مہنگائی کا جن بے قابو... عوام کی دادرسی کیسے ممکن؟

اجمل ستار ملک / احسن کامرے  پير 4 ستمبر 2023
معاشی بحران پر قابو پانے کیلئے کسی سیاسی جماعت کے پاس کوئی پلان نہیں، اشرافیہ کو اربوں روپے کی مراعات دی جا رہی ہیں۔ فوٹو : وسیم نیاز

معاشی بحران پر قابو پانے کیلئے کسی سیاسی جماعت کے پاس کوئی پلان نہیں، اشرافیہ کو اربوں روپے کی مراعات دی جا رہی ہیں۔ فوٹو : وسیم نیاز

ملک میں اس وقت بدترین معاشی بحران ہے۔ مہنگائی کا جن بے قابو ہے جس نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے۔

عوام پر پٹرول بم گرائے جا رہے ہیں، تیل اور ڈالر تین سنچریاں مکمل کر چکے ہیں جبکہ بجلی کے زیادہ بلز پر عوام کی چیخیں نکل آئی ہیں اور وہ سراپہ احتجاج ہیں۔

مشکل معاشی حالات کو دیکھتے ہوئے ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں ’’مہنگائی کا سدباب کیسے ممکن؟‘‘ کے موضوع پر ایک مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں ماہرین معاشیات، بزنس کمیونٹی اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو مدعو کیا گیا۔ فورم میںہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر مبشر منور خان

(ڈین فیکلٹی آف کامرس، جامعہ پنجاب )

ہمارے ہاں مسئلہ وسائل کا نہیں مینجمنٹ کا ہے جس کی وجہ صلاحیت اور قابلیت کی کمی ہے۔ ڈنگ ٹپاؤ پالیسی سے کام چلایا جاتا ہے جس سے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔

موجودہ حالات کے پیش نظر ملک کو شارٹ ، مڈ اور لانگ ٹرم پالیسیوں کی ضرورت ہے لہٰذا تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے منصوبہ بندی کی جائے۔ سب سے اہم یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اور سٹیک ہولڈرز میثاق معیشت کریں، پھر حکومت کوئی بھی ہو، پالیسیوں کا تسلسل جاری رکھا جائے، صرف اس صورت میں ہی ملک میں معاشی استحکام ممکن ہے لیکن اگر بے یقینی کی کیفیت جاری رہی تو حالات مزید خراب ہوں گے۔

حکومت ہمیشہ وہ اچھی ہوتی ہے جو کم سے کم حکومت ہو مگر ہمارے ہاں تو ہر چیز میں ہی حکومت ہے۔ ادارے اور کاروبار حکومت خود چلا رہی ہے، دکانوں، ٹھیلوں پر چھاپے مارے جاتے ہیں،جرمانے اور سزائیں دی جاتی ہیں۔ حکومتیں تو سپلائی اینڈ ڈیمانڈ چین کو مانیٹر کرتی ہیں، اس کو یقینی بناتی ہیںا ور اگر اس میں کہیں خرابی ہو تو اس کو دور کرنے میں کردار ادا کرتی ہیں۔ اشیاء کی قیمت مارکیٹ تعین کرتی ہے مگر یہاں سب الٹ چل رہا ہے جس کی وجہ نہ تجربہ کاری اور منصوبہ بندی کا نہ ہونا ہے۔

ہمیں اس وقت کاروبار دوست پالیسیوں کی ضرورت ہے جس سے ملک میں سرمایہ کاری آئے اور کاروبار کے رجحان کو فروغ ملے۔تعلیمی شعبہ ان مشکل حالات میں بھی فروغ پا رہا ہے۔ ہمارے ہاںبہت سے قابل بچے ہیں جو ڈگریاں لے کر بیرون ملک چلے جاتے ہیں، ہماری یوتھ میں ٹیلنٹ بھی ہے اور قابلیت بھی مگر وسائل اور سمت نہ ہونے کی وجہ سے یہ نوجوان ’’پکی‘‘ نوکری کے چکروں میں لگے ہیں، انہیں انٹرپرنیورشپ اور آئی ٹی کی تربیت دینا ہوگی۔

اگلا دور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا ہے،ہمیںا س کیلئے نوجوانوں کو تیار کرنا ہے۔ بجلی کے بل میں بجلی کے پیسے کم اور دیگر ٹیکسز زیادہ ہیں جو افسوسناک ہے۔ ٹیکس کولیکشن ایف بی آر کا کام ہے، اسے اس کا کام کرنے دیا جائے، بجلی کے بلز کے ذریعے عوام پر بھاری بوجھ نہ ڈالا جائے۔ معیشت کو سیاست سے الگ کرنا ہوگا، بنگلہ دیش نے بھی ایسا ہی کیا، وہاں لانگ ٹرم پالیسی بنائی گئی اور آج ان کی حالت سب کے سامنے ہے۔

ہمارے پاس قدرتی وسائل کی کمی نہیں ہے، زراعت، معدنیات، موسم ہر چیز موجود ہے۔ ہم سے بہتر اور قابل لوگ دنیا میں  نہیں ہیں ۔جو خرابیاں موجود ہیں وہ نظام کی ہیں جس نے لوگوں کو کرپشن پر مجبور کیا ہے، اگر آج حکومت اپنی سمت درست کرلے اور لوگوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائے تو ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے۔

عرفان اقبال شیخ

(صدر ایف پی سی سی آئی )

گزشتہ 45 برسوں سے کاروبار کر رہا ہوں مگر آج سے پہلے ملک میں کبھی ایسی بے یقینی کی فضا نہیں دیکھی۔اس وقت کسی کیلئے بھی پیش گوئی کرنا ممکن نہیں ہے، کبھی بھی کچھ بھی ہوسکتا ہے، حالات اتنی تیزی سے بدل رہے ہیں۔ ملک بے سمت چل رہا ہے، ہم ایسی بس میں سوار ہیں جس کا کوئی ڈرائیور نہیں ہے۔ حکومت کی کوئی سمت نہیں نہ ہی اس کے پاس کوئی منصوبہ بندی ہے کہ کس طرح مشکل حالات سے ملک کو نکالنا ہے۔

بدقسمتی سے کوئی بھی سیاسی جماعت ڈیلور نہیں کر سکی، حالات تیزی سے تنزلی کی جانب بڑھ رہے ہیں، عوام بجلی کے زیادہ بلز سے تنگ ہیں۔ اگر ایسے میں مزدور کی تنخواہ 32 ہزار بھی کر دی جائے تو اس کا گزارہ مشکل ہے۔ ہم بجلی کے بلز میں اضافے کو مسترد کرتے ہیں۔ حکومت بجلی کے بلز میں اضافے کے بجائے بجلی چوری کو روکے جو بعض علاقوں میں 60 فیصد تک ہو رہی ہے۔اگر ڈسکوز کام نہیں کر رہی تو نئی انتظامیہ لائی جائے۔

اسی طرح آئی پی پیز کا معاملہ ہے، ان سے بجلی کم لیکن رقم پوری ادا کی جا رہی ہے،ا س کا بوجھ بھی عوام پر پڑ رہا ہے۔ لوگ بے بس ہوکر خود ہی سڑکوں پر نکل آئے ہیں، ان کی داد رسی کرنا ہوگی۔ ہم ایکسپورٹ میں اضافے کی بات کرتے ہیں۔ چین میں کائبر 2.83 فیصد، بنگلہ دیش میں 6 اور بھارت میں 6.5فیصد ہے جبکہ ہمارے ہاں 22 فیصد ہے، ایسے میں ہم کس طرح ان ممالک کا مقابلہ کر سکتے ہیں، ایکسپورٹ میں اضافہ کیسے ممکن ہے؟

سیاسی عدم استحکام کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں، بیرونی سرمایہ کاری میں کمی آچکی ہے،ملٹی نینشنل کمپنیز کو رقم کی منتقلی کا مسئلہ ہے، اوورسیز پاکستانیز کو کاروبار میں سرمایہ کاری کیلئے سہولیات دی جائیں۔ روپیہ کی قدر میں تیزی سے کمی ہو رہی ہے،ڈالر تین سنچریاں مکمل کر چکا ہے، روپے کو مستحکم کیا جائے۔

آئی ٹی کے شعبے کو فروغ دیا جائے خصوصاََ خواتین کی اس شعبے میں حوصلہ افزائی کی جائے، انہیں آئی ٹی کی تربیت دی جائے، وہ گھروں میں رہ کر اچھا کما سکتی ہیں۔ زراعت کے شعبے میں بہت زیادہ پوٹینشل موجودہے مگر ہم نے اس پر توجہ نہیں دی۔ 83 فیصد کسان ایسے ہیں جن کے پاس 15 ایکڑ سے کم رقبہ ہے۔

یہ کسان وسائل، جدید مشینری و معیاری بیج سے محروم ہیں، کسانوں کو جدید سہولیات دینے، زراعت میں جدت لانے اور ویلیو ایڈیشن پر توجہ دینا ہوگی۔ملکی مسائل کا حل ’رائٹ پرسن فار دی رائٹ جاب‘ میں ہے۔ کیا ہمارے پاس 250 ایسے افراد موجود نہیں جو محکموں کو صحیح انداز میں چلا سکیں؟

ایف پی سی سی آئی نے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر قائم کیا ہے، ہم نے حکومت کو بہت سی تجاویز دی ہیں، مختلف ممالک سے تجارتی تعلقات کے حوالے سے بھی تحقیق اور تجاویز دے رہے ہیں، ملک میں وسائل کی کمی نہیں، حکومت کو چاہیے کہ اپنی سمت درست کرے، تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے منصوبہ بندی کرے اور صحیح معنوں میں کام کرکے ملک کو مسائل سے نکالے۔

آئمہ محمود

(جنرل سیکرٹری پاکستان ورکرز کنفیڈریشن )

بدقسمتی سے حکمران طبقہ بے حسی کا شکار ہے۔ حکومت کی جانب سے عوام پر مہنگائی کا شکنجہ اور بجلی کے بلوں کا پھندا تنگ ہوگیا ہے۔

عام آدمی اس وقت نہ زندہ ہے نہ مردہ، اس کی جانب حلق میں اٹکی ہوئی ہے، اس کے لیے سانس لینا محال ہوگیا ہے۔ ملک میں مڈل کلاس کا تصور بھی ختم ہوگیا ہے۔ اب صرف امیر یا غریب ہیں ، درمیان میں کوئی کلاس موجود نہیں۔ امیر، امیر تر ہوتا جا رہا ہے جبکہ غریب، غریب تر۔ افسوس ہے کہ ملک بغیر کسی قیادت کے چل رہا ہے، ہم کس سمت میں جا رہے ہیں کسی کو معلوم نہیں۔ مہنگائی اور بجلی کے بھاری بلز کے ستائے عوام خود ہی سڑکوں پر نکل آئے ہیں، بغیر کسی لیڈر کے لوگوں کا سڑکوں پر نکلنا خطرناک ہے۔

سری لنکا میں بھی لوگ استحصال کے خلاف پہلے سڑکوں پہ نکلے اوربلز جلائے۔ پھر ایوان صدر پر حملہ کیا اور بعدازاں مختلف اداروں کا رُخ کیا۔ وہاں کی صورتحال سب کے سامنے ہے لہٰذا ارباب اختیار کو سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔آئی ایم ایف کے پاس جانے سے حکمران تو دیوالیہ ہونے سے بچ گئے مگر عوام کا دیوالیہ نکل گیا۔

عوام کی حالت یہ ہے کہ اس کے لیے بچوں کی روٹی اور تعلیم کے اخراجات پورا کرنا مشکل ہوگیا ہے، صحت کے اخراجات بھی پہنچ سے باہر ہیں۔ نگران حکومت کا بجلی کے زیادہ بلز کے حوالے سے اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا۔ عوام پر بجلی و پٹرول بم گرائے جا رہے ہیں مگر اشرافیہ کو اربوں روپے کی مفت بجلی اورپٹرول فراہم کیا جا رہا ہے جو افسوسناک ہے۔ کیا نگران حکومت اشرافیہ کو مفت بجلی و تیل کی فراہمی نہیں روک سکتی؟ ملکی معاشی حالت دیکھتے ہوئے فوری طور پر مراعات کا خاتمہ کرنا چاہیے۔

2020ء میں ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس میں پاکستان کا نمبر 189 ممالک میں سے 154تھا جو 2022ء میں 161 ہوگیا ہے،ا س سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہم ہر لحاظ سے بدحالی کی طرف جا رہے ہیں۔ جنوبی ایشیاء میں ہم بنگلہ دیش اور نیپال سے بھی نیچے ہیں۔

آٹا اور چینی غریب کی پہنچ سے باہر، مزدور کی دیہاڑی آج بھی ۱یک ہزار روپے روزانہ ہے۔ حکومت نے مزدور کی کم از کم تنخواہ 32 ہزار روپے کرنے کا اعلان مارچ میں کیا تھا مگر تاحال اس کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ مزدور سراپہ احتجاج ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس پر فی الفور عملدرآمد کیا جائے۔

مہنگائی اور معاشی بدحالی سے سب سے زیادہ خواتین متاثر ہوئی۔ا ن کا روزگار چلا گیا جبکہ گھروں میں بھی ان کا استحصال ہورہا ہے۔ غربت کا اثر ماں، بہن، بیوی اور بیٹی پر براہ راست پڑ رہا ہے۔ خواتین کی تعلیم، صحت و دیگر حقوق پر سمجھوتہ کیا جا رہا ہے جو باعث افسوس ہے۔ حالیہ مہنگائی پر نگران حکومت اور ارباب اختیار کوئی سنجیدگی نہیں دکھا رہے۔ اس وقت ملک میں مایوسی کی فضاء ہے۔

کل کے حالات میں بھی بہتری نظر نہیں آرہی۔کسی سیاسی جماعت کے پاس کوئی لائحہ عمل نہیں، اس وقت ضرورت یہ ہے کہ سیاسی قیادت، اسٹیبلشمنٹ، اشرافیہ، ورکرز سمیت تمام سٹیک ہولڈرز ملکر بیٹھیں، طبقاتی تقسیم اور استحصال کا خاتمہ کریں اور ملک کو درست سمت میں چلانے کیلئے کم از کم 5 سالہ منصوبہ بندی کریں کہ کس طرح ملک میں معاشی استحکام لانا ہے، بے روزگاری اور غربت کا خاتمہ کرنا ہے۔

ہمارے پاس بڑی آبادی موجود ہے، لوگوں کو ہنر کی تربیت دی جائے اور جدید تقاضوں کے مطابق تیار کرکے عالمی مارکیٹ میں بھیجا جائے، اس سے لوگوں کو روزگار ملے گا اور ملک میں پیسہ بھی آئے گا۔ یاد رکھیں! اگر لوگوں میں امید ختم ہوگئی تو یہ صورتحال حکمرانوں کے انتہائی خطرناک ہوگی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔