالیاتی ایوارڈ میں اپنا کتنا حصہ مختص کروانے میں کامیاب ہوگی اور ان تمام باتوں سے بڑھ کر سیندک اور ریکوڈک جیسے میگا پراجیکٹس کے حوالے سے اس کا کیا اسٹینڈ ہوگا جس سے صوبے کے مفادات کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔