آخری عشرہ عبادت کے لیے وقف کردیں

علینہ ملک  پير 19 جون 2017
عقل مندی کا تقاضا ہے کہ عید کی خریداری رمضان سے قبل کرلی جائے۔ فوٹو : فائل

عقل مندی کا تقاضا ہے کہ عید کی خریداری رمضان سے قبل کرلی جائے۔ فوٹو : فائل

خریداری کا تذکرہ ہو اور خواتین کا ذکر نہ ہو ؟یہ بھلا کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ خواتین اور خریداری تو لازم و ملزوم ہیں۔ شاید ہی کوئی ایسی عورت ہو جسے بازار جانے اور خریداری کرنے کا شوق نہ ہو۔

ہاں یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ کچھ خواتین کو یہ شوق کم ہوتا ہے اور کچھ کو زیادہ۔ بعض خواتین ہر لمحہ، ہر گھڑی اور ہر موڈ میں شاپنگ کے لیے تیار رہتی ہیں۔ کچھ موڈ کی مناسبت سے خریداری کے لیے نکلتی ہیں اور جیب کا بھی خیال رکھتی ہیں۔

یہ بھی سچ ہے کہ خواتین تو شاپنگ کے مواقع تلاش کرتی ہیں۔ کوئی موقع ہاتھ آجائے تو وہ پورے جوش و خروش کے ساتھ اپنے پسندیدہ مشغلے میں جُت جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان المبارک کا مہینہ آتے ہی خواتین کی خریداری کا وہ عالم ہوتا ہے، پورے سال جس کی مثال نہیں ملتی۔ بازاروں، دکانوں ،شاپنگ مالز میں رش دیکھ کر یوں محسوس ہو تا ہے کہ شاید خواتین نے سال بھر کی شاپنگ اسی مہینے میں کرلینی ہے۔

خاص طور پر رمضان المبارک کا آخری عشرہ شروع ہوتے ہی بازاروں کی رونق بے حد بڑھ جاتی ہے۔ اور خواتین بڑی تعداد میں خریداری کے لیے بازاروں اور شاپنگ مالز کا رُخ کرتی ہیں۔ حالاں کہ اس عشرے میں زیادہ سے زیادہ وقت عبادت میںگزارنا چاہیے۔ مگر بیشتر خواتین یہ قیمتی وقت بازاروں میں گھوم پھر کر اور بازاروں کی رونقوں کا لطف اٹھانے میں گزار دیتی ہیں۔ ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ اپنی مصروفیات کو ممکنہ حد تک محدود کرتے ہوئے خود کو صرف اور صرف اﷲکی رضا اور خوشنودی حاصل کر نے کے لیے وقف کر دیں۔

درحقیقت ہمیں رمضان کی آمد سے دو ماہ قبل ہی یہ طے کر لینا چاہیے کہ عید کی مناسبت سے کیا کیا خریدنا ہوگا۔ یہ طے کرلینے کے بعد اپنے اور بچوں کے لیے اور دیگر اہل خانہ کے لیے خریداری کی فہرست بنائیں۔ ساتھ ساتھ گھر کے سودا سلف کی بھی الگ سے فہرست بنالی جائے۔ کوشش یہ ہونی چاہیے کہ رمضان کے آغاز سے قبل ساری خریداری کرلیں۔ اس کے کئی فائدے ہوتے ہیں۔ سب سے اہم تو یہ کہ خریداری سے فارغ ہونے کے بعد پورے ماہ صیام کے دوران آپ سکون و اطمینان سے عبادت کرسکتی ہیں۔

یہ ماہ مبارک سال میں ایک بار آتا ہے۔ کسے معلوم ہے کہ آئندہ اسے یہ مبارک مہینہ نصیب ہو یا نہ ہو۔ بدقسمتی سے تمام باتوں کا علم رکھنے کے باوجود ان پر عمل کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔ جوں جوں رمضان کا آخری عشرہ قریب آتا ہے سڑکوں پر اور بازاروں میں عوام کا سیلاب سا امڈاچلا آتا ہے۔ کھوے سے کھوے چھلتا ہے۔ دھکم پیل اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ بعض اوقات سانس لینا مشکل ہوجاتا ہے۔

خریداری کے لیے نکلنے والی خواتین کا آدھا وقت ٹریفک کے بے ہنگم رش میں پھنس کر اور آدھا وقت دکان داروں کی توجہ اپنی طرف مبذول کر وانے، اپنی باری کے انتظار میں کھڑے ہونے اور دکان داروں کے ساتھ بھاؤ تاؤ کرنے میں ضایع ہو جاتا ہے ۔ شاپنگ مالزمیں رش کا وہ عالم ہو تا ہے کہ اپنی مطلوبہ چیز خریدتے وقت نہ لینے والے کو سمجھ آرہی ہو تی ہے کہ وہ کیا اور کتنے میں خرید رہا ہے نہ دینے والے کو، بالاآخر جب تھک ہار کر شاپنگ کر کے گھر لوٹتے ہیں تو کئی چیزوں کو دیکھ کر سر پیٹ لینے کو دل چاہتا ہے کیوں کہ اتنے رش اور عجلت کے عالم میں ہم اکثر سستی چیزوں کے بھی بھاری نرخ ادا کر آتے ہیں۔

اکثر کوئی چیز ٹوٹی ہوئی یا نقص کی حامل نکل آتی ہے کیوںکہ رش میں دماغ جس قدر تھکن کا شکار ہو جاتا ہے اس میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بھی مفلوج ہوجاتی ہے۔ دوسرے یہ کہ دکان دار اس موقع پر آنکھیں سر پر رکھ لیتے ہیں۔ ان کے رویے اور مطلوبہ اشیاء کی قلت ہوجانے کے خوف سے خواتین عجلت میں خریداری کرلیتی ہیں۔ اس میں بعض اوقات نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے ۔ یوں وقت اور پیسا دونوں بر باد ہو جاتے ہیں۔

اس موقع کودکان دار ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور ایک چیز جو عام دنوں میں انتہائی مناسب دام میں خریدی جاسکتی ہے، آخری عشرے میں اس کے نرخ کئی گنا بڑھا دیے جاتے ہیں۔ لاکھ بحث کے باوجود وہ قیمت کم کرنے پر تیار نہیں ہوتے۔ عالم مجبوری میں خواتین منہ مانگے داموں چیزیں خریدنے پر ہوتی ہیں۔

ان تمام مشکلات سے بچنے کے لیے ضروری ہے اور عقلمندی کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ عید کی خریداری رمضان سے قبل یا ماہ صیام کے ابتدائی ایام میں کرلی جائے۔ اس طرح بازاروں میں مشقت نہیں اٹھانی پڑے گی، پیسے کی بچت ہوگی اور یک سوئی کے ساتھ عبادت بھی ہوسکے گی۔ بہرحال اب یہ کوشش کریں کہ کم سے کم وقت میں عید کی شاپنگ  مکمل ہوجائے اور عبادات کے لیے زیادہ سے زیادہ وقت میسر آجائے۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔