لاپتہ افراد کیس، فوجی افسروں کے نام سامنے آئے، ظاہر نہیں کرنا چاہتے، چیف جسٹس

ایکسپریس اردو  منگل 10 جولائ 2012
 خداکومانوپولیس کاکام بھی ہم کررہے ہیں،لوگوں کوکیا جواب دیں ہم شرمندہ ہیں،ججزکے ریمارکس(فوٹو ایکسپریس)

خداکومانوپولیس کاکام بھی ہم کررہے ہیں،لوگوں کوکیا جواب دیں ہم شرمندہ ہیں،ججزکے ریمارکس(فوٹو ایکسپریس)

کوئٹہ: چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میںبلوچستان میں امن وامان اور لاپتا افراد کے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ لاپتا افراد کے کیسز میں فوجی افسران کے نام سامنے آئے ہیں، ہم کسی کا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے،

لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں۔لاپتا افراد کی بازیابی کے حوالے سے عدا لتی احکامات پر عمل درآ مد نہیں ہو رہا ۔صوبے میں امن وامان کی صورتحال خراب تر ہوتی جا رہی ہے۔سپریم کورٹ نے لاپتا افراد کی بازیابی کیلیے تفتیش سے متعلق مفصل رپورٹ طلب کر لی۔ بلوچستان ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر پٹیشن کی سماعت سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میںچیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی لارجر بینچ نے کی

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال خراب ہے گزشتہ دنوں تربت میں 18افراد کو مار دیا گیا آپ حکومت کی ایما پر لکھ کر دیں امن و امان کو کنٹرول نہیں کرسکتے ہمارے کسی حکم پر عمل نہیں ہورہا ،آرٹیکل نائن سمیت کسی چیز کو آپ مان نہیںرہے 135افراد کی لسٹ لے جائیں اور ان کے گھر والو ں کو معاوضہ دیں، چیف جسٹس نے سیکریٹری داخلہ کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ وضاحتیں قبول نہیں آپ کہاں کھڑے ہو اور کیا با ت کررہے ہوتما تر کوششوں کے باوجود انتظامیہ ناکام ہوچکی ہے حالات خراب ترہوتے جارہے ہیں،

آئی ٹی یونیورسٹی کی بس پرحملہ ہوا کوئی گرفتار ی نہیں ہوئی، ہرکوئی ایف سی پر الزام عائد کرتا ہے کہ اسے وہ اٹھاکر لے گئے،ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں بیان دیاکہ 24افراد کے ٹارگٹ کلرزگرفتارکیے ہیں،عدالت میں وزارت دفاع کے نمائندے نے بیان دیاکہ صوبائی حکومت کو فراری کیمپوںاورکمانڈرزکاپتہ ہے یہ سیاسی ایشو بھی ہے مفاہمت کی پالیسی کی وجہ سے معاملے کو سیاسی نقطہ نظر سے دیکھا جارہا ہے اکثر فراری کیمپوں میں جانیوالوں کے اہلخانہ کو پتہ نہیں ہوتا،

چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سے دوران مکالمہ کہا کہ اگر یہ لوگ فراری کیمپوں میں ہیں توآپ وہاں سے بھی لاسکتے ہیں اگریہ لوگ فراری کیمپوں میں ہیں توشواہدپیش کیے جائیں،سپریم کورٹ نے لاپتا افرادکے کیس میں سیکریٹری دفاع کی پیش کردہ رپورٹ مسترد کردی، ایک موقع پر لاپتہ افراد کے ترجمان نے بیان کہا کہ سمیع رند کی لاش ملی مگر انکوائری کمیشن کے حوالے سے آج اخبار میں اس کی بازیابی کی خبر چھپی ہے،ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعظم اورآرمی چیف کیساتھ الگ الگ اجلاسوں میں کوشش کررہے ہیں کہ حالات بہتر ہوں،عدالت نے شہر میں ایف بی آر کو غیر قانونی گاڑیوں کی روک تھام کیلیے پندرہ دن کی مہلت دیدی۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ شہر میں ایک لاکھ غیر قانونی گاڑیاں چل رہی ہیں،چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ اب تک 200غیر قانونی گاڑیاں پکڑی ہیں،نوشکی، خضدار ،سبی اور مستونگ میں لاپتہ افراد کے کیسز میں فوجی افسران کے نام سامنے آئے ہیں ہمیں پتہ ہے لوگ آڑ میں کام کرتے ہیں ہمارا مقصدہے لاپتہ افراد کا مسئلہ حل ہو کل تک لاپتہ افراد کی تفتیش سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے، کل سے لاپتہ افراد کے ایک ایک کیس کودیکھیں گے ایف سی لاپتہ افرادکے حوالے سے عدالت کو تسلی بخش جواب دے، چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ نوشکی سے لاپتہ عبدالمالک کے حوالے سے چھ ہفتوں کی تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے ،

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے پولیس حکام پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ خدا کو مانو ،پولیس کا کام بھی ہم کررہے ہیں، پولیس مقدمات کو صحیح ڈیل نہیں کرتی لاپتہ شخص عطاء اللہ اگر فراری کیمپ میں ہے تو لاکر پیش کیا جائے،جسٹس جواد ایس خواجہ نے ایک موقع پر آئی جی پولیس کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہمیں قانون نہ سمجھائیں ہمیں سب پتہ ہے ایف سی اور پولیس میں باہمی رابطہ ہونا چاہیے ایجنسیاں اپنے طورپر کام کررہی ہیں لیکن کوئی واضح تصویر سامنے نہیں آرہی،جسٹس خلجی عارف نے کہا کہ لاپتہ افراد کے لواحقین سپریم کورٹ آکر چلے جاتے ہیں ہمیں شرمندگی ہوتی ہے۔

سیکریٹری داخلہ نے عدالت میں بیان دیا کہ مختلف واقعات میں جاں بحق ہونیوالے 385افرادکے لواحقین کی امداد پراسس میں ہے،سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل امان اللہ کنرانی نے عدالت کوبتایاکہ چار لاپتہ افرادگلزارمری،شوکت،وسیم اورنوروزخان گذشتہ دنوں بازیاب ہوکر گھرپہنچ گئے۔ سماعت کے دوران بازیاب ہونے والے ایک شخص نوروزخان کو عدالت کے روبروپیش کیاگیا، کیس کی سماعت منگل کی صبح تک ملتوی کردی گئی ۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔