برطانوی سکھ فوجیوں کا کرتارپور، واہگہ بارڈر سمیت دیگر تاریخی مقامات کا دورہ

آصف محمود  ہفتہ 2 جولائ 2022
—فوٹو

—فوٹو

لاہور: برطانوی سکھ فوجیوں کے ایک وفد نے رواں ہفتے پاکستان میں سکھوں کے مقدس مذہبی مقامات سمیت پاک بھارت واہگہ بارڈر اوردیگرتاریخی مقامات کا دورہ کیا۔ 

برطانوی سکھ فوجیوں کے ایک 12 رکنی وفد نے سکھوں کے مقدس ترین مقام گورودواہ جنم استھان ننکانہ صاحب اور گورودوارہ دربارصاحب کرتارپورکا دورہ کیا ہے، ننکانہ صاحب سکھ مذہب کے بانی باباگورونانک دیوجی کی جائے پیدائش کا علاقہ ہے جبکہ کرتارپورصاحب میں گورونانک جوتی جوت سمائے تھے یعنی یہاں ان کی آخری آرام گا ہے۔

پاکستان آنے والا 12 رکنی برطانوی فوجی وفد کی قیادت میجر جنرل سیلیہ ہاروے نے کی۔ انہوں نے بتایا کہ ایک خاتون سمیت 9 سکھ فوجیوں کولیکروہ پہلی بارپاکستان آئے ہیں اور پاکستانی آرمی چیف نے انہیں اس دورے کی دعوت دی اور انتظامات کیے۔

برطانوی سکھ فوجیوں کے وفد نے قبائلی ضلعی اورکزئی کابھی دورہ کیا اوروہاں 1897 میں مارے جانیوالے برطانوی سکھ فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ قیام پاکستان کے بعد پہلی بار برطانوی سکھ فوجیوں نے پاکستان میں اس مقام کادورہ کیا ہے۔

خیبر پختونخوا میں واقع اورکزئی ایجنسی کے علاقے سرہ گڑی میں سمانہ قلعہ کی چوکیوں پر 1897 میں انگریز افواج اور مقامی افغان قبائل کے مابین لڑائی میں برطانوی فوج کی طرف سے لڑتے ہوئے برطانوی فوج کے مطابق سکھ رجمنٹ کے سپاہیوں نے افغان قبائل قبائلیوں کا مقابلہ کیا تھا۔
علاوہ ازیں برطانوی سکھ فوجیوں نے پاکستان میں دیگرمقدس مقامات کی بھی یاتراکی ہے۔ انہوں نے کرتارپورصاحب میں اٹھائے گئے اقدامات کی بہت تعریف کی ہے۔ انہوں نے لنگرخانے میں کھانا بھی کھایا اور کرتارپور راہداری منصوبے کوسراہا جہاں بھارتی یاتریوں کو ویزاکے بغیر پاکستان آنے اور گورودوارہ دربارصاحب آنے کی اجازت دی گئی ہے۔
برطانوی فوجی وفد نے لاہور کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے واہگہ بارڈر پر پرچم اتارنے کی تقریب دیکھی۔ اس کے علاوہ وفد نے شاہی قلعہ لاہور، علامہ اقبال کے مزار اور بادشاہی مسجد کا دورہ کیا۔

اپنے قیام کے دوران برطانوی سکھ فوجیوں نے ملک بھر میں اپنے مذہبی مقامات کا بھی دورہ کیا۔ وفد نے پاکستان ملٹری اکیڈمی کا بھی دورہ کیا اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی تھی اور تاریخی دورے پر وفد کی گرمجوشی سے میزبانی کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔