اوورسیز پاکستانیوں کی ملک میں سرمایہ کاری میں دلچسپی

خصوصی رپورٹر  بدھ 3 جولائ 2013
سینٹ قائمہ کمیٹی برائے تجارت کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں کریم احمد خواجہ کی بریفنگ۔    فوٹو: فائل

سینٹ قائمہ کمیٹی برائے تجارت کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں کریم احمد خواجہ کی بریفنگ۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد:  دنیا کے 15 ممالک میں مقیم 300 سے زائد اوور سیز پاکستانیوں نے ملک میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے یہ بات وزارت تجارت کے حکام  نے گزشتہ روز (منگل) یہاں سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔  

ذیلی کمیٹی کا اجلاس کمیٹی کے کنوینئر کریم احمد خواجہ  کی زیر صدارت منعقد ہوا اجلاس میں وزارت تجارت کے حکام کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ بیرون ممالک میں مقیم اوور سیز پاکستانیوں کو ملک میں سرمایہ کاری کے لیے راغب کرنے اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے جلد قومی سرمایہ کاری کانفرنس منعقد کروائی جائے گی۔ اجلاس میں ذیلی کمیٹی کے کنوینئر کریم احمد خواجہ نے کہا کہ اگر ہم نہیں جائیں گے تو بیرون ملک مقیم پاکستانی سرمایہ کاروں کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری بھارت یا کوئی اور ملک لے جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم دنیا کے دیگر ممالک کو یہاں سرمایہ کاری کے لیے بلا سکتے ہیں تو برصغیر کی تقسیم کے بعد پاکستان سے جانے والے مسلمانوں، ہندوں اور سکھ سرمایہ کاروں کو واپس سرمایہ کاری کے لیے کیوں نہیں بلایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ذیلی کمیٹی تشکیل دینے کا مقصد یہ تھا کہ جو لوگ پاکستان چھوڑ کر دوسرے ملک میں چلے گئے وہاں پر سرمایہ کاری کی اور اب وہ ایک کامیاب تاجر و صنعتکار بن گئے ہیں، انہیں سہولتیں دیگر اپنا سرمایہ پاکستان میں لگانے پر آمادہ کیا جائے سینٹر کریم احمد خواجہ نے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں ایسے ہزاروں پا کستانی نژاد مسلمان، ہندو، سکھ ارب پتی موجود ہیں جو گزشتہ 65 سال کے دوران مختلف وجوہات کی بنا پر ملک سے باہر گئے اور وہاں پر کاروبار شروع کیا اور وہ ارب پتی ہیں مگر وہ لوگ اپنے ملک میں واپس آ کر اپنا سرمایہ یہاں پر لگانا چاہتے ہیں بشرطیکہ کوئی انہیں بلائے اور سہولتیں دے۔

بریفنگ دیتے ہوئے وزارت تجارت کے ایڈیشنل سیکریٹری نے بتایا کہ ذیلی کمیٹی کی ہدایات پر وزارت تجارت نے 23 ملکوں کے اندر موجود تجارت مشن کو خطوط لکھے گئے تھے جبکہ 15 ممالک کے اندر موجود تجارتی مشن نے مثبت جواب دیا۔ذیلی کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں اس بارے میں مزید پیش رفت کے لیے چاروں صوبوں کے سرمایہ کاری بورڈز، وزارت تجارت، وزارت دفاع اور دفتر خارجہ کے نمائندوں کو مدعو کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ تمام معاملات منظم انداز میں اور خوش اسلوبی کے ساتھ طے ہوسکیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔