افتخار چوہدری کے بیان حلفی کی کوئی حیثیت نہیں، چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل

ویب ڈیسک  پير 14 جنوری 2019
سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری فرخ عرفان کے بطور گواہ پیش نہیں ہونا چاہتے، جوڈیشل کونسل۔ فوٹو: فائل

سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری فرخ عرفان کے بطور گواہ پیش نہیں ہونا چاہتے، جوڈیشل کونسل۔ فوٹو: فائل

 اسلام آباد: چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ سابق چیف جسٹس کے بیان حلقی کی کوئی حیثیت نہیں وہ جسٹس فرخ عرفان کے بطور گواہ پیش نہیں ہونا چاہتے۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس فرخ عرفان کے خلاف ریفرنس پر سماعت ہوئی، کیس کی سماعت چیئرمین کونسل چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے کی، عدالت نے ریفرنس میں پنجاب بار کونسل کے فریق بننے کی درخواست مسترد کر دی، اور کہا کہ ریفرنس سے بار کا کیا تعلق ہے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں:  افتخار چوہدری کو بطور گواہ بلانے کی استدعا مسترد

جسٹس فرخ عرفان کے وکیل حامد خان نے بیان دیا کہ کونسل سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کو بلانا نہیں چاہتی، ان حالات میں عدالت کمیشن مقرر کر کے سابق چیف جسٹس کا بیان ریکارڈ کر لے۔

جوڈیشل کونسل نے وکیل حامد خان کی کمیشن مقرر کرنے کی استدعا بھی مسترد کردی، اور ریمارکس دیئے کہ سابق چیف جسٹس کے بیان حلفی کی کوئی حثیت نہیں ہے، سابق چیف جسٹس فرخ عرفان کے بطور گواہ پیش نہیں ہونا چاہتے۔

چیئرمین کونسل نے وکیل حامد خان سے استفسار کیا کہ گواہ سنجیو کمار کدھر ہیں؟۔ وکیل حامد خان نے جواب دیا کہ سنجیو کمار کو تاحال ویزہ نہیں ملا اور ان کی اہلیہ بھی بیمار ہیں۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: میرے خلاف جوڈیشل کونسل کی کارروائی ختم کی جائے

چیئرمین کونسل نے استفسار کیا کہ کونسل کی کارروائی کون سی تاریخ کو رکھیں؟۔ وکیل نے جواب دیا کہ جوڈیشل کونسل دو ہفتوں کا وقت گواہان پیش کرنے کے لیے دے، ہمارے گواہ نثار بھٹی ۔ سید مشیر علی اور حسیب الرحمان بھی بیرون ملک ہیں،کونسل نے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔