خیبر پختونخوا کو بجلی کا پورا حصہ نہ ملا تو احتجاج پر مجبور ہوں گے، پرویزخٹک

ویب ڈیسک  پير 15 جولائ 2013
جبری لوڈشیڈنگ ختم  اور اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا باقاعدہ شیڈول فراہم کیا جائے، پرویز خٹک  فوٹو: فائل

جبری لوڈشیڈنگ ختم اور اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا باقاعدہ شیڈول فراہم کیا جائے، پرویز خٹک فوٹو: فائل

پشارو: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ ہم بجلی پیدا کرکے اپنی ذمہ داری پوری کررہے ہیں وفاق بھی ہمارے مسائل حل کرے  نہ ہم کمزور ہیں اور نہ ہی کمزوری دکھا ئیں گے اوراگر خیبر پختونخوا کو بجلی کا پورا حصہ نہ ملا تو احتجاج پر مجبور ہوں گے۔

وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ پشاور میں اتحادی جماعتوں کے اجلاس کے بعد سینیئر وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت گمراہ کیا جارہا ہے کہ واپڈا صوبائی حکومت کے ماتحت ہے حالانکہ اس میں کوئی حقیقت نہیں، بجلی کے ٹرانسفارمر صوبائی حکومت کی نہیں واپڈا کی ذمہ داری ہے جو وفاق کے ماتحت ہے، ہم بجلی پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن بجلی کی تقسیم وفاقی حکومت کا کام ہے اوراس سلسلے میں وفاق کو خیبر پختونخوا کے مسائل حل کرنا ہوں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبے کو بجلی کا پورا حصہ دیا جائے، جبری لوڈشیڈنگ ختم کی جائے اور اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا باقاعدہ شیڈول فراہم کیا جائے بصورت دیگر صوبائی حکومت احتجاج پر مجبور ہوجائے گی۔

سینئیر صوبائی وزیر سراج الحق نے کہا کہ جس طرح پنجاب حکومت اپنے عوام کی ضرورت کے بعد دیگر صوبوں کو گندم فراہم کرتا  ہے اسی طرح خیبر پختونخوا میں پیدا ہونے والی بجلی بھی وہاں کے عوام کا حق ہے، وفاق واپڈا پر واجب الادا رقم ادا کرنے کے بعد اس کا انتظام  ہمارے حوالے کرے تو ہم مزید سستی پیدا کرسکتے ہیں۔  انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کالا باغ اور بھاشا ڈیم کے بجائے دریائے سوات، دریائے چترال اور پنج کوڑا پر ڈیموں کی تعمیر پررقم لگا ئے تو 25 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہوسکتی ہے۔ کیونکہ یہ ڈیم 3 سال کی مدت میں بن سکتے ہیں اور اس سے ہماری ضرورت سے زائد بجلی سستے داموں پیدا کی جاسکتی ہے۔

اس موقع پر صوبائی وزیر سکندر شیرپاؤ کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر پانی وبجلی نے اعلان کیا تھا کہ رمضان المبارک کے دوران سحر اور افطار کے اوقات میں لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی لیکن صورت حال اس کے برعکس ہے، ان ہی اوقات میں عوام بجلی سے محروم ہوتے ییں، کسی بھی اہم عہدے پر تقرریاں اور تبادلوں سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا اس کے لئے سنجیدہ کوششیں کرنی ہوں گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔