قصہ ایک بستی کا

حارث بٹ  اتوار 15 اکتوبر 2023
 حسین کی یادیں، خواجہ سراوں کا مسکن وقبرستان اور دل چسپ تاریخ ۔ فوٹو : فائل

 حسین کی یادیں، خواجہ سراوں کا مسکن وقبرستان اور دل چسپ تاریخ ۔ فوٹو : فائل

مغل بادشاہ شاہ جہاں نے جب دارالحکومت آگرہ سے دلی منتقل کیا تو اس نے دلی سے تقریباً 6 کلومیٹر اور لاہور سے تقریباً 9 کلومیٹر پہلے دو شہر بھی تعمیر کروائے۔ عین ممکن ہے کہ دونوں شہر پہلے بھی موجود ہوں مگر انھیں اہمیت شاہ جہاں نے ہی دی۔ دونوں شہر ’’شاہ درہ‘‘ کہلائے۔

شاہ مطلب بادشاہ اور درہ مطلب دروازہ۔ وجہ دونوں شہروں کے بسانے کی یہ تھی کہ بادشاہ سلامت جب بھی کسی لمبے سفر سے دلی یا لاہور آتے تو پہلے شاہ درہ میں کچھ دیر قیام کرتے۔ نہاتے دھوتے، تھکن اتارتے اور پھر لاہور یا دلی میں داخل ہوتے۔ ایک اور روایت بھی ہے کہ یہ شہر شاہ جہاں نہیں بلکہ صوفی شہزادے دارالشکوہ کی مرہونِ منت ہیں۔

اس لیے ان کا اصل نام شاہ دارا ہے۔ اب یہ شاہ درہ ہے یا شاہ دارا، یہ جو بھی ہے کم از کم شاہدرہ نہیں ہے۔ زیادہ تر تاریخ داں شاہ درہ پر متفق ہیں، اس لیے اس تحریر میں ہم شاہ درہ ہی لکھیں گے۔

تو شاہ درہ میں کیا ہے؟ جہانگیر، ملکہ نور جہاں، آصف خان، سرائے عالمگیری۔۔۔ یہ سب تو ہے ہی مگر یہاں شاہ حسین کی بیٹھک بھی ہے جس کے سامنے کی طرف مادھو لال کا گھر تھا۔ وہ مادھو لال جس کے لیے شاہ حسین اپنی لاہور والی بیٹھک چھوڑ کر شاہ درہ میں بیٹھک کرنے لگے تھے۔ شاہ درہ میں ایک محلہ ترلوک شاہ بھی ہے۔

وہ محلہ جو کبھی ترلوک شاہ چند کا تھا اور آج بھی اسی کے نام سے منسوب ہے مگر اس کے ساتھیوں نے اس سے وفا نہیں کی۔ وہ ترلوک شاہ چند جس کے گھر کو لوٹ کر آگ بھی لگا دی گئی۔ شاہ درہ میں چند مندر بھی ہیں، جن کے اوپر بس ایک مینار سا بچا ہے۔

مندروں کے چاروں اطراف عام طور پر مورتیاں ہوتی ہیں۔ اس بڑے مینار پر بھی مورتیاں بنی تھیں جنھیں توڑ دیا گیا ہے۔ مینار کے چاروں طرف کنول کے پھول کی پتیاں بنی ہیں۔ کنول کے پھول کو ہندو مذہب میں ویسے بھی بڑی اہمیت حاصل ہے۔ آپ احباب نے اکثر اسکرین پر ہندو دیویوں کو کنول کے پھول پر بیٹھا دیکھا ہو گا۔

شاہ درہ میں ایک بڑا سا پری محل بھی ہے جو تقریباً اتنا ہی پرانا ہے جتنا کہ پاکستان۔ یہ واقعی پری محل لگتا بھی ہے۔ انتہائی خوب صورت، راجستھان کے کسی راجا کے محل کے جیسا۔ ہم اسے اندر سے نہ دیکھ سکے۔ اسے اندر سے چار سے پانچ حصوں میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ پری محل اب جس کی ملکیت ہے وہ خاندان دبئی میں مقیم ہے۔

پری محل کے مختلف حصوں کو کرائے پر چڑھا دیا گیا ہے۔ پری محل کے قریب ہی ایک کالا محل بھی ہے، جسے کالا مندر بھی کہا جاتا تھا۔

مقامی افراد کے مطابق پری محل کی ضد پر ہی کالا محل بنایا گیا تھا، مگر تقسیم کے بعد کالا محل کے مکین اس کی حفاظت نہ کر سکے اور بالٓاخر یہ ڈھے گیا۔ کھڑکیاں اور ملبہ جس کا جی چاہا اٹھا کر لے گیا۔ اب یہاں صرف ایک دروازہ بچا ہے اور ایک دیوار۔ دیکھتے ہیں وہ دروازہ اب کس کے حصے میں آتا ہے۔

شاہ درہ میں خواجہ سراؤں کا تکیہ بھی ہے۔ جہانگیر دلی سے اپنے ساتھ چند خواجہ سرا لاہور لایا تو اس نے انھیں اسی علاقے میں آباد کیا جسے آج سرکاری طور پر بھی ’’خُسروں کا تکیہ‘‘ لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ یہیں خواجہ سراؤں کا ایک قبرستان بھی ہے، جس کی عجیب بات یہ ہے کہ یہاں اہلِ محلہ اور خواجہ سرا دونوں دفن ہیں۔ خواجہ سراؤں کے موجودہ گھر کے ساتھ ہی ایک بڑی سی مسجد بھی ہے۔

شاہ درہ کے قریبی ’’قصبے‘‘ لاہور میں ایک شجاعت بھی تو رہتا ہے جو خواہ مخواہ لوگوں کو خوش کرتا رہتا ہے۔ شجاعت وہ واحد شخص ہے جو ہر تصویر میں اپنے بڑے بڑے دانت نکالنا اپنا فرض سمجھتا ہے، اور میرا اس بندے کے دانت توڑنے کو ذرہ دل نہیں کرتا۔ ورنہ عام طور پر میرے سامنے جو بھی بندہ دندیاں نکالے، میرا دل کرتا ہے کہ قریب پڑی اینٹ سے اس کی دندیاں پَن دوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں مادھو کی طرح خوش قسمت تو نہ تھا کہ کسی حُسین کی نظر مجھ پر پڑتی، نہ ہی اتنا خوب صورت کہ کوئی حُسین میرے واسطے ساری دنیا سے لڑ جائے مگر پھر بھی کوئی خاص بات تو تھی مجھ میں کہ میں جون کی تپتے دنوں میں اپنے سب کام چھوڑ کر شاہ دارا کی جانب محوِسفر تھا۔

اور میں اکیلا تو نہ تھا، میرے ساتھ ایک سر پھرا، پکا اور سُچا لاہوری بھی تو تھا کہ جس نے سارا دن مجھے ایسی آوارگی کروائی کہ اس کا نشہ شاید ہی آنے والے دنوں میں اتر سکے۔

میں مادھو نہیں تھا مگر شاید مادھو سے زیادہ خوش قسمت تھا کہ شاہ حسین کی نگاہ مادھو پر پڑی تھی جب کہ میری نگاہوں میں شاہ حسین تھا۔ شاہ حسین سے میرا پہلا تعارف اُن ہی کی سب سے مشہور کافی کی وجہ سے ہوا تھا۔

بہت بچپن میں جب پی ٹی وی کے کسی پروگرام میں ایک گایک کو ’’مائیں نیں میں کنوں آکھاں، درد وچھوڑے دا ایہہ حال نیں‘‘ گاتے سنا۔ نہ تو مجھے گایک کا نام پتہ تھا اور نہ اس وقت شاعری کی سمجھ تھی مگر اتنی تو سمجھ تھی کہ یہ الفاظ عام نہیں تھے۔ جب الفاظ عام نہ ہوں تو ان الفاظ کو کہنے والا، ان الفاظ کو لکھنے والا عام کیسے ہو سکتا ہے۔ میں اپنے بچپن میں ایک لمبے عرصے تک اسی ایک کافی کے سحر میں رہا تھا۔

شاہ حسین پکے لاہوری تھے، مگر لاہور کو چھوڑ کر، راوی پار ایک علاقے میں بیٹھک کرتے۔ اس زمانے میں راوی آج کے راوی جیسا تو نہ تھا جس کے پانی بہت پیچھے کسی دیش میں روک لیے گئے تھے۔ اس زمانے میں راوی کا پاٹ بہت چوڑا تھا۔

شاہ حسین لاہوری تھے 1539 میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مسجد میں قرآن، حدیث اور فقہ کی حاصل کی۔ سرخ لبادہ اوڑھ رکھا تھا۔ شراب پیتے اور بھرے بازار میں رقص کرتے تھے۔

لاہوری ہونے کے باوجود راوی پار کرتے اور بیٹھک لگاتے۔ نہ جانے ان دنوں اس علاقے کو کیا کہا جاتا ہوگا کیوںکہ ابھی صوفی شہزادے مغل سلطنت کے وارث داراشکوہ کا زمانہ نہ آیا تھا جس نے شاہ دارا شہر کو اپنا نام دیا تھا، جو اب بگڑتے بگڑتے شاہدرہ بن چکا ہے۔

شاہ حسین کا زمانہ داراشکوہ سے پہلے کا ہے۔ معلوم نہیں کہ شاہ حسین نے خواب میں یا ویسے ہی لاہور میں کہیں ایک ہندو لڑکے مادھو لال کو دیکھا اور اس کے گھر کے سامنے شاہ دارا میں اپنی بیٹھک بنالی یا پھر شاہ حسین کی بیٹھک کے سامنے اس ہندو لڑکے مادھو لال کا گھر تھا۔

معاملہ جو بھی تھا مگر حقیقت یہ ہے کہ مادھو لال نے شاہ حسین کے دل میں ایسا گھر کیا کہ شاہ حسین، شاہ حسین سے مادھو لال شاہ حسین ہوگئے اور مادھو لال شاہ حسین کی وفات کے بعد ان کا باقاعدہ پہلا خلیفہ قرار پایا۔

مادھو لال شاہ حسین کی بیٹھک شاہ درہ میں محلہ ترلوک شاہ کے قریب ہی ہے۔ پورے علاقے کہ زیادہ تر مکان آج بھی تقسیم سے پہلے کے ہیں۔ بیٹھک کو اندرونی اور بیرونی طور پر دو رنگوں سے رنگا گیا ہے، سرخ اور پیلا۔ سرخ رنگ شاہ حسین کا ہے جب کہ پیلا رنگ مادھو لال کا ہے۔

شاہ دارا کے لوگ کہتے ہیں کہ شاہ حسین کی بیٹھک کے بالکل سامنے مادھو لال کا گھر تھا۔ آج بیٹھک کے سامنے ایک جدید طرز کا بنا ہوا گھر ہے۔ بیٹھک کے سامنے کی جانب صرف ایک ہی پرانا گھر بچا ہے جو آج بھی قدیم طرز پر ہے۔ پرانا دروازہ اور دروازے کی ساتھ دیوار میں بنے طاقچے جہاں دیا جلا کر رات کے وقت روشنی کی جاتی تھی۔

افسوس در افسوس کہ مادھو لال کے گھر کا آج کوئی نشان نہیں۔ وہ مادھو جس نے شاہ حسین کو مادھو لال شاہ حسین بنایا۔ وہ شاہ حسین جنھوں نے مادھو لال کو اپنے دل میں جگہ دی۔ یہاں تک کہ مادھو لال، شاہ حسین کی وفات کے بعد ان ہی کے ساتھ دفن بھی ہوئے اور ان کے پہلے خلیفہ بھی بنے، اس مادھو لال کے ٹھکانے کی کسی نے کوئی پروا نہیں کی، اسے کسی نے نہیں سنبھالا۔

شاہ دارا کی اس بیٹھک میں جو شاہ حسین سے منسوب ہے، ایک مردہ ہو چکا درخت ہے اور کسی اژدہے کی مانند دیوار سے لپٹا ہوا ہے۔ اس درخت پر بھی لال اور پیلا رنگ کردیا گیا ہے۔ نہ جانے یہ کب سے یہاں سوکھا پڑا ہے۔ شاید شاہ حسین کے وقت سے یہ وہیں ہے۔ مہاراجا رنجیت سنگھ کے وقت سے اس کی رانی موراں کے زیرِاہتمام اس کے مزار پر بسنت کے دن میلہ لگتا تھا۔

اس میلے پر مہاراجا رنجیت سنگھ کے سب درباری بسنتی لباس پہنے گھوڑوں، ہاتھوں پر سوار ہوکر یہاں آتے، نذرانے پیش کرتے اور جی بھر کے عیاشی کرتے۔ یہ وہی لاہور کی سب سے حسین طوائف موراں تھی جو رنجیت سنگھ کے حرم میں آئی، جس کے نام اور شکل کا سکہ لاہور ٹکسال میں ڈھلا اور جس نے پاپڑمنڈی میں ایک مسجد تعمیر کروائی جو کنجری کی مسجد کہلاتی تھی۔ لاہور پر جب پھر سے اسلام کا غلبہ ہوا تو اس مسجد کو مائی موراں کی مسجد کہا جانے لگا۔

1947 میں برصغیر پاک و ہند کی تقسیم صرف زمین کی تقسیم نہیں تھی بلکہ یہ انسانی رویوں، رشتوں اور دوستیوں کی بھی تقسیم تھی۔ اگست 47 میں صرف ہندو اور مسلمان ہی آزاد نہیں ہوئے تھے بلکہ اُن کے اندر کا جانور بھی آزاد ہوگیا تھا۔ وہ جانور جو علاقے کی جھوٹی محبتوں میں قید تھا، وہ بھی چودہ اگست کو آزاد ہو گیا۔

ہمارا المیہ بس یہ ہے کہ ہم یک طرفہ بات کہتے اور مانتے ہیں۔ لاشوں بھری ریل کے قصے سب سناتے ہیں۔ ہماری عورتوں کی عزت کس طرح لوٹی گئی، کیسے ان عورتوں نے اپنی عصمت کو بچانے کے لیے کنوؤں میں چھلانگ لگادی، ایسے قصے سب مرچ مسالا لگا کر سناتے بھی ہیں اور ڈراموں میں دکھاتے بھی ہیں، مگر پاکستان سے ہندوستان جانے والے قافلوں کے قصے کوئی نہیں سناتا۔ کہیں پوری ریل کو ہی لوٹ لیا گیا تو کہیں پیدل قافلوں کو نشانہ بنایا گیا۔ مردوں کو قتل کردیا گیا اور پھر اپنی اپنی پسند کی عورتوں کو تقسیم کرلیا گیا۔ ایک تقسیم جناح اور نہرو نے کی تھی، ایک تقسیم لکیر کے دونوں طرف عام عوام کر رہے تھے۔

جب دونوں اطراف فسادات تھم چکے تو دونوں جانب کی حکومتوں نے عورتوں کو واپس کرنے کا فیصلہ کیا۔ چند ایک خواتین ہی ہندوستان سے پاکستان اور پاکستان سے ہندوستان واپس جانے پر راضی ہوئیں، جو بعد میں اپنے گھروں کو آئیں، انھیں گھر والوں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

میری بات کا یقین نہ آئے تو اپنے بزرگوں سے پوچھ لیں کہ کس کس بڑے میاں نے اپنے گھر سکھنی رکھی ہوئی تھی اور سکھوں کی جانب بھی یہی عالم تھا۔ وہاں مسلمان عورتیں مرتے دم تک رہیں۔ سکھوں کے بچے پیدا کیے اور پھر ان ہی کے گھر مرگئیں۔

یہی صورت حال دوسری جانب بھی تھی۔ دوسری طرف ظلم کے جو پہاڑ توڑے گئے وہ سب ہمیں تقریباً زبانی یاد ہیں۔ لاشوں سے بھری ٹرین کے قصے ہم سب نے سنے بھی ہیں اور مختلف ڈراموں میں دیکھے بھی ہیں۔

اگر آپ سچ کو جھٹلانا چاہتے ہیں تو بھلے جھٹلا دیں مگر شاہ عالمی کی آگ کو آپ کیوںکر جھٹلا سکتے ہیں۔ وہ آگ جس سے بننے والی راکھ نے تارڑ صاحب کا ناول ’’راکھ‘‘ جنم دیا۔ تارڑ صاحب نے ایک انٹرویو میں خود بتایا تھا کہ شاہ عالمی میں لگی آگ اس قدر وسیع اور شدید تھی کہ رات کے وقت ہم سب جب چھت پر سوتے تھے تو مون سون کی اُوس سے بچنے کے لیے ہماری ماں ہمیں سفید کھیس اوڑھا دیتی تھی۔

صبح جب ہم اٹھتے تو ہمارے سفید کھیس پر شاہ عالمی میں لگی آگ کی راکھ ہوتی تھی۔ تارڑ صاحب مزید کہتے ہیں کہ بہت پہلے جب میرے ذہن میں ابھی ناول کا پلاٹ بھی نہیں تھا، میں یہ طے کر چکا تھا کہ اگر میں نے کبھی تقسیم کے موضوع پر کچھ لکھا تو اس کا نام راکھ ہی ہوگا۔

شاہ درہ کا محلہ ترلوک شاہ شاید وہاں کا سب سے قدیم محلہ ہے۔ بہت سے پرانے بوسیدہ مکان گر چکے ہیں، جن کو تقسیم کے بعد مفت یہ مکان ملے تھے، ان میں سے زیادہ تر نے ان مکانوں کی قدر نہیں کی یا پھر ان کی جیب نے اجازت نہیں دی یا پھر ان مکینوں کے پاس مکانوں کے پکے کاغذ نہ تھے۔ سن 47 میں یہی ہوا ہو گا کہ جس کو جو مکان خالی ملا، اس پر قبضہ کر لیا یا پھر جس میں جتنی طاقت تھی، اسی کے زور پر مکان یا مکانوں پر قبضہ کرلیا۔

محلہ ترلوک شاہ پر لوگوں کی ابھی اس طرح سے نظر نہیں پڑی، جس کی وجہ سے ابھی تک یہ محلہ اپنے اصل نام کے ساتھ قائم ہے۔ ورنہ کب کا مدنی نگر یا پھر غوث پورہ ہوچکا ہوتا۔ محلہ ترلوک شاہ ایک ہندو تاجر ترلوک شاہ چند سے منسوب ہے، جو اتنا مال دار اور طاقت ور تھا کہ پورا محلہ اسی کا تھا۔ سب مکان اسی کے تھے۔

یہاں تک کہ ترلوک شاہ لوگوں کے دلوں پر بھی راج کرتا تھا۔ یاروں کا یار تھا۔ ترلوک شاہ کی ماں بھی ترلوک شاہ کے سب یاروں پر صدقے واری جاتی تھیں مگر جب تقسیم ہوئی تو لوگوں کے دل بھی تقسیم ہوگئے۔ شاہ دارا اور لاہور پاکستان میں شامل ہوچکا تھا۔ شروع شروع میں سب اچھا رہا مگر پھر ایسی لوٹ مار مچی کہ ترلوک شاہ سمیت شاید ہی کوئی بڑا گھرانا اس سے بچا ہو۔

ترلوک شاہ چند کی ماں کو دکھ صرف اور صرف اس بات کا تھا کہ ترلوک شاہ کو اس کے اپنوں نے لوٹا تھا۔ وہ اپنے جن کا دھرم چاہے مختلف تھا مگر زمین تو ایک ہی تھی مگر مذہب کی جنگ میں رشتے ناطے، علاقائی محبتیں سب بہت پیچھے رہ جاتی ہیں۔

اس قدیم محلے پر آج کوئی تختی نہیں، کوئی یادگار نصب نہیں۔ محلہ ترلوک شاہ، شاہ دارا میں شاہ حسین کی بیٹھک کے قریب ہی ہے۔ آپ بہ آسانی کسی سے بھی پوچھ کر جا سکتے ہیں۔ ہر ایک کو ترلوک شاہ کے گھر کا پتا ہے۔ کوئی بھی مقامی آپ کی گھر تک کی راہ نمائی کر سکتا ہے۔

’’خسروں کا تکیہ‘‘ اور باجی شازیہ

اگر ہم میں سے کسی کے جسم کا کوئی ایک حصہ کام نہ کرے یا پھر وہ سرے سے ہو ہی نہ تو اسے معذور یا پھر بیمار تصور کیا جاتا ہے۔

اگر کسی شخص کا پیدائشی طور پر ایک گردہ نہ ہو تو یہ اس کا عیب قطعاً تصور نہیں ہو گا۔ اگر کسی کی ایک آنکھ نہ ہو یا بالفرض دونوں آنکھیں نہ ہوں تو وہ معذور تصور ہوگا۔ آپ کی آنکھیں، ناک، کان، دل، گردے وغیرہ یہ سب آپ کے جسم کے کچھ حصے ہیں۔ دل آپ کے جسم کا اہم حصہ ضرور ہے مگر وہ مکمل جسم نہیں ہے۔ اسی طرح دماغ، گردے، آنکھیں، ناک سب انسانی جسم کا حصہ ہی تو ہیں، صرف ایک آرگن ہی تو ہیں۔

آرگن سے زیادہ آپ اپنے گردوں، پھیپڑوں، جگر کو اور کیا کہہ سکتے ہیں۔ اسی طرح آپ کے جسم کے پرائیویٹ پارٹس صرف ایک آرگن ہی تو ہیں۔ ان کی حیثیت صرف دل، گردوں اور باقی آرگنز کی طرح ہی ہے، مگر نہ جانے کیوں ہمارا پورا معاشرہ سب اعضا کو چھوڑ کر صرف ایک ہی کے پیچھے پڑجاتا ہے۔

اگر کسی کا جگر خراب ہوجائے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں اس کے سوچنے سمجھنے، پڑھنے لکھنے یا معاشرے میں آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کی صلاحیت کم ہوگئی ہے۔ جگر کا آپ کے دماغ یا دوسری معاشرتی سرگرمیوں سے بھلا کیا تعلق۔ اسی طرح اگر کسی شخص کے پرائیویٹ پارٹ میں کسی قسم کی کوئی کمی رہ جائے تو اس کا اس کی دماغی صلاحیتوں سے کوئی تعلق نہیں۔ ہماری سوچ نہ جانے کیوں بس پرائیویٹ پارٹس سے شروع ہو کر پرائیویٹ پارٹس پر ہی ختم ہوجاتی ہے۔ مردوزن دونوں ہی کی سوچ بس اسی نکتے کے گرد نہ جانے کیوں گردش کرتی رہتی ہے؟

شاہ دارا میں ایک جگہ خواجہ سراؤں کا تکیہ ہے، جسے باقاعدہ سرکاری طور پر ’’تکیہ کھسرے والا‘‘ لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ میں نے خواجہ سراؤں کو اگر قابلِ عزت اور خوش جانا ہے تو یقین مانیں صرف اسی علاقے میں جانا ہے۔ آس پاس کے لوگ ان سے انتہائی عقیدت سے ملتے اور باعزت جانتے ہیں۔ ہم اپنے ایک مقامی ساتھی کی مدد سے وہاں پہنچے تو گلی میں کھڑے ایک آدمی سے خواجہ سراؤں کے تکیے کے بارے استفسار کیا۔

معلوم ہوا کہ ہمارے پیچھے ہی جو نیا نیا پلستر شدہ گھر ہے یہ انہی کا ہے جن کے بڑوں کو بادشاہ جہانگیر اپنے ساتھ دلی سے لاہور لایا تھا اور انھیں یہاں نہ صرف آباد کیا بلکہ یہ پورا علاقہ بھی انھیں دان کردیا۔ شنید ہے کہ خواجہ سراؤں کی حرم میں بہت ضرورت ہوتی تھی۔ ملکہ، شہزادیوں کی دیکھ بال یہی خواجہ سرا کیا کرتے تھے۔ جہانگیر شاید اسی واسطے اپنے ساتھ تربیت یافتہ خواجہ سرا بھی لایا تھا کہ وہ مقامی خواجہ سراؤں کو بھی تربیت دیں گے کہ حرم میں کس طرح سے احکامات بجا لانے ہیں۔

خواجہ سراؤں کے گھر کے سامنے کھڑے ہوکر میں کچھ ڈر سا گیا۔ نہ جانے یہ ڈر تھا یا جھجک، جو بھی تھا مگر میرا ارادہ تھا کہ یہاں گھر کے سامنے ایک تصویر لی جائے اور چلتا بنا جائے۔ یہاں بھی میرا وہی لاہوری رفیق شجاعت کام آیا۔ اس نے دروازے پر دستک دی۔ ایک چیلا باہر نکلا۔ شجاعت نے ہی اس چیلے سے رسمی سی بات کی اور اس نے دروازہ بند کردیا۔ ہمیں دروازے پر کھڑا دیکھ کر پاس کے ایک دکان دار نے ہمیں بلالیا۔ دکان دار پورے کا پورا پہلوان تھا۔

میرا دل چاہ رہا تھا کہ یہاں سے بھاگ جاؤں مگر شجاعت کسی تجربہ کار خانم کی طرح آگے بڑھا اور اس پہلوان نما دکان دار سے ایسے سلجھے ہوئے طریقے سے بات کی کہ دکان دار نے اپنے بچے کو آواز دے کر کہا،’’جا ویکھ امی کار نیئں؟‘‘ (جاؤ دیکھو امی گھر پر ہیں؟) معلوم ہوا کہ اہل محلہ کے تمام چھوٹے موجودہ گرو کو امی جب کہ تمام بڑے بزرگ انھیں باجی کہتے ہیں۔ اس گرو کا نام باجی شازیہ تھا۔

باجی شازیہ ایک زنانہ خواجہ سرا تھی، جس نے بوائے کٹ کروانے کے ساتھ ساتھ سر پر سفید دوپٹہ اوڑھ رکھا تھا۔ میری پشت چوںکہ خواجہ سراؤں کے گھر کی طرف تھی، اس لیے میں انھیں آتے ہوئے نہ دیکھ سکا۔ باجی شازیہ میرے پیچھے ہی کھڑی تھیں کہ اسی پہلوان نما دکان دار نے کہا کہ باجی شازیہ اب حاجن ہوگئی ہیں، کچھ دن پہلے ہی عمرہ سے واپس آئی ہیں۔

میں لاشعوری طور پر ان کے احترام میں کھڑا ہوگیا اور انھیں اپنی کرسی دے دی، کیوںکہ وہاں کوئی دوسری کرسی نہ تھی۔ میں باجی شازیہ کے پاس ہی تھڑے پر بیٹھ گیا۔ میں نے ان سے کوئی روایتی سوال نہیں پوچھا، مبادا وہ خواہ مخواہ تنگ نہ ہوں۔ گھر کا سارا انتظام آج کل باجی شازیہ کے ہاتھ میں ہی ہے۔ سارا محلہ باجی شازیہ کی عزت کرتا ہے جب کہ نوجوانوں اور چیلوں کا ہلکا پھلکا مذاق چلتا رہتا ہے۔

موت فطری اور حقیقت ہے۔ جہانگیر نے جب یہ تکیہ آباد کروایا تو خواجہ سراؤں نے اپنے لیے یہاں ایک قبرستان بھی آباد کیا، جہاں اب خواجہ سرا سمیت سارا محلہ اپنے مردے دفن کرتا ہے۔ اسی پہلوان نما دکان دار نے بتایا کہ پچھلے دو گرو اس نے خود اپنے ہاتھوں سے غسل دے کر اسی قبرستان میں دفنائے ہیں۔

آج قبرستان میں اہلِ محلہ اور خواجہ سرا، سب ایک ساتھ دفن ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ خواجہ سرا اپنی قبروں کی کوئی نشانی نہیں بناتے، کوئی کتبہ نہیں لگاتے مبادا مجھ جیسے خواہ مخواہ کے آوارہ لوگ ان کی قبریں دیکھنے کو نکل پڑیں۔

جاتے جاتے اگر ایک باؤلی کے بارے بات ہوجائے تو ہرج ہی کیا ہے۔ آپ شیخوپورہ کے نواحی علاقے جنڈیالہ شیر خان میں وارث شاہ کے مزار کے صدر دروازے سے جھانکیں تو اس کی چاردیواری کے پار آپ کو شیرشاہ سوری کی تعمیر کردہ باؤلی کی عمارت نظر آنے لگے گی۔ شیرشاہ سوری جس نے پشاور سے کلکتہ تک جرنیلی سڑک کو بنیادی طور پر پختہ کروایا تھا۔

یہ اسی سڑک پر تعمیر کی گئی جہاں ہزاروں برس بیشتر ہندوستان کے راجاؤں نے ایک شاہراہ تعمیر کی تھی مگر اس سڑک پر سہولیات، مسافروں اور پیغام بروں کے لیے محفوظ پناہ گاہیں اور سرائے، یہ سب ایک پٹھان نے ہی تعمیر کروایا تھا۔ باؤلی کیا ہے، ایسا کنواں جس کے پانی تک پہنچنے کے لیے کوئی راستہ یا سیڑھیاں بنائی جاتی تھیں، باؤلی کہلاتا تھا۔

ویسے تو شیر شاہ سوری نے بہت سی باؤلیاں تعمیر کروائی تھیں مگر تاریخ کہتی ہے جنڈیالہ شیر خان کی باؤلی تب بھی باؤلیوں میں اپنی مثال آپ تھی اور آج بھی ہے۔ جنڈیالہ شیرخان کا یہ علاقہ مغل بادشاہ اکبر کی مرہونِ منت تھا۔ شیر خان جو اکبر کی فوج میں ایک جنرل تھا، اکبر نے یقیناً اس کے کسی کام سے خوش ہوکر اسے ایک وسیع علاقہ عنایت کیا جسے اس جنرل شیر خان نے آباد کروایا۔ یہی علاقہ آج جنڈیالہ شیر خان کہلاتا ہے۔

جنڈیالہ اس لیے کہ یہاں جَنڈ کے بہت قدیم شجر تھے۔ آپ اس باؤلی کے احاطے میں داخل ہوں تو آپ کا استقبال ایک جھوٹی سنگِ مرمر کی تختی کرتی ہے۔ ہم نے تو جب بھی سنا، باؤلی شیرشاہ سوری ہی سنا مگر تختی کی عبارت کچھ یوں ہے ’’باؤلی جنڈیالہ شیر خان، مغلیہ فن تعمیر کا شاہ کار‘‘ ہمارے بہت سے چوک، علاقے پہلے غیرمسلم تھے جنھیں ہم نے تقسیم کے بعد زبردستی مسلمان کیا، یہاں تک کہ دریائے کشن گنگا کو بھی دریائے نیلم کردیا، مگر نہ جانے کیوں باؤلی شیرشاہ سوری کو خواہ مخواہ مغلوں کے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔

بلاشبہہ برصغیر پاک و ہند کی زیادہ تر تاریخ عمارات مغلوں نے ہی بنوائیں مگر اب ایسا بھی کیا کہ ہر شاہ کار کو مغلوں کے کھاتے میں ڈال دیا جائے۔ ماضی قریب میں اس باؤلی کے بڑے گنبد تلے ایک تالاب ہوا کرتا تھا اور وہ بچے جو سوکھے کی بیماری کا شکار ہوکر مرنے والے ہوتے تھے انھیں اس تالاب کے پانیوں میں نہلایا جاتا تھا تو وہ صحت مند ہوجاتے تھے۔ اب تالاب خشک ہوچکا ہے لیکن اس باؤلی کے باہر جنڈ کے ایک شجر کے سائے میں ایک ہیڈ پمپ ہے اس کے پانیوں میں بھی یہی تاثیر ہے، کیوںکہ بنیادی طور پر پانی تو اسی زمین کا ہے۔

باؤلی میں اگرچہ اب پانی نہیں مگر پھر بھی ٹھنڈک تھی۔ یہاں نیچے موسم بہت بہتر تھا۔ باؤلی کے باہر چلنے والی لُو جب باؤلی کے اندر آتی تھی تو ٹھنڈی ہوجاتی تھی مگر یہاں بھی اصل مسئلہ صفائی ہی ہے۔ باؤلی کے کنویں تک جاتے ہوئے جو جگہ سب سے ٹھنڈی اور صاف ہونی چاہیے تھی وہ اتنی ہی گندی اور بدبودار ہے۔

سوال یہ ہے کہ یہاں گند آتا کہاں سے ہے؟ کیا کوئی ملک دشمن عناصر ہیں جو یہاں کوڑا کرکٹ پھینک کر چلے جاتے ہیں یا پھر کوئی غیبی قوتیں یہ کام کرتی ہیں؟ یقیناً یہاں کوڑا کرکٹ ان نام نہاد سیاحوں کا ہی پھیلایا ہوا ہے جو سیاحت کا لبادہ اوڑھ کر یہاں آ کر وال چاکنگ کرتے ہیں اور اپنے ساتھ لائے ہوئے چپس اور جوسز کے خالی پیکٹ یہاں پھینک کر چلے جاتے ہیں۔

پیارے اور بہت ہی پیارے دوستو! اپنے محبوب کا نام ان تاریخی عمارات پر لکھ دینے سے محبوب آپ کو مل نہیں جائے گا مگر عوام الناس کی جانب سے ملامتیں ضرور وصول کرے گا۔ ایسے ایسے پروجیکٹ بار بار نہیں بنتے۔ اپنے ورثے اور تاریخی عمارات کی حفاظت کرنا سیکھیں۔ ان سب کو میرے اور آپ کے پیسے سے ہی اسرِنو تعمیر کیا گیا ہے اور ہمارا پیسہ اتنا فضول تو نہیں کہ ہم اسے ایسے ہی ضائع کردیں۔

باؤلی کے اوپر ایک سرائے بھی ہے۔ اوپر سرائے تک جانے اور پھر نیچے آنے کے لیے الگ الگ سیڑھیاں بھی بنائی گئی ہیں۔ سرائے کا مقصد پنجاب اور کشمیر کے تاجروں کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا جہاں وہ ایک مشترکہ منڈی بھی تشکیل دے سکیں۔

سرائے کے اطراف کونوں پر ایک ایک گول کمرا ہے جب کہ درمیان میں بھی ایک بڑا گول کمرا ہے۔ ہر کمرے کے آٹھ دروازے ہیں۔ معاشرے کے ہر مذہب میں عبادت گاہ کو ایک خاص بلکہ خطرناک حد تک خاص اہمیت حاصل ہے۔ ہر مذہب میں عبادت گاہ کا تصور اس قدر مضبوط ہے کہ سوچے سمجھے بنا کہ یہاں اس کی ضرورت ہے یا نہیں، اسے صرف اپنے خدا یا دیوتا کو خوش کرنے کے لیے بنا دیا جاتا ہے۔

عبادت گاہ کا تصور پجاریوں کی بدولت ہی ہے، پجاری ہیں تو عبادت گاہ بھی بحال ہے، پجاری نہیں تو شاید عبادت گاہ کا وجود بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے اور یہ رفتہ رفتہ اپنی اہمیت کھو دیتی ہے۔ جنڈیالہ شیر خان میں وارث شاہ کے مزار کے پاس ہی ایک مسجد ہے جسے بہت ہی عقیدت کے ساتھ مغلیہ طرزِتعمیر پر چھوٹی اینٹ اور چونے سے بنایا گیا ہے۔ نقش و نگار والے دروازے بھی ہیں۔ مسجد کو ازسرِنو تعمیر کیا گیا ہے مگر مسجد اب بھی ناصرف ویران ہے بلکہ الباکستانیوں کے ہاتھوں ایک بار پھر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہی ہے۔

مسجد وارث شاہ کسی ویرانے میں نہیں بلکہ اس کے چاروں طرف آبادی ہے۔ بالکل ساتھ ہی وارث شاہ کا مزار بھی ہے جہاں ہر وقت لوگوں کا ایک ہجوم رہتا ہے مگر مسجد وارث شاہ بالکل ویران ہے۔ نہ صرف ویران ہے بلکہ دروازے بھی تقریباً ٹوٹ چکے ہیں۔ مسجد کے اندر نشئی حضرات کا قبضہ ہے جہاں انھوں نے اپنی ایک الگ ہی خوب صورت دنیا آباد کر رکھی ہے۔ نشئی حضرات رات گئے اس مسجد میں تشریف لاتے ہیں، دروازے بند کرکے خوب انجوائے کرتے ہیں اور سورج نکلتے ہی اپنے اپنے گھروں کو چل دیتے ہیں۔

ضرورت اس امر کی تھی کہ اگر مسجد کو پرانے طرزتعمیر پر کھڑا کیا گیا تھا تو کم از کم یہاں صاف ستھرائی کا بھی بندوبست کیا جاتا۔ مستقل نماز کا اہتمام یہاں آسانی سے ممکن تھا کیوںکہ اس کے چاروں طرف آبادی ہے۔ وارث شاہ کے مزار پر بھی سرکاری اہل کار موجود ہیں، انھی کی مدد سے مسجد کی صاف ستھرائی کا بھی کام لیا جا سکتا ہے مگر شاید قدرت کو اپنے ان نشے کے پیاروں کے لیے بھی کوئی مستقل سامان کرنا تھا جہاں ان لوگوں کی انجوائے منٹ میں کوئی خلل نہ ڈالے۔ بوٹی والے بوٹی پیتے رہیں، بھنگ کے عادی بھنگ کے پکوڑے کھاتے رہیں اور چرس کا دھواں چاروں طرف پھیلتا رہے، جہالت قائم رہے جہالت قائم رہے گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔