ڈیجیٹل میڈیا پر مطالعے سے یادداشت اور توجہ کو نقصان پہنچتا ہے، تحقیق

ویب ڈیسک  پير 22 جولائ 2019
ڈیجیٹل میڈیا کے مقابلے میں روایتی کتابیں ہاتھ میں تھام کر پڑھنے سے یادداشت بہتر ہوتی ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

ڈیجیٹل میڈیا کے مقابلے میں روایتی کتابیں ہاتھ میں تھام کر پڑھنے سے یادداشت بہتر ہوتی ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

اوسلو: ناروے میں آٹھویں جماعت کے بچوں پر کیے گئے ایک وسیع مطالعے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ لوگ جو اسمارٹ فون، ٹیبلٹ یا کمپیوٹر اسکرین پر کتابیں اور دوسرا تحریری مواد پڑھنے کے عادی ہوتے ہیں، انہیں کسی خاص موضوع پر توجہ مرکوز کرنے میں دشواری کا سامنا رہتا ہے جبکہ وہ بہت بے صبرے اور غیر متحمل مزاج بھی بن جاتے ہیں۔

اوسلو یونیورسٹی کی پروفیسر مارٹی بلکسٹاڈ بالاس نے ناروے میں بچوں پر ایک تفصیلی تحقیق میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس تحقیق میں آٹھویں جماعت کے مقامی بچوں میں ریاضیاتی صلاحیتوں اور دوسری متعلقہ مہارتوں کا جائزہ لیا گیا۔ اس مطالعے کے دوران ریاضی سے ہٹ کر یہ بات بھی سامنے آئی کہ ان بچوں کی یادداشت، بیس سال پہلے اسی جماعت میں پڑھنے والے بچوں کی نسبت بہت کمزور ہوچکی تھی۔

’’اساتذہ کے لیے یہ بات پریشان کن ہے کہ 20 سال قبل کے (اسی جماعت کے طالب علموں کے) مقابلے میں، آج کے طالب علموں کےلیے لمبے جملے پڑھنا بہت مشکل ہوگیا ہے،‘‘ بلکسٹاڈ بالاس نے ایک مقامی صحافی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا۔ ان کے مطابق، اگرچہ ہمارا دماغ ڈیجیٹل میڈیا پر بھی تحریر کو تحریر کے طور پر ہی سمجھتا اور پڑھتا ہے لیکن اس (ڈیجیٹل) میڈیا پر تحریر میں تصویروں کے علاوہ بھی خلل ڈالنے والی بہت سی چیزیں ہوتی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہمارے دماغ میں کسی نکتے پر توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور ہمیں تسلسل سے طویل جملے پڑھنے کی عادت نہیں رہتی۔ پھر یہ بھی ہے کہ چھوٹے جملے پڑنے کی عادت ہوجانے کی وجہ سے ہمارے مزاج میں بے صبرا پن آجاتا ہے جو کسی بھی نئی چیز کو سیکھنے میں رکاوٹ ڈالتا ہے۔

بلکسٹاڈ بالاس نے نئی نسل کی یادداشت خراب ہونے کی بڑی ذمہ داری ’’گوگل ایفیکٹ‘‘ پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب آپ کو شعوری طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ انٹرنیٹ پر ’’سرچ‘‘ کرنے سے ہر طرح کی معلومات مل جائیں گی، تو آپ ہر چیز کو یاد رکھنا ضروری نہیں سمجھتے؛ اور اس طرح کم عمری میں یادداشت بھی متاثر ہوتی ہے۔

’’اس کے مقابلے میں روایتی کتابیں ہاتھ میں تھام کر پڑھنے سے یادداشت بہتر ہوتی ہے،‘‘ یونیورسٹی آف اسٹاوینجر کی محقق، اینی مینجن نے بلکسٹاڈ بالاس کی تائید کرتے ہوئے کہا۔

واضح رہے کہ ناروے میں ڈیجیٹل کتابیں بڑی تعداد میں قیمتاً فروخت کی جاتی ہیں جبکہ ان کی چوری پر سخت سزائیں مقرر ہیں۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں ترقی کے باعث ناروے میں کاغذ پر چھپی کتابوں کا رواج بہت کم رہ گیا ہے لیکن ڈیجیٹل میڈیا کی بدولت نئے مسائل بھی سامنے آرہے ہیں جنہیں حل کرنے کےلیے وہاں کے ماہرین سر جوڑ کر بیٹھنے کی تیاری کررہے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔