نیب لاہور نے اپنی سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کردی

طالب فریدی  پير 31 دسمبر 2018
سال بھر میں کرپٹ عناصر سے 4 ارب روپے سے زائد رقم کی ریکوری کی۔

سال بھر میں کرپٹ عناصر سے 4 ارب روپے سے زائد رقم کی ریکوری کی۔

 لاہور: قومی احتساب بیورو لاہور نے سال 2018 کے لیے اپنی سالانہ کارکردگی رپورٹ کا جاری کر دی۔

نیب کی جاری کردہ کارکردگی رپورٹ کے مطابق سال بھر میں کرپٹ عناصر سے 4 ارب روپے سے زائد  رقم کی ریکوری کی اور ایون فیلڈ اشیانہ اقبال سمیت 74 ریفرنس دائر کیے گئے، اسحاق ڈار سمیت دیگر سیاستدانوں اور مختلف سرکاری اداروں کے کرپشن میں ملوث افسران کے خلاف امدن سے زائد اثاثہ جات کی تحقیقات شروع کیں۔ سابق وزیرِاعلٰی پنجاب میاں شہباز شریف، سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی خواجہ سلمان رفیق سمیت دیگر افراد کو گرفتار کیا۔

نیب رپورٹ کے مطابق 2 ارب 22 کروڑ فیروز پور سوسائٹی کیس، ماڈل ہاوسنگ کیس میں 63 کروڑ کی ریکوری ہوئی اور  نیب لاہور نے مجموعی طور پر 74 ریفرنس احتساب عدالتوں میں دائر کیے جن میں  ایون فیلڈ ریفرنس، آشیانہ اقبال ریفرنس اور اسحاق ڈار کیخلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کا ریفرنس شامل دیگر اہم ریفرنسز میں صاف پانی کمپنی، لاہور پارکنگ کمپنی، پنجاب پاور ڈویلپمنٹ کمپنی ریفرنسز اور سابق چیئرمین ای ٹی پی بی آصف ہاشمی کیخلاف ریفرنس شامل ہیں 2018 کے دوران نیب لاہور کو ریکارڈ 10098 شکایات موصول ہوئیں جب کہ  9207 شکایات کو نمٹایا گیا، 312 شکایات کی تصدیق کی جن میں سے 253 کو نمٹا دیا گیا ہے۔

2018 کے دوران 207 انکوائریاں شروع کی گئیں،  107 انکوائریوں کو نمٹایاجا چکا، 36 انکوائریوں کو انویسٹی گیشن کے مراحل میں داخل کیا گیا تاہم التواء کا شکار  44 انویسٹی گیشنز کو منطقی انجام تک پہنچایا گیا جب کہ نیب لاہور کی جانب سے سال 2018 میں 3000 متاثرین میں 1 ارب 28 کروڑ روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں،  کرپشن کیسز میں 215 ملزمان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی، گرفتار ملزمان میں سابق سی ایم پنجاب شہباز شریف، ایم این اے خواجہ سعد رفیق، ایم پی اے خواجہ سلمان رفیق، سابق ایم پی اے حافظ نعمان شامل دیگر گرفتار ملزمان میں سابق سینیٹر ملزم عمار گلزار، پرنسپل سیکرٹری برائے وزیراعظم ملزم فواد حسن فواد، ملزم احد چیمہ اور ایس ایس پی رائے اعجاز بھی گرفتار ہوئے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔