نالے مکمل صاف نہ کرنے سے دوبارہ سیلابی صورتحال کا خدشہ

اسٹاف رپورٹر  بدھ 29 جولائ 2020
نالوں کی صفائی کے حوالے سے وزیراعلیٰ کو کئی خطوط ارسال کیے، میئر کراچی  ۔  فوٹو : پی پی آئی

نالوں کی صفائی کے حوالے سے وزیراعلیٰ کو کئی خطوط ارسال کیے، میئر کراچی ۔ فوٹو : پی پی آئی

میئرکراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ جون 2018 کے بعد کراچی کے برساتی نالوں کی صفائی نہیں کی گئی اور اس کے لیے بھی 50 کروڑ روپے کے فنڈز عدالت کے حکم پر جاری کیے گئے تھے۔

میئر کراچی وسیم اختر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ 2017 میں عدالت نے یہ حکم جاری کیا تھا کہ برساتی نالوں کو فوری صاف کیا جائے، عدالتی حکم پر نالوں کی صفائی کے لیے کے ایم سی نے ایک ارب 12 کروڑ روپے کے اخراجات کا تخمینہ عدالت میں جمع کرایا تھا جس پر عدالت نے حکومت سندھ کو یہ حکم جاری کیا تھا کہ نالوں کی صفائی کے لیے فوری فنڈز جاری کیے جائیں، حکومت سندھ نے 50 کروڑ روپے کی رقم جاری کی، باقاعدہ ٹینڈر کرنے کے بعد نالوں کی صفائی کا عمل شروع کیا گیا اور میں نے خود کھڑے ہوکر ایک ایک برساتی نالے کو صاف کرایا۔

انہوں نے کہا کہ نالوں کی صفائی پر خرچ ہونے والی رقم ایک ارب 12 کروڑ روپے میں سے 72 کروڑ روپے حکومت سندھ نے ابھی تک کے ایم سی کو ادا نہیں کیے، این ڈی ایم اے نے موجودہ مون سون سیزن کے حوالے سے یہ وارننگ جاری کی تھی کہ اس سال زیادہ بارشوں کے نتیجے میں شہری سیلاب آسکتا ہے میں نے  پریس کانفرنس کی جس میں یہ بتایا کہ کے ایم سی فنڈز نہ ہونے کے باعث نالے صاف نہیں کرسکتی۔

میئر کراچی نے کہا کہ انہوں نے نالوں کی صفائی کے حوالے سے وزیراعلیٰ کو کئی خطوط ارسال کیے اور بار بار تحریری یاد دہانی کرائی لیکن وزیراعلیٰ کی جانب سے کوئی موثر جواب نہیں دیا گیا، پریس کانفرنس کے بعد وزیراعلیٰ سندھ نے نالوں کی صفائی کے حوالے سے اجلاس منعقد کیا جس میں وزیربلدیات اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ نالوں کی صفائی ’’کلک پروجیکٹ‘‘ کے تحت  پروجیکٹ ڈائریکٹر زبیر چنا جو ورلڈ بینک کی نمائندگی کر رہے تھے کی سربراہی میں حکومت سندھ انجام دے گی، لوکل گورنمنٹ،نیسپاک اس میں تعاون کرے گی اور کے ایم سی ان اداروں کو تکنیکی معاونت فراہم کرے گی اور11 ملین ڈالر کی لاگت سے یہ نالے صاف کیے جائیں گے، کے ایم سی نے حکومت سندھ سے تعاون کرتے ہوئے نالوں کی فہرست، ان کی حدود اور چوکنگ پوائنٹس سے متعلق بھی آگاہ کیاجس کے بعد ’’کلک پروجیکٹ‘‘ کے تحت نالوں کی صفائی کا عمل شروع ہوا۔

وسیم اختر نے کہا کہ نالوں کی صفائی عارضی حل ہے جب تک مستقل بنیادوں پر کچرے کا ڈسپوزل نہیں کیا جاتا، یہ مسئلہ برقرار رہے گا، میرے دور کے چار سالوں میں صرف 50 کروڑ روپے نالوں کی صفائی کے لیے کے ایم سی کو دیے گئے ان کے اخراجات کی تفصیل بنا کر حکومت سندھ کو بھیجی جاچکی، میئر کراچی نے اس بات کی بھی تردید کی ہے کہ کے ایم سی کو ہر سال نالوں کی صفائی کے لیے کسی قسم کے فنڈز جاری نہیں کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ برساتی نالوں کی صورتحال انتہائی خراب ہے ان میں اتنا کچرا جمع ہے کہ انھیں صاف کرنے اور ان سے نکالا گیا کیچڑ اور کچرا لینڈ فل سائٹ منتقل کرنے میں خاصا وقت درکار ہوگا۔

میئر کراچی نے کہا کہ ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشنز کی حدود میں 500 سے زائد چھوٹے نالے آتے ہیں انھیں بھی حکومت سندھ نے اب تک ان کی صفائی کے لیے فنڈ جاری نہیں کیا۔

وسیم اختر نے کہا کہ کراچی فوری حکومتی مدد کا منتظر ہے اور اب اس شہر کو ہمیں اپنانا ہوگا اور اس کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے ہوں گے، ضرورت ہو تو اس کے لیے قوانین میں بھی تبدیلی لائی جائے اور کراچی کے لیے خصوصی پیکیج کا اعلان کیا جائے تاکہ شہریوں کی تکالیف کا ازالہ ہوسکے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔