یہ جنگ کوئی نہیں جیت سکتا

عابد محمود عزام  جمعـء 1 جولائی 2022

مجموعی طور پر ہمارا معاشی نظام تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے اور ایسی دلدل میں دھنس چکا ہے جس سے نکلنے کے لیے بہت ہمت، جرات، جدوجہد اور ایمانی طاقت کی ضرورت ہے۔

یہ دلدل سود ہے، جس سے نکلنے کے لیے جلد از جلد بھرپور کوشش کرنا ہوگی۔ حیرت کی بات ہے کہ ہم لوگ سود کو ہر معاشی برائی کی جڑ تسلیم کرتے ہوئے بھی آج تک اس سے نہیں نکل سکے۔ ہمیں اس بات کا علم ہے کہ سود مکمل طور پر ظلم کا نظام ہے۔

نہ صرف یہ حرام، بلکہ اللہ اور رسول اللہ سے اعلان جنگ ہے اور یہ جنگ کوئی نہیں جیت سکتا۔ ایک اسلامی ریاست کا سود کو برقرار رکھ کر اللہ اور اس کے رسول سے برسر جنگ رہنا انتہائی افسوسناک امر ہے، لیکن اس کے باوجود پون صدی سے اجتماعی طور پر ہم یہ جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں اور اپنی بربادی کا سامان کر رہے ہیں۔ سود ختم کرنے کے بارے میں اسلامی مشاورتی کونسل نے پہلی سفارشات 1969میں پیش کی تھیں ، مگر ان پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔

1980میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے رفتہ رفتہ پورے بینکاری نظام کو غیر سودی نظام میں تبدیل کرنے کا حکم دیا۔ اس فیصلے پر بھی عمل درآمد نہ ہوسکا۔ وفاقی شرعی عدالت نے 1991 میں حکومت کو سودی قوانین کی متبادل قانون سازی کے لیے چھ ماہ کی مہلت دی ، جس پر حکومت اور بینک اپیل میں چلے گئے۔ 2002 میں یہ مقدمہ دوبارہ نظرثانی کے لیے شرعی عدالت کے روبرو آیا، جس کا فیصلہ دو دہائیوں بعد 28اپریل 2022 کو آیا، جس میں وفاقی شرعی عدالت نے سود کے لیے سہولت کاری کرنے والے تمام قوانین اور شقوں کو غیر شرعی قرار دیتے ہوئے حکومت کو 31 دسمبر2027 تک تمام قوانین کو اسلامی اور سود سے پاک اصولوں میں ڈھالنے کا حکم دیا۔

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ معاشی نظام سے سود کا خاتمہ شرعی اور قانونی ذمے داری ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ دو دہائیاں گزرنے کے بعد بھی سود سے پاک معاشی نظام کے لیے حکومت کا وقت مانگنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ سود سے پاک بینکاری دنیا بھر میں ممکن ہے۔ وفاقی شرعی عدالت نے سود کے خلاف جماعت اسلامی اور دیگر کی درخواستوں کی سماعت کے بعد فیصلہ سنایا، لیکن افسوس سود کے معاملے میں شرعی اور اسلامی اصولوں کے نفاذ کی راہ میں اشرافیہ نے ہمیشہ روڑے اٹکائے اور مختلف حربے استعمال کیے ہیں۔ ایک بار پھر اس فیصلے پر عمل درآمد کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا شروع کردی گئی ہیں۔

یہ بات واضح ہے کہ مقتدر اشرافیہ اور سود میں گردن تک ڈوبے ہوئے مالیاتی ادارے کسی صورت نہیں چاہتے کہ سود کا استحصالی نظام ختم ہو۔ ملکی نظام معیشت کی سود سے تطہیر کے لیے وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ ایک گولڈن چانس تھا، لیکن اس فیصلے کے خلاف اپیل کردی گئی۔ ایک اسلامی ملک میں سود کے خاتمے کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنا نہایت شرمناک عمل ہے۔ اسلامی حکم سے ہٹ کر بھی سود کی معاشی تباہ کاریاں واضح ہیں۔ ہمارے معاشی بحران کی جڑ سودی نظام معیشت ہے۔ آج ملک و قوم پر صرف واجب الادا سود ہی مجموعی قومی پیداوار سے کئی گنا زائد ہوچکا ہے۔

آج ہم بدترین معاشی تباہی سے دوچار ہیں، اس کا بنیادی سبب سود ہے۔ سود کی معاشی تباہ کاریوں کی وجہ سے کئی غیر مسلم ممالک نے بھی سود سے اپنی جان چھڑانے کی کوشش کی ہے۔ کئی ممالک جن کا اسلام سے دور کا بھی تعلق نہیں، انھوں نے ملک میں سود کے نظام کا خاتمہ کیا۔ روس میں1917 کے بالشویک انقلاب کے بعد 75 برس غیر سودی بینکاری نظام رائج رہا۔

2008میں جب دنیا بھر میں مالیاتی بحران آیا تو بہت سے ممالک کے بینکوں نے سودی نظام ختم کر دیا تھا۔ جاپان جو دنیا بھر کی معیشت پر چھایا ہوا ہے، اس نے دسمبر 1995 میں صفر سودی پالیسی نافذ کی تھی ، اب وہاں کے تمام سرکاری اور پرائیویٹ بینکوں نے بھی سود کو خیر باد کہہ دیا ہے۔ جاپانی ترقی کو دیکھتے ہوئے یورپی سینٹرل بینک نے بھی حکومتی سطح پر منفی شرح سود کا آغاز کیا تھا۔

علماء و مشائخ اور مذہبی جماعتوں نے وزیر اعظم میاں شہباز شریف اور حکومت سے اپیل کی ہے کہ وفاقی شرعی عدالت کے سود کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل واپس لے کر فوری طور پر ٹاسک فورس تشکیل دی جائے جو عالمی معاہدوں اور دیگر حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے تین ماہ میں سودی نظام سے نکلنے کے لیے اقدامات کا تعین کرے۔

مولانا مفتی تقی عثمانی اور مولانا حنیف جالندھری اور دیگر علماء نے کہا ہے کہ سودی نظام اللہ اور اللہ کے رسول کے ساتھ جنگ ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ اس حوالہ سے واضح ہے۔ مفتی منیب الرحمٰن نے کہا ہے کہ حکومت اور قومی مالیاتی ادارے سود سے متعلق وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل میں جانے کے بجائے روڈ میپ تیار کریں۔ 1992میں امتناعِ ربا کا پہلا فیصلہ آیا، 1999 میں سپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بنچ نے اس کی توثیق کی اور 2002 میں واپس 1992 کے نقطہ آغاز پر جا پہنچے اور اب 2022 میں ایک بار پھر واضح فیصلہ آیا، لیکن اب پھر اپیل میں جاکر اس فیصلے کو الٹنے کی تیاریاں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کی سمت واضح نہیں ہے۔ بینکاری نظام سے متعلق تمام ضوابط پر عمل درآمد کی نگرانی وزارتِ خزانہ کے ذمے ہے۔

ہماری حکومت آئین کی پاسداری کرنے کی دعویدار ہے اور آئین میں واضح طور پر تحریر ہے کہ قرآن و سنت کے منافی کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ یہ تضاد خود حکومت کی حیثیت کو متنازعہ بنارہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومتی سطح پر اس حوالے سے کوئی منصوبہ بندی اور سود کے متبادل کوئی حکمت عملی موجود نہیں ہے۔ نظام شریعت میں سود کے قطعی حرام ہونے کے بارے میں دو رائے ہو ہی نہیں سکتی۔ پاکستان کے آئین میں یہ طے کردیا گیا ہے کہ یہاں اسلام کے تقاضوں کے منافی کوئی قانون وضع نہیں ہو سکتا، مگر بدقسمتی سے قیام پاکستان سے اب تک ہمارا ملک سودی نظام سے چھٹکارا حاصل نہیں کر پایا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔