نواز شریف کی سیاست اور حقائق

سلمان عابد  جمعـء 19 اپريل 2024
salmanabidpk@gmail.com

[email protected]

جس محفل میں سیاست پر بحث ہو رہی ہو تو عموماً کہا جاتا ہے کہ نواز شریف کو گلہ ہے کہ ان کے ساتھ ہاتھ کیا گیا ہے ۔ تاہم ان کے ساتھ یہ ہاتھ اسٹیبلیشمنٹ نے کیا ہے یا ان کی اپنی جماعت اور اپنے بھائی وزیراعظم شہباز شریف نے کیا ہے ، اس پر سب کی اپنی اپنی رائے ہے لیکن جو سیاسی اور حکومتی سیٹ اپ بنا ہوا ہے، وہ یقینی تھا ۔

اگرچہ بہت سے لوگ میڈیا پر یہ ہی تجزیہ پیش کیا کرتے تھے کہ نواز شریف ہماری سیاسی حقیقت ہیں اور ان کی واپسی نہ صرف ان کے سیاسی مخالفین کو کمزور کردے گی بلکہ ان کے لیے اقتدار کا راستہ بننا بھی یقینی ہوگا۔

کچھ لوگوں نے یہ منطق بھی دی تھی کہ عمران خان کا مقابلہ کرنے یا ان سے نمٹنے کے لیے اسٹیبلیشمنٹ کے پاس نواز شریف کے سوا کوئی بھی سیاسی آپشن موجود نہیں ہے۔ لیکن جس انداز سے نواز شریف کی سیاسی سمجھوتوں یا ڈیل کی بنیاد پر واپسی ہوئی اور جس طریقہ سے ان کا چوتھی بار وزیر اعظم بننے کا کھیل بگاڑ کا شکار ہوا اورجس طریقے سے ان کی سیاسی مقبولیت کا جو بھرم ٹوٹا، اس نے واقعی نواز شریف کو اداس کیا ہوگا ۔

نواز شریف کی سیاست کی پر نظر رکھنے والے بعض افراد کے بقول نواز شریف کو ایک منصوبے کے تحت حکومتی سیٹ اپ سے باہر کیا گیا ہے بلکہ ان کے ساتھ ہاتھ ہوگیا ہے ۔ مسلم لیگ ن کے بعض افراد نجی مجالس میں محض اسٹیبلیشمنٹ کا ذکر نہیں کرتے بلکہ اس کے تانے بانوں کو مسلم لیگ ن کی داخلی سیاست اور فیصلوں سے بھی جوڑتے ہیں ۔

ان کے بقول نواز شریف کا بڑا دکھ جہاں ان کی اقتدار کی سیاست سے محرومی ہے وہیں پنجاب کی سیاست میں مسلم لیگ کو توقع سے کم نشستیں ملنا بھی ایک دھچکا ہے۔ نواز شریف کی سیاست کا مرکز پنجاب ہے اور اسی کو بنیاد بنا کر وہ اقتدار کی لمبی اننگز کھیلتے رہے ہیں ۔لیکن اب پنجاب کی انتخابی سیاست نے ان کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا ہے جو یقینی طور پر ان کی سیاسی تنہائی کا سبب بنا ہے ۔اس لیے یہ کہنا کہ نواز شریف کے ساتھ محض اسٹیبلیشمنٹ نے ہاتھ کیا ہے پورا سچ نہیں بلکہ مکمل سچ انتخابی سیاست میں مسلم لیگ کو پنجاب میں توقع سے کم ووٹ پڑنا کرنا بھی ہے ۔ وہ پس پردہ حقائق اچھی طرح جانتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ وہ ایک طرح کے سیاسی دباؤ میں نظر آتے ہیں۔

بنیادی طور پر مسلم لیگ ن ان تمام محرکات کو یا جو بنیادی نوعیت کی سیاسی و انتخابی تبدیلیاں ملکی سیاست میں نمودار ہورہی تھیں، ان کوپوری طرح سمجھنے میں ہی ناکام رہی ہے ۔ یہ جو خیال تھا کہ نواز شریف کی واپسی مسلم لیگ ن کی سیاست کو بام عروج تک پہنچا دے اور عمران خان کو پسپا کردے گی، وہ تجزیہ بھی درست ثابت نہ ہوسکا ۔

اقتدار تو مسلم لیگ ن کومل گیا لیکن جیسا اقتدار ملا ہے، وہ مسلم لیگ ن کی سیاسی بے بسی ،مجبوری یا سیاسی ناکامی کی ایک الگ کہانی کو پیش کرتا ہے ۔ اتحادیوں کے سہارے پر قائم وفاقی حکومت حکومت کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے ، پی ٹی آئی فارم 45اور فارم 47 کو بنیاد بنا کر مسلسل بیانیہ بنا رہی ہے ۔

جب بھی موجود ہ حکومت کسی بھی سطح پر بڑا فیصلہ کرے گی تو اسے حکومتی اتحاد کے اندر سے مشکل پیش آئے گی جبکہ پی ٹی آئی فارم 47 کی بنیاد پر اپنی سیاست جاری رکھ کر عوام کو باور کرائے گی کہ اگر دھاندلی نہ ہوتی تو پی ٹی آئی کی فتح یقینی تھی ۔ ادھر یہ باتیں بھی پھیلائی جارہی ہیں کہ شہباز شریف کو وزیر اعظم تو بنادیا گیا ہے مگر اختیارات کہیں اور ہیں ۔

پچھلے دنوں نواز شریف کی چند صحافی دوستوں سے ملاقات ہوئی ہے ، ان میں سے بعض افراد نے یہی تاثر لیا ہے کہ دوران گفتگو وہ کافی رنجیدہ اور دکھی نظر آئے ۔ ان کے بقول جو کچھ ہماری قومی سیاست میں ہورہا ہے وہ درست نہیں اور ان طور طریقوں کی بنیاد پر سیاسی اور جمہوری حکمرانی محض خواب ہی رہے گی اور کوئی بھی جماعت سیاسی اور جمہوری بنیادوں پر نہ تو کام کرسکے گی اور نہ ہی حکومت چلانا اس کے لیے ممکن ہوگا۔

پاکستانی سیاست میں ہر بڑا سیاسی کھلاڑی یا سیاست دان دوسرے بڑے سیاست دان کے خلاف استعمال ہوا ہے۔ نواز شریف کو تو اس کا کافی وسیع تجربہ تھا مگر انھوں نے بھی مفاہمت یا سمجھوتے کا آپشن ہی اختیار کیا ہے۔ ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ خود انھوں نے ہی پس پشت ڈالا ہے ۔اس لیے اس پورے کھیل میں نواز شریف کو اپنی جماعت کا بھی داخلی احتساب کرنا چاہیے کہ ان سے خود کیا غلطیاں ہوئی ہیں یا کرائی گئی ہیں ۔

نواز شریف اور مسلم لیگ ن ایک سیاسی حقیقت ہیں اور آج بھی یقینی طور پر ان کا ووٹ بینک موجود ہے۔لیکن جب کوئی حکمرانی کا نظام عوامی مینڈیٹ یا عوامی حمایت سے ہٹ کر ترتیب دیاجائے گا تو سیاسی جماعتوں کی سیاسی ساکھ پر سوالیہ نشان ضرور اٹھتے ہیں۔ نواز شریف کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ وہ مستقبل کی سیاست کی طرف دیکھنے کی بجائے ماضی کی سیاست میں الجھے ہوئے ہیں یا خود کو انھوں نے ماضی کی سیاست تک محدود کرلیا ہے ۔

حالانکہ حالات بدل گئے ہیں اور انتخابی سیاست اور انتخابی کرداروں میں بھی کافی تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیں۔ اس لیے اگر واقعی مسلم لیگ ن کی ساکھ کو بچانا ہے تو اس کے لیے نئی سیاسی حقیقتوں کو تسلیم بھی کرنا ہوگا اور روایتی طرز کے سیاسی بیانیوں سے باہر نکل کر نئی سیاست کے رموز کو اختیار کرنا ہوگا ۔

پرانی سیاست اور پرانے بیانیے کا چورن اب زیادہ نہیں بک سکے گا ۔ موجود وفاقی حکومت کو جس طور انھوں نے اوران کی جماعت نے قبول کیا ہے اس سے ان کا حقیقی سیاسی و جمہوری مقدمہ مضبوط نہیں بلکہ کمزور ہوا ہے ۔اس کھیل کی ان کو بھاری سیاسی قیمت اپنی سیاست سمیت اپنی جماعت کی بھی ادا کرنا پڑی ہے ۔

کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ نواز شریف نیا سیاسی بیانیہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ وہ اپنی سیاسی ساکھ کو بحال کرسکیں ۔ لیکن یہ عمل اگر وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت اور حزب اختلاف دونوں کے کرداروں کو ساتھ ملا کر کرسکتے ہیں تو غلطی پر ہیں۔ کیونکہ پہلے ہی مسلم لیگ ن میں سے جو آوازیں رانا ثنا اللہ ، جاوید لطیف سمیت دیگر لوگوں کی اٹھ رہی ہیں اس سے شہباز شریف حکومت کی پوزیشن مزید کمزور بھی ہورہی ہے بلکہ یہ عمل ان کی حکومت کوسیاسی تماشہ کے طور پر پیش کررہی ہے۔ اس لیے اس حکومت کا بحران حزب اختلاف کم اور حکومت کا داخلی انتشار یا ان کی ساکھ کا بحران زیادہ ہے۔

جیسے جیسے وقت گزرے گا اسی حکومت کے داخلی تضادات اور اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ان کے مسائل میں اضافہ ہوگاجو ان کی سیاست کو مزید کمزور کرنے کا سبب بنے گا۔اس لیے مسلم لیگ ن نے خود کو جس برے انداز سے سیاسی محاذ پر پیش کیا اور بہت سی کڑوی چیزوں کو قبول کیا اس نے ان کو مزید سیاسی تنہائی میں کھڑا کردیا ہے ۔ وفاق اورپنجاب میں ان کی حکومت ہے، جب حکومتی سیٹ اپ میں کئی اسٹیک ہولڈرز ہوں گے تو پھر حکومت کرنا ا ورکارکردگی دکھانا اور زیادہ مشکل ہوجاتا ہے ۔نواز شریف سب سے زیادہ سیاست اور حکومت کرنے یا اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت او رمخالفت دونوں کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں ۔

اس لیے ان سے زیادہ امید کی جاتی تھی کہ وہ مستقبل کی طرف پیش قدمی کریں گے ۔لیکن وہ ایسا نہ کرسکے اور اسی روایتی سیاست کو ہی بنیاد بنایا جووہ پہلے سے کرتے آرہے ہیں۔اسٹیبلیشمنٹ سے ان کی ٹکراؤ کی سیاست بھی محض اقتدار کے کھیل تک دوبارہ رسائی کے حصول کا سبب بنی اور یہ ہی وجہ ہے کہ وہ بڑی سیاسی شخصیت ہونے کے باوجود خود کو اس موجودہ سیاست یا حکمرانی کے کھیل میں سیاسی تنہائی کو محسوس کررہے ہیں ۔مگر اہم بات یہ ہے کہ کیا اب بھی وہ کچھ نیا کرنے کے لیے تیار ہیں اور اگر ہیں تو پھر عملاً کچھ نیا کرنا ہوگا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔