سعودی عرب میں آسمانی بجلی گرنے سے چٹان دو حصوں میں تقسیم، ویڈیو وائرل

ویب ڈیسک  اتوار 16 مئ 2021
بجلی کی چمک کی شدّت تقریباً 30 ہزار ایمپیئرہوتی ہے جب کہ گھروں میں استعمال ہونے والی بجلی کی طاقت 15 امپیئر ہوتی ہے

بجلی کی چمک کی شدّت تقریباً 30 ہزار ایمپیئرہوتی ہے جب کہ گھروں میں استعمال ہونے والی بجلی کی طاقت 15 امپیئر ہوتی ہے

ریاض: سعودی عرب کے جنوبی علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے ایک پہاڑ میں دراڑ آگئی ہے اور اس کی چٹانیں کئی حصوں میں بٹ گئی ہیں۔

ٹوئٹر صارف ایمن دیان نے اپنی ٹوئٹ میں آسمانی بجلی گرنے کے اس واقعہ کی ویڈیو بھی شیئرکی ہے۔ ایمن دیان لکھتے ہیں:’اگرآپ اس بات پرحیرت زدہ ہیں کہ کیا آسمانی بجلی گرنے سے پہاڑ بھی دو حصوں میں بٹ سکتا ہے تو پھراس ٹویٹ کا جواب دیکھیں۔ایسا سعودی عرب کے جنوب میں ہوا ہے۔‘

ویڈیومیں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک پہاڑ پر بجلی گرتی ہے، دوسری ویڈیو میں بجلی کے گرنے کے بعد کا منظر ہے جس میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ بجلی گرنے سے پہاڑی چٹان ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی ہے اور پہاڑ میں ایک دراڑ آگئی ہے۔

آسمانی بجلی چمک کے ساتھ کڑک دار آواز پیدا کرتی ہے۔ایسی آواز آسمان میں بھی ہوسکتی ہے۔ آسمانی بجلی زمین پر گرنے کی صورت میں جانی اور مالی نقصان ہوسکتا ہے، اگر آسمانی بجلی کسی انسان پر گر جائے تو وہ جل کر ہلاک ہوجاتا ہے، آسمانی بجلی  درخت اور فصلوں کو بھی جلا کر راکھ کردیتی ہے۔

امریکا کی قومی موسمیاتی سروس کے مطابق عام طور پربجلی کی چمک کی شدّت تقریباً 30 ہزار ایمپیئرہوتی ہے جب کہ گھروں میں استعمال ہونے والی بجلی کی طاقت 15 امپیئر ہوتی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔