قاہرہ کا فساد

اسلم خان  جمعرات 4 جولائ 2013

مصر میں نوزائیدہ جمہوریت کی بساط لپیٹ دی گئی، اعتدال پسند اسلام کے علمبردار اور امریکی درس گا ہو ں سے فارغ التحصیل محمد مرسی کو بر طر ف کر کے حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا۔ جنرل فاتح نے اقتدار خود سنبھالنے کے بجا ئے سپریم کو رٹ کے چیف جسٹس عادل منصور کو نگران انتظامیہ کا سر براہ بنا دیا ہے۔ دونوں کا تقرر معزول صدر نے خو د کیا تھا۔

تحریر چوک میں مرسی مخالف لاکھوں روشن خیال مصریوں نے جشن منایا اور آتش بازی کے مظاہر ے کیے۔ فوج کے سربراہ کے متحارب سیاسی جماعتوں کو اپنے معاملات 2 دن میں مذاکرات کی میز پر حل کر نے کی ‘ڈیڈ لائن’ ختم ہو نے کے بعد حتمی اقدام کر کے ایک بار پھر جمہوریت کو دفن کر دیا۔ جناب مرسی نے اپنے جرنیل کا الٹی میٹم مسترد کر دیا تھا۔ ان کے لا کھو ں حامی بھی قاہرہ کی سٹرکوں پر جمع تھے۔ انھوں نے قوم سے آخری خطا ب میں اپنے حامیوں سے فوجی انقلاب کی ‘پر امن مزاحمت’کر نے کی اپیل کی لیکن فوجی ٹینکوں کے سامنے ایسی اپیلوں کا جو حشر ہوتا ہے وہی ہوا، ایک بار پھر قاہرہ کے گلی کوچوں میں مشنیوں کے سامنے انسانی بے بسی کی داستان دہرائی گئی۔

قاہرہ یونیورسٹی جو جناب مرسی کے حامیوں کا سب سے مضبوط گڑھ تھی، لہولہان ہو چکی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اندھا دھند فائرنگ سے 16نوجوان شہید ہوئے جب کہ ہنگامہ آرائی میں اب تک 40 مظاہرین مار ے جا چکے ہیں۔ انقلاب اور ردانقلاب کے کھیل میں صدیوں سے ایسا ہوتا آیا ہے، اب یہ سب کچھ قاہرہ یونیورسٹی میں دہرایا جا رہا ہے۔

مرسی کی برطرفی کو مشرف کی ایمرجنسی پلس سے تشبیہہ دی جا سکتی دی ہے کہ اپنے اقتدار کی ٹمٹماتی لو کو بچانے کے لیے مشرف نے بھی پارلیمان کو برطرف کر نے کے بجائے ججوں کو برطرف کر کے نجی نیوز چینلوں پر کاری وار کیا تھا۔ اب مصر میں بھی مرسی کی نظر بند ی سے پہلے ان کے حامی نیوز چینلوں کی نشریات فوری طور پر بند کر دی گئیں۔ لیکن یہ مصری عوام کی جمہوریت کے لیے قربانیوں کا اعجاز ہے کہ منہ زور جرنیل کو تن تنہا براہ راست مارشل لاء لگانے کے لیے قوم سے خطا ب کرنے کی ہمت نہیں ہوئی بلکہ اسے قبطی عیسائیوں کے پوپ اور معزول صدر مرسی کے حریف البرادعی کا خطا ب بھی کرانا پڑا جس میں جمہوریت کے تسلسل کی یقین دہانی کرائی گئی۔

صر ف مختصر مد ت کی حکومت کے بعد مصری اخوان کے خلاف دوبارہ کریک ڈاؤن شروع ہو چکا ہے، مرکزی قیادت سمیت سیکڑوں رہنما ؤں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ لیکن انسانی ڈھال کو دیوار بنا کر بڑھتے ہو ئے ٹینکوں کا راستہ روکنے کی حکمت عملی ناکام ہو گئی۔

جنرل فاتح نے ثابت کر دیا ہے کہ ہر جرنیل کی اپنی ترجیہات ہوتی ہیں جس میں اعلیٰ اخلاقی اصولوں اور ذاتی تعلقات کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ مصری جرنیل نے شب خون نہیں مارا بلکہ بتدریج منظم انداز میں پیش قدمی کی ہے۔ انھوں نے سیاسی بحران، پر امن طریقے سے حل کر نے کی معصومانہ تجویز پیش کرنے کے ساتھ ساتھ صدر مرسی کو متنبہ کیا تھا کہ وہ ‘پر امن’ مظاہرین کے خلا ف طاقت کا استعمال نہ کریں۔ جس کے بعد محمد مرسی کی حکومت عملًا ختم ہو گئی کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے غیر جانبدار ہوگئے تھے اور مرسی کے مخالفین قاہرہ کی سڑکوں پر طاقت کا مظاہرہ کر نے میں آزاد تھے۔

جناب مرسی کے قریبی مشیر اور اخوان المسلمون کے مرکزی رہنما عصام حداد نے امریکا اور یورپی یونین سے فوجی مداخلت کی اپیل کر تے ہو ئے کہا تھا کہ مظاہرین کے غیظ و غضب سے معزول صدر مرسی کو بچا نے کے لیے عالمی فو ج کے دستے قاہرہ بجھو ائے جائیں۔ اخوان المسلمو ن کے ناقدین امریکا اور پوری یورپی فوج سے مداخلت کی اپیل پر شدید تنقید کر رہے ہیں کہ اسلام کی سر بلند ی کے بلند و بانگ دعویٰ کرنے والے ذرا سے مشکل پڑنے پر طاغوت کی افواج کی پناہ میں جانا چاہ رہے ہیں۔

اسلام آباد میں مقیم عرب امور کے ایک ماہر نے بتایا کہ قاہرہ کے گلی کوچے بے گناہوں کے خون سے رنگین ہورہے ہیں۔ پنجر ے میں بند حسنی مبارک تازہ صورتحا ل میں سب سے زیادہ خوش ہو گا۔ مصر کی اس لہو رنگ کہا نی میں پاکستان کے لیے بڑے سبق موجود ہیں۔ خاص طور پر مشرف کو پھانسی پر لٹکتا دیکھنے والے، اگر ذرا سی سوجھ بوجھ رکھتے ہو ں تو ان کے لیے اس میں بڑے سبق موجود ہیں۔

مصر میں فوجی انقلاب یا بغاوت پر امریکا سمیت ساری مہذب دنیا نے کسی قسم کے منفی ردعمل کا اظہار نہیں کیا، صر ف اس بات پر زور دیا گیا کہ صدارتی انتخابات کا روڑ میپ دیا جائے اور انتقال اقتدار کی تاریخ کا اعلان کیا جائے کہ انھوں نے خود تو مصری جرنیلوں کو ایک اعتدال پسند اور روشن خیال جمہوری رہنما کے خلاف کا رروائی کی ترغیب دی تھی۔ وہ مرسی جو خود مدتوں امریکی سماج کا حصہ رہے اور اعلیٰ امریکی درسگاہوں سے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر نا م نہاد مہذب مغربی دنیا کو اس طرح کے روشن چہر ے اور عالی دماغ مسلمان پسند نہیں ہیں تو قرون اولیٰ کی ثقافت اور اقدار کے حامل، سخت گیر طالبان سامنے آئیں گے اور جدید تہذیبی اقدار کو بلا جھجھک چیلنج کریں گے کہ ان کو جدید طرز زندگی اور اس کے فلسفہ حیات کو سمجھانا کارِدارد ہو گا۔

اب یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ کتھرین ایشن میدان میں آئی ہیں۔ انہو ں نے جلد از جلد اور بلا تاخیر صدارتی انتخابات کرانے کا مطالبہ دہراتے ہو ئے تما م فریقوں سے منصفانہ اور شفا ف جمہور ی طرز عمل اپنانے پر زور دیتے ہو ئے اسے بہار عرب کا (Action Replay) قرار دیا ہے۔

اگرچہ مرسی کے خلاف جاری عوامی تحریک میں 40سے زائد افراد مارے گئے جب کہ سیکڑوں زخمی ہو ئے لیکن اس کے باوجود اس فوجی بغاوت کو نرم انقلاب قرار دیا جا رہا ہے۔ جس کا ذکر ہمارے دانشور جرنیل حمید گل کر تے رہے ہیں۔ قاہرہ سے ملنے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اخوان کے مرکزی رہنماؤں سعد الکتانی اور محمد رشاد المتینی کو قاہرہ کی نواحی جیل “تورا” میں رکھا گیا ہے جہاں پر 2011ء کے عوامی انقلاب کے بعد معزول ہونے والے صدر حسنی مبارک عدالتی فیصلے کے انتظار میں دن گن گن رہے ہیں۔ ان دونوں رہنماؤں پر تشدد اور نفرت پھیلانے اور ملک کی سلامتی کو داؤ پر لگانے جسیے روایتی الزام عائد کیے گئے ہیں۔

پاکستان ہو یا مصر ساری مسلم دنیا میں جمہوریت اور جرنیلو ں میں کش مکش جاری ہے۔ کہیں کھلے بند وں اور کہیں زیر زمین ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔