الوداع رشید رضوی

ڈاکٹر توصیف احمد خان  جمعرات 22 فروری 2024
tauceeph@gmail.com

[email protected]

رشید رضوی خاموشی سے رخصت ہوگئے۔ مظلوم طبقات کے لیے انصاف اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کی تحریک کے ایک فعال کارکن رشید رضوی کا انتقال اس پرآشوب دور میں ہر باشعور شہری کے لیے صدمہ ہے۔ بمبئی سے تعلق رکھنے والا رشید رضوی کا خاندان کراچی کے علاقے ناظم آباد میں آباد ہوا۔

رشید رضوی کے والد رفیق رضوی بمبئی میں فلمیں بناتے تھے، انھوں نے کراچی میں فلم سازی شروع کی، یوں رشید رضوی نے ایک روشن خیال خاندان میں آنکھ کھولی اور ابتدائی زندگی سے بائیں بازو کی طلبہ تنظیم میں شامل ہوئے۔ رشید رضوی نے 60ء کی دہائی کے آخری عشرے میں کراچی یونیورسٹی کے شعبہ معاشیات میں داخلہ لیا تو بائیں بازو کے طلبہ کے لیے کوئی سرگرمی کرنا مشکل کام تھا۔ اس وقت ایک پروفیسر نے طلباء اور طالبات کے درمیان تین فٹ کے فاصلے کا قانون نافذ کردیا تھا۔

بائیں بازو کے طلبہ کو مسلسل عتاب کا نشانہ بنایا جارہا تھا۔ اس وقت طلبا کا ایک گروپ جس میں پروفیسر یونس شرر، رشید رضوی، سید محمد نقی، انیس زیدی اور عابد علی سید وغیرہ شامل تھے، کراچی یونیورسٹی میں متحرک تھا۔ اس گروپ کے سینئر رکن یونس شرر انجمن طلبہ کراچی یونیورسٹی کے عہدیدار منتخب ہوگئے تھے۔ اس وقت مہناز رحمن جو مہناز قریشی کہلاتی تھیں ایک متحرک کارکن تھیں، وہ شعبہ معاشیات کی طلبہ سوسائٹی کی نائب صدر منتخب ہوئیں۔ رشید رضوی نے قانون کی تعلیم کے لیے اسلامیہ لاء کالج میں داخلہ لیا اور اسلامیہ کالج کی طلبہ یونین کے نائب صدر منتخب ہوئے۔

رشید رضوی طالب علمی کے دور میں مزدور تحریک کے ہمدردوں میں شامل ہوگئے، یہ پیپلز پارٹی کا پہلا دور تھا۔ کراچی کے سب سے بڑے صنعتی زون سائٹ میں متحدہ مزدور فیڈریشن سب سے مضبوط تنظیم بن گئی تھی۔ متحدہ مزدور فیڈریشن کے رہنما عثمان بلوچ، واحد بشیر اور کرامت علی وغیرہ نے مزدوروں کے حقوق کے لیے تاریخی جدوجہد شروع کی تھی۔

پیپلزپارٹی کی حکومت نے سائٹ کی مزدور تحریک کو کچلنے کے لیے نو آبادی دور کے تشدد کے بدترین ہتھکنڈے استعمال کیے تھے۔ پولیس کی فائرنگ سے کئی مزدور جاں بحق ہوئے اور سیکڑوں کو ملازمتوں سے محروم کردیا گیا۔ اس تحریک کے روحِ رواں واحد بشیر، عثمان بلوچ کرامت علی، بصیر نوید وغیرہ زیرِ زمین رہ کر تنظیم کو متحرک کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ رشید رضوی کا گھر ان مفرور مزدور رہنماؤں کے لیے محفوظ ٹھکانا تھا۔

عثمان بلوچ اور ان کے ساتھیوں سے رشید رضوی کی والدہ اور بھائی وغیرہ آشنا تھے۔ عثمان بلوچ اپنی یادداشتوں پر زور دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ وہ کسی بھی وقت رشید رضوی کے گھر پہنچ جاتے، بعض اوقات رشید گھر پر موجود نا ہوتے مگر رشید کی والدہ عثمان کا خندہ پیشانی سے خیر مقدم کرتیں، انھیں گرم پراٹھا دیا جاتا۔ عثمان کہتے ہیں کہ بعض اوقات وہ تھکن کی وجہ سے سوجاتے۔

رشید رضوی نے ایک دفعہ بتایا کہ پولیس والوں کو اطلاع ملی کہ میں نے عثمان بلوچ کو اپنے گھر میں پناہ دی ہوئی ہے جس پر پولیس نے چھاپا مارا اور میرے بھائی کو میرے شبہ میں گرفتار کرلیا مگر رشید رضوی کا ان تمام مشکلات کے باوجود مزدور تحریک سے رومانس ختم نا ہوا۔ رشید رضوی نے وکالت شروع کردی اور ترقی پسند وکیل ڈاکٹر ودود کے گروپ میں شامل ہوگئے۔ رشید رضوی بائیں بازو کے رہنما این ایس ایف کے سابق صدر معراج محمد خان کے قریب رہے۔

جب معراج محمد خان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور صدر ذوالفقار علی بھٹو کی کابینہ میں شامل ہوئے اور آئین بنانے کا مرحلہ آیا تو رشید رضوی نے معراج محمد کو تحریری طور پر مشورہ دیا کہ مجوزہ آئین میں ہر قسم کے استحصال کے خاتمے کی شق شامل ہونی چاہیے۔ معراج محمد خان نے یہ تجویز صدر ذوالفقار علی بھٹو کے سامنے پیش کی، یوں پاکستان کے آئین میں شق نمبر 3 کے ذریعے ریاست کو ہر قسم کے استحصال کے خاتمے کا پابند کیا گیا۔

جب معراج محمد خان نے وفاقی کابینہ سے استعفیٰ دیا اور ایک نئی سیاسی جماعت قومی محاذ آزادی بنانے کا فیصلہ کیا تو رشید رضوی ان کے ہم رکاب تھے، معراج محمد خان کو گرفتار کیا گیا۔ نیشنل عوامی پارٹی کے رہنماؤں کے ساتھ انھیں حیدرآباد سازش کیس میں ملوث کیا گیا تو رشید رضوی ان وکلاء کے پینل میں شامل تھے جو معراج محمد خان کے دفاعی وکیل کے طور پر حیدرآباد کی خصوصی عدالتوں میں پیش ہوتے تھے، جب جنرل ضیاء الحق کی آمریت کا دور آیا تو وکلاء کی مزاحمتی تحریک کو منظم کرنے میں نوجوان وکیلوں میں نمایاں نام رشید رضوی کا تھا۔

80کی دہائی کے آغاز پر کراچی بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں سابق چیف جسٹس وجیہ الدین احمد صدر اور رشید رضوی سیکریٹری منتخب ہوئے۔ وجیہ الدین احمد جنرل ضیاء الحق کے حامیوں میں تھے اور رشید رضوی جنرل ضیاء الحق کے خلاف مزاحمتی تحریک میں شامل تھے، یوں اس وقت نمایندہ وکلاء کنونشن کراچی بار میں منعقد ہوا۔ رشید رضوی نے اس کنونشن کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

اس زمانے میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے جو سیاسی کارکن، طلبہ اور مزدور گرفتار ہوتے تھے تو رشید رضوی ان کارکنوں کی مفت قانونی امداد کے لیے موجود ہوتے۔ ان کی کوششوں سے کئی سیاسی کارکنوں کو دی گئی کوڑوں کی سزا عدالتوں سے منسوخ کی گئی اور کئی کو رہائی ملی۔ صحافیوں کی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے 1978 میں اخبارات پر پابندی کے خلاف تاریخی تحریک چلائی۔ تحریک کی کامیابی پر حکومت نے کچھ کارکنوں کو رہا نا کیا۔

ان کارکنوں کی رہائی کے لیے رشید رضوی اور بیرسٹر ودود نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ اسی طرح کراچی یونیورسٹی میں دائیں بازو کی طلبہ تنظیم کے تھنڈر اسکواڈ کے ایک جنگجو نے فائرنگ کی جس سے یونیورسٹی کے طالب علم یونس شاد اور ضیاء اعوان زخمی ہوئے ۔ رشید رضوی نے ضیاء اعوان کی رہائی کے لیے ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی، ضیاء اعوان ضمانت پر رہا ہوئے۔ 1980 میں کالعدم کمیونسٹ پارٹی کے دفتر پر چھاپہ مارا گیا اور پروفیسر جمال نقوی، سہیل سانگی، نذیر عباسی، شبیر شرر اور کمال وارثی کو گرفتار کر لیا گیا۔

ان افراد کے خلاف خصوصی عدالت میں بغاوت کا مقدمہ چلایا گیا۔ اس مقدمے میں ہاری رہنما جام ساقی، ڈاکٹر جبار خٹک، بدر ابڑو کو بھی ملوث کیا گیا۔ رشید رضوی ان وکلاء کے پینل میں متحرک وکیل تھے جو خصوصی عدالت میں ان ملزمان کا دفاع کرتے تھے۔ اس مقدمے میں ملوث طالب علم رہنما نذیر عباسی کو شہید کر دیا گیا۔

رشید رضوی دیگر وکلاء کے ساتھ جنرل ضیاء الحق کے دور میں 1973کے آئین کی بحالی کی ایم آر ڈی کی تحریک میں گرفتار ہوئے اور کئی ماہ سندھ کی مختلف جیلوں میں مقید رہے۔ 1988 میں انھیں بینکنگ کورٹ کا جج مقرر کیا گیا، وہ سندھ ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے مگر جب سابق صدر پرویز مشرف نے پی سی او نافذ کیا تو رشید رضوی نے اس نئے آئین کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا اور دوبارہ وکالت شروع کردی۔

رشید رضوی وکلاء کی مزاحمتی تحریک کو منظم کرنے والے ہراول دستہ میں شامل تھے، جب پرویز مشرف حکومت نے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کو معطل کیا تو رشید رضوی نے وکلاء کی تحریک کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کیا، وہ سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر رہے۔ سندھ حکومت نے گزشتہ سال جرنلسٹس اینڈ میڈیا پرسنس پروٹیکشن کمیشن قائم کیا۔ جسٹس رشید رضوی کو کمیشن کا پہلا سربراہ مقررکیا گیا۔

رشید رضوی نے کمیشن کے سربراہ کی حیثیت سے تنخواہ اور کسی قسم کی مراعات لینے سے انکار کیا، وہ کینسر کے مرض میں مبتلا تھے مگر صحافیوں کے اغواء کرنے کے واقعات کے خلاف انھوں نے فوری کارروائی کی، وہ کمیشن کی تشکیل نو میں مصروف تھے کہ شدید بیمار ہوگئے۔

رشید رضوی کا دفتر مزدوروں، کسانوں، طلبہ اور سول سوسائٹی کے اراکین کے لیے ہمیشہ کھلا رہتا تھا۔ ان کی داد رسی سے کئی افراد ریاستی جبر سے بچ گئے اور کئی کو ملازمتوں پر بحال کیا گیا۔ معروف ادیب توقیر چغتائی، رشید رضوی کی سوانح عمری پر کام کر رہے تھے۔ انھوں نے رشید رضوی کو یوں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

وہ سچ جو مشرق و مغرب کے

مجبوروںکا حامی تھا

جو ناداروںکا حامی تھا

جو مزدوروںکا حامی تھا

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔