مشرقِ وسطیٰ

جاوید قاضی  اتوار 21 اپريل 2024
Jvqazi@gmail.com

[email protected]

اس وقت دنیا تیسری عالمی جنگ نہ سہی لیکن اس کی حدود کو ضرور چھو رہی ہے۔ ہٹلرکا مقصد دنیا کو فتح کرنا ضرور تھا لیکن وہ پہلے جرمن قوم کو فتح کرنا چاہتا تھا۔

یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے میزائل نہیں داغے جاتے بلکہ بیانیہ ترتیب دیا جاتا ہے کہ آپ دنیا کی عظیم قوم ہیں۔ حملہ کرنے سے پہلے یہ باورکرایا جاتا ہے کہ یہ زمین ہماری تھی، قوم ہماری تھی، وہ باطل اور ہم حق ہیں۔ کرہ ارض پر حکمرانی کا حق صرف ہمیں دیا گیا ہے۔

یوں کہیے کہ اپنی قوم کو ایک نظریہ دیا جاتا ہے، ذہن سازی کی جاتی، دانشوروں کی ایک کھیپ تیارکی جاتی ہے،کتابیں لکھیں جاتی ہیں، واعظ کیے جاتے ہیں، مذاکرے، مباحثے کرائے جاتے ہیں۔ بات پھر سرحدوں کے پار چلی جاتی ہے۔

پیوٹن صاحب رشین قوم کا کھویا ہوا رتبہ اور شان واپس لانا چاہتے ہیں۔ اسی لیے وہ روس میں جمہوری اقدار کو پامال کررہے ہیں۔ یوکرین کو فتح کرنے کے لیے عالمی قوانین کو روند ڈالا۔ عراق کے صدام حسین نے بھی ایسا ہی کیا اور کویت پر چڑھائی کردی ، دشمن طاقت میں بیٹھے تھے ، امریکا اور اس کے اتحادیوں نے اقوامِ متحدہ سے قرارداد منظور کرا کر عراقی فوج سے کویت کا قبضہ چھڑالیا۔

چند برس بعد امریکا اور اتحادیوں نے ایک اور قرارداد لے کر عراق پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کرلیا، صدام حسین اور اس کے ساتھیوں کو ختم کردیا گیا ۔ امریکا اور اتحادیوں کی جارحیت پر کوئی انگلی اٹھانے والا نہ بھی تھا۔ عراق کے بعد افغانستان کی باری آئی، امریکا اور اتحادیوں نے افغانستان پر قابض طالبان اور القاعدہ کا اقتدار ختم کردیا،یوں بیس سال تک افغانستان پر امریکا قابض رہا۔

مشرقِ وسطیٰ میں سلطنتِ عثمانیہ کے خاتمے کے لیے عرب قوم پرستی کا نظریہ استعمال ہوا، لیکن ہوا کیا، عرب ایک قوم قرار دی گئی مگر مشرق وسطیٰ میں متعدد عرب ریاستیں قائم ہیں۔اسی دوران مسلم ممالک میں مذہبی بنیاد پر مسلم قوم پرستی کا نظریہ سامنے آگیا، یوں عیسائی بلاک، صیہونی بلاک اور اسلامی بلاک کی باتیں شروع ہوگئیں۔

یہ باتیں اور حقائق اتنے بھی سادہ نہیں جیسے اوپر میں نے بیان کیے ہیں،کیونکہ یہ ایک مضمون ہے اور مضمون میں کسی حقیقت کی ایک آدھ بات ہی بیان ہوسکتی ہے۔ آج پھر مشرقِ وسطیٰ جنگ کی لپیٹ میں ہے اور اس طرح سے ہے کہ یہ جنگ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ اسی تناظر میں تاریخ کے کچھ اوراق ہم نے آپ کے سامنے رکھے دیے۔

یوکرین اور روس میں جنگ جاری ہے، کئی افریقی ممالک جنگوں کی لپیٹ میں ہیں۔ اسرائیل نے غزہ میں جس بربریت کا مظاہرہ کیا ہے اس نے پوری دنیا کے ضمیرکو جھنجھوڑکر رکھ دیا ہے۔ ایران کی مذہبی قیادت اقتدارکو قائم و دائم رکھنے کے لیے، مشرقِ وسطیٰ میں کود چکی ہے۔ سعودی عرب کی نوجوان قیادت سرد جنگ کی پالیسی کو ترک کرچکی ہے کیونکہ اب سعودی بادشاہت کو کوئی خطرہ نہیں۔

مصر میں فوجی آمریت ہے لیکن یہ مذہبی نہیں بلکہ سیکولر ہے ۔ ایران میں تھیوکریسی سسٹم پر سو فیصد کنٹرول قائم کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے ۔ایران میں انقلاب مخالف قوتیں سسٹم سے باہر ہوچکی ہیں، اس لیے ان میں اتنی قوت و صلاحیت نہیں کہ اندر سے تبدیلی لاسکیں، ان قوتوں کے لیے عوامی تحریک چلانا اور اسے کامیاب بنا بھی ممکن نہیں رہا ہے کیونکہ پورے سسٹم کو الٹ دینا ان کے لیے ممکن نہیں ہے۔

عالمی صف بندی بھی سادہ نہیں ہے ، سرد جنگ کے دوران دنیا میں دو سپر پاور تھیں، سوویت یونین کے زوال کے بعد امریکا واحد سپر پاور بن گیا، مگر اب امریکا کی اس حیثیت و طاقت میں کمزوری کے پہلو نمایاں ہورہے ہیں، رنگ ونسل کی تفریق پیدا کرنے والا طبقہ ماضی کے مقابلے میں غیرمعمولی حد تک طاقتور ہوگیا ہے، امریکا میں جمہوریت بکھرتی ہوئی نظر آرہی ہے۔

چین دنیا کی دوسری بڑی طاقت بن کر ابھرا تاہم اس کی بنیاد معاشی و اقتصادی ترقی ہے، حالیہ چند برس سے چین کی معیشت اس تیزی سے آگے نہیں بڑھ رہی ہے جیسا کہ ہونی چاہیے تھی، چین کو بھی کئی داخلی مسائل درپیش ہیں۔

2024 موسمی تغیرات کے حوالے سے گرم ترین سال ثابت ہوگا۔ کرہ ارض پر انسانوں کی تعداد آٹھ ارب سے زیادہ ہوچکی ہے ، ٹیکنالوجی کی ترقی، پہاڑوں اور جنگلات کی کٹائی، ماحولیات مسائل پیدا کررہی ہے۔

اب آرٹیفشل انٹیلیجنس نسل انسانی کی اس زمین پر دس ہزار سالہ حاکمیت کو ختم کرنے جا رہی ہے۔ انسانوں کی حاکمیت جو گندم کے ایک دانے سے شروع ہوئی تھی، جب انسان غاروں سے نکل کر پہلی بار تاریخ میں کھیتی باڑی کے غرض سے باہر نکلا، جب اس نے جانوروں کا شکارکرنا ضروری نہ سمجھا اورگندم کے دانوں نے اس کی ضرورتِ خوراک کو چند مہینوں تک یقینی بنایا۔

انسان ایک دوسرے کے ساتھ رہنے لگے اور آج اس کی حاکمیت کو چیلنج کا سامنا ہے، وہ دس ہزار سالہ حاکمیت جس کی بنیادوں سے Capitalism سرمایہ داری نظام نے جنم لیا اور سرمائے کی لالچ میں کاربن گیسزکا اخراج شروع ہوا، جس نے ماحولیاتی تبدیلیاں برپا کیں۔ آلودگی کو پیدا کیا اور بڑھایا، ماحولیات کو تباہ کیا۔ پہاڑوں سے برف پگھلنے لگی، سمندروں کی سطح بڑھ گئی۔

خانہ جنگی، ہجرت کو جنم دیتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی خانہ جنگی کے باعث شام سے لوگوں کی ہجرت ہوئی۔ یہ لوگ لاکھوں کی تعداد میں یورپی ممالک میں بس چکے ہیں اور ان ہجرتوں کی باعث ان ممالک کے اندر دائیں بازو کی سیاست کو تقویت ملی۔ امریکا میں ٹرمپ اسلامک فوبیا کا شکار ہے اور یورپ میں کئی ایسے لوگ ہیں جو ایسی نفرتیں پھیلا کر الیکشن میں جیت جاتے ہیں۔

آیندہ دس سالوں میں بہت بڑے چیلنجزکا سامنا ہے اگر جنگوں کی لپیٹ سے بچ گئے تو ماحولیاتی جنگوں کا سامنا ہے۔ دنیا اگر سنبھل گئی اور متحد رہی تو مل کر ان بحرانوں کا سامنا کیا جاسکتا ہے۔ کل کی ہجرت جو خانہ جنگی کے باعث ہو تی تھی، آج وہ ماحولیاتی بحرانوں کی وجہ سے متوقع ہے، خصوصا ان علاقوں میں جو سمندرکے قریب ہیں۔

آرٹیفشل انٹیلی جنس دنیا میں موجود مختلف سرحدوں کو تحلیل کردے گی، وہ سرحدیں جو ملکوں کے بیچ مذاہب، رنگ و نسل یا زبان کے باعث ہیں، وہ سرحدیں جو بین الاقوامی قوانین اور مقامی قوانین کے بیچ ہیں، وہ سرحدیں جو امپورٹ اور ایکسپورٹ کے بیچ ہیں، وہ سرحدیں جو ڈالر اور روپے کے بیچ ہیں وہ سب آہستہ آہستہ تحلیل ہو جائیں گی۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا کی نوے فیصد آبادی 2070 تک انگریزی بولنے اور سمجھنے میں تبدیل ہوجائے گی۔

مشرقِ وسطیٰ کا بحران پہلا قدم ہے، دنیا میں تبدیلی کی طرف۔ ماحولیاتی تبدیلی کیپٹل ازم کے مضبوط نظام میں آخری کیل کے طور پر ثابت ہوگی اور آرٹیفشل انٹیلی جنس ریاستوں کے اسباب کو بے سبب کر دے گی۔ اس بدلتی دنیا میں اب تبدیلی کی رفتار بہت تیز نظر آرہی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔