موجودہ کٹھ پتلی حکومت 5 جولائی 1977 کے جرم کی انتہا ہے، بلاول بھٹو زرداری

ویب ڈیسک  اتوار 5 جولائ 2020
ہر گزرتے دن کے ساتھ غریب مزید غریب ہوتا جارہا ہے، بلاول بھٹو زرداری فوٹو: فائل

ہر گزرتے دن کے ساتھ غریب مزید غریب ہوتا جارہا ہے، بلاول بھٹو زرداری فوٹو: فائل

 کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ موجودہ کٹھ پتلی حکومت 5 جولائی 1977 کے جرم کی انتہا ہے لیکن اب پاکستان میں یہ باب ہمیشہ کے لئے بند ہونے والا ہے۔

5 جولائی 1977 کے دن کی مناسبت سے اپنے بیان میں بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ 5 جولائی 1977 کو پاکستان کی تاریخ کا سب سے شرمناک اور تاریک ترین دن ہے، 5 جولائی 1977 کو آئین معطل اور جمہوریت کو لپیٹا گیا، تمام شہری حقوق غصب، ترقی کے عمل کو روکا اور ہر سُو آمریت کے رنگ تھے، آمر کے ذاتی مفادات کو فروغ اور ان کو تحفظ دے کر پورے معاشرے کی بنیاد کو کرپشن پر رکھ دیا گیا، عدم برداشت اور انتہا پسندی کی آماجگاہیں بنا دی گئیں کیونکہ آمروں کو فقط اپنے ذاتی مفادات عزیز تھے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ 4 دہائیاں گزرنے کے بعد بھی 5 جولائی 1977 کی بلا پاکستانی قوم کو پیچھا نہیں چھوڑ رہی، منتخب حکومت اور پہلے براہ راست منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو جِن عناصر نے ہٹایا، وہ یا تو فضا میں نیست و نابود ہوگئے یا شرمناک زندگی گزار رہے ہیں، اس مکروہ عمل میں ملوث تمام کرداروں سے یہ ثابت ہوا کہ جرم و گناہ کی کوئی میراث نہیں ہوتی۔ موجودہ کٹھ پتلی کی طرح ہر غاصب حکمران کو اس آفاقی حقیقت کی سمجھ اور ادراک نہیں ہوتا۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے آئین و جمہوریت کے لیئے بے مثال جدوجہد اور لازوال قربانیاں دیں ہیں، یہ جدجہد عوام کی حتمی فتح تک جاری رہے گی، جمہوریت اب بھی پنپنے کے شروعاتی مراحل میں ہے، صوبائی خودمختاری کے نفاذ کی لئے گنجائش محدود کی جا رہی ہے، عام شہری وباء اور ٹڈی دل کے رحم و کرم پر ہیں، مزدوروں کے سروں پر بے روزگاری کی تلواریں لٹک رہی ہیں، دو وقت کی روٹی اور انصاف مہنگا ہے، ہر گزرتے دن کے ساتھ غریب مزید غریب ہوتا جارہا ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ موجودہ کٹھ پتلی حکومت 5 جولائی 1977 کے جرم کی انتہا ہے لیکن اب پاکستان میں یہ باب ہمیشہ کے لئے بند ہونے والا ہے، مذہبی انتہا پسندی، عسکریت پسندی، فرقہ واریت اور لسانیت کو اپنی جابرانہ حکمرانی کو قائم رکھنے کے لئے ہتھیار بنانے والوں کو ہٹا دیا جائے گا، ن کو اسی طرح ہٹایا جائے گا، جیسے نسل پرستی اور نفرت کے بیوپاری جعلی عظماء کے مجسموں کو ہٹایا جا رہا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔