قدیم مقام ’’اگھم کوٹ‘‘ مجرمانہ غفلت کے باعث تباہ ہونے لگا

ناصر انجم شیخ  جمعـء 15 مارچ 2019
حکومت سنجیدہ اقدامات کرے اور بین الاقوامی طور پراس آثارکو پیش کیا جائےتو دنیا بھر سےسیاح اس کوٹ کا رخ کریں گے ۔ فوٹو : ایکسپریس

حکومت سنجیدہ اقدامات کرے اور بین الاقوامی طور پراس آثارکو پیش کیا جائےتو دنیا بھر سےسیاح اس کوٹ کا رخ کریں گے ۔ فوٹو : ایکسپریس

بدین: قبل مسیح کی تاریخ سے ہی سندھ علم، ادب، تہذیب، تمدن اور ثقافت کا مرکز رہا ہے یہی وجہ ہے کہ سندھ کے مختلف علاقوں میں مختلف قدیمی مقامات پائے جاتے ہیں، سندھ کے ان اہم اور قدیمی مقامات میں سے “اگھم کوٹ” بھی ایک ہے جسے آجکل “اگھامانو” کے نام سے پکارا جاتا ہے ضلع بدین کے قصبے گلاب لگاری سے دو کلومیٹر کی مسافت پر ضلع بدین اور ضلع ٹنڈو الہ یار کے سنگم پر واقع ماضی کا ایک شاندار مینار ہے۔

سندھ میں داخل اسلام کی تاریخ سے قبل دریائے سندھ کی لہریں اگھم کوٹ کو چھوتے ہوئے سمندر برد ہوا کرتی تھیں اس وقت دو سو ایکڑ پر محیط یہ شہر تجارت، علم اور ادب کے لحاظ سے جنوبی سندھ کا مرکز ہوا کرتا تھا اور اس علاقے پر راجہ “اگھم لوہانہ “کی حاکمیت ہوا کرتی تھی اور یہاں کے باسیوں کی معیشت کا اہم ذریعہ پٹسن ہوا کرتی تھی اور یہ علاقہ دریا کی لہروں کی دوش پر آنے والے پانی سے سر سبز و شاداب ہوا کرتا تھا۔

سندھ میں تاریخ داخل اسلام سے قبل ہی” موقع بن وسایہ” نے راجہ “اگھم لوحانو”پر ہلہ بول دیا اور اس علاقے کو فتح کرکے “اگھم کوٹ” کا نیا حکمران ٹھہرا۔

بتایا جاتا ہے کہ جوں ہی کچھ وقت گزرا اور محمد بن قاسم سندھ میں داخل ہوئے تو “موقع بن وسایہ” نے اپنی حکمرانی کو دوام بخشنے کے لئے محمد بن قاسم کو خط لکھ کر “اگھم کوٹ” آنے کی دعوت دی اور محمد بن قاسم نے “موقع بن و سایہ” کی پیشکش قبول کرکے اگھم کوٹ آئے کچھ عرصہ قیام کیا اور یہاں مساجد تعمیر کروائیں یہی وجہ ہے کہ اگھم کوٹ میں دو قسم کی تہذیب ایک قبل اسلام جب کہ دوسرا اسلامی تہذیب واضح دکھائی دیتی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ محمد بن قاسم کے قیام کے بعد ہی اگھم کوٹ مسلمانوں کے علم اور ادب کا گہوارا بنا  اور مخدوم محمد اسماعیل سومرو رحمتہ اللہ علیہ نامی بزرگ نے یہاں مسلمانوں کے علم و تحقیق کے فروغ کے لئے مدرسے کی بنیاد ڈالی اور بیک وقت 500 سے زائد طالب علم ان بزرگ کے مدرسے میں دینی تعلیم حاصل کیا کرتے تھے۔

تاریخ میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے مطابق 1790 کی دہائی میں “مدد علی افغان” نے اگھم کوٹ پر حملہ کیا اور اس شہر کو آگ لگا دی اور اسی واقعہ میں جیتے جاگتے انسانوں کا یہ شہر قبرستان اور تباہی کے آثار میں تبدیل ہو کر رہ گیا۔

1790کی دہائی میں تباہ ہونے والےاگھم کوٹ کے آثار 1990 کی دہائی تک اپنی رعنائیاں بکھیرتی رہی اور لوگ اسی تاریخی مقام کو دیکھنے آیا کرتے تھے، مگر آہستہ آہستہ محکمہ آثارقدیمہ کی مجرمانہ غفلت اور مقامی لوگوں کی جانب سے اس آثار قدیمہ کی زمین پر قبضے کے سبب یہ قدیمی مقام اپنی حیثیت اور اپنا وجود کھوتاجارہا ہے مقامی افراد کی جانب سے  200 ایکڑ پر پھیلے اس آثار کی زمین پر قبضے کے سبب اب اگھم کوٹ صرف 70 ایکڑ پر سکڑ کر رہ گیا ہے۔

مقامی سماجی شخصیت عبدالغفار سریوال نے “ایکسپریس” کو بتایا کہ اگھم کوٹ گلاب لغاری کی پہچان ہوا کرتی تھی اور سندھ سمیت مختلف علاقوں کے لوگ اگھم کوٹ کو دیکھنے آیا کرتے تھے اور اگھم کوٹ کے ملبے سے قیمتی اور نادر چیزیں بھی ملا کرتی تھی اور یہاں کے کئی نوادرات ملک کے مختلف عجائب گھروں کی زینت بھی بنی ہے مگر اب حکومت اور مقامی لوگوں کی غفلت، لاپرواہی اور قبضہ گیروں کے قبضہ کے سبب یہ کوٹ اپنا وجود کھو تی جارہی ہے مقامی لوگوں نے اس آثار پر قبضہ کرلیا ہے مناسب دیکھ بھال سمیت سیاحوں کے لیے یہاں کوئی سہولت نہیں اسی وجہ سے یہ آثار معدوم ہوتا جا رہا ہے۔

تاریخ میں دلچسپی رکھنے والے مقامی محقق صالح نوحانی کا کہنا ہے کہ اگھم کوٹ کے ایک ہی مقام پر دو تہذیب ملتے ہیں جو کہ اگھم کوٹ کی ممتاز حیثیت کو واضح کرتا ہے اور اگھم کوٹ جنوبی سندھ میں پھیلاؤ اسلام کا ذریعہ بنا اور یہاں کے دینی مدارس سے اسلامی تعلیم کو فروغ ملا انہوں نے بتایا کہ مقامی لوگ حاکم “موقع بن وسایہ” کو بزدل سمجھا کرتے تھے کہ جس نے اپنی مدد کے لئے محمد بن قاسم کو بلایا انہوں نے بتایا کہ یہی وجہ ہے کہ یہاں “موقعائی” کی اصطلاح ان لوگوں کے لئے پیش کی جاتی ہے جو کہ بزدل لوگ ہوں۔

تاریخ کے طالب علم رضا آکاش نے بتایا کہ اگھم کوٹ ماضی کا ایک شاندار مینار ہے اور ہمارے جیسے تاریخ کے طالب علموں کے لئے ایک دلچسپ موضوع بھی ہے مناسب دیکھ بھال اور سہولیات نہ ہونے کے سبب اپنا وجود کھوتاجا رہا ہے حکومت اگر سنجیدہ اقدامات کریں اور بین الاقوامی طور پر اس آثار کو پیش کیا جائے تو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر سے سیاح سمیت تاریخ میں دلچسپی رکھنے والے افراد اور ادارے بھی اس کوٹ کا رخ کریں گے۔

تاریخ میں دلچسپی رکھنے والے مقامی نوجوانوں عبدالغفار سریوال، محقق صالح نوحانی تاریخ کے طالب علم رضا آکاش ودیگر نے محکمہ آثار قدیمہ سمیت متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس قدیم تہذیب تمدن ثقافت اور تاریخ کے اہم مقام اگھم کوٹ کے آثار کی بحالی کے لئے فوری اقدامات کیے جائیں اور اگھم کوٹ کے 130 ایکڑ زمین پر ہونے والے قبضے کو واگزار کروایا جائے۔

اگھم کوٹ کے تاریخی قلعے کا طرز تعمیر بھی نرالا تھا راجہ “اگھم لوحانو” نے اپنے قلعے کی بیرونی دیوار 20 فٹ چوڑی بنا رکھی تھی جس پر گاڑی بھی آسانی سے چلا کرتی تھی اور اس قلعے کی بیرونی دیوار کو چونا، را کھ اور اینٹ کی مدد سے بنایا گیاجس پر پلستر مٹی کے گارے کی مدد سے کیا گیا جہاں تک 1970کی دہائی میں مدد خان کے حملے سے یہ قلعہ متاثر ہوا وہیں رہے سہے آثار کو 1999 میں آنے والے طوفان نے غرق کردیا اب صرف چند ایک جگہ پر ہیں اس قلعے کی بیرونی دیواریں دکھائی دیتی ہے۔

محمد بن قاسم کے آنے کے بعد یہاں کی طرز تعمیر میں واضح فرق دکھائی دیتا ہے یہاں تعمیر ہونے والے دو مساجد اور مدرسے کو پختہ ٹائل کے شکل کی اینٹوں، چونا، پتھراور راکھ کی مدد سے تعمیر کیا گیا جو کہ اپنی خستہ حالی کے باوجود تاحال ان کے آثار دکھائی دیتے ہیں اگھم کوٹ کے اس مقام پر دو تہذیبوں میں سے ایک تہذیب کے آثار قلعے سمیت مکمل طور پر تباہ جب کہ اسلامی تہذیب کے آثار تا حال دکھائی دیتے ہیں جن میں دو مساجد مدرسہ اور اسلامی طرز کی قبریں ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔