منی لانڈرنگ کیس؛ بابر غوری، سہیل منصور، احمد علی اور ارشد وہرہ کے وارنٹ گرفتاری جاری

کورٹ رپورٹر  ہفتہ 10 نومبر 2018
ایم کیو ایم کیلیے رقوم مختلف کمپنیوں سے منتخب نمائندگان کے ذریعے حاصل کی جاتی تھیں۔ فوٹو: فائل

ایم کیو ایم کیلیے رقوم مختلف کمپنیوں سے منتخب نمائندگان کے ذریعے حاصل کی جاتی تھیں۔ فوٹو: فائل

 کراچی:  انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں بابرغوری، خواجہ سہیل منصور، احمد علی اور ارشد عبداللہ وہرہ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے بانی ایم کیو ایم کیخلاف منی لانڈرنگ کیس میں4 مفرور ملزمان میں بابرغوری، خواجہ سہیل منصور، احمد علی اور ارشد عبداللہ وہرہ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔ عدالت نے ملزمان کو گرفتار کرکے 12 نومبر کو پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

ایف آئی اے کے مطابق منی لانڈرنگ کے لیے خدمت خلق فاؤنڈیشن کے اکاؤنٹس استعمال ہوئے۔ تحقیقات میں میٹروپولیٹن پولیس لندن کی تفتیش کو بھی شامل کرلیا گیا۔

میٹروپولیٹن پولیس لندن کے مطابق بانی ایم کیوایم کی رہائش گاہ سے بھاری رقم برآمد ہوئی۔ رقم بھارتی حکومت نے پاکستان میں بغاوت، دہشت گردی اور قتل وغارت گری کے لیے فراہم کی تھی۔ ایم کیوایم کے رہنما محمد انور اور طارق میر نے لندن پولیس کے سامنے اس امر کا اعتراف کرلیاہے۔

ایف آئی آر سرفراز مرچنٹ کی شکایت پر ایف آئی اے میں درج ہے۔ ایم کیوایم کے لیے رقوم مختلف کمپنیوں سے منتخب نمائندگان کے ذریعے حاصل کی جاتی تھیں۔ کے کے ایف کی رقوم پاکستان کے مختلف بینکوں کے ذریعے ہوتی ہوئی برطانیہ جاتی تھیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔