مقبوضہ کشمیر، عدالتی قتل سے ماورائے عدالت قتل تک!

محمد حسان  جمعرات 9 فروری 2017
بھارت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث وہ واحد ریاست ہے جو اتنے بڑے پیمانے پر شہریوں کے بنیادی حقوق سلب کرنے میں ملوث ہے۔

بھارت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث وہ واحد ریاست ہے جو اتنے بڑے پیمانے پر شہریوں کے بنیادی حقوق سلب کرنے میں ملوث ہے۔

13 دسمبر 2001ء کو بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ ہوتا ہے اور اُس کے نتیجے میں میڈیکل کالج سے تعلیم یافتہ اور دہلی یونیورسٹی سے ایم اے اکنامکس کرنے والے ایک نوجوان کشمیری محمد افضل گورو کو بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے فرضی کیس میں سوپور سے گرفتار کرلیا جاتا ہے۔ 2002ء میں بھارتی ماتحت عدالت نے افضل گورو کو سزائے موت سُنا دی جسے بعد ازاں بھارتی سپریم کورٹ نے برقرار رکھا۔ بھارتی ’اعلیٰ عدالت‘ کا ’اعلیٰ انصاف‘ ملاحظہ فرمایئے کہ جج صاحبان خود اپنے منہ سے ’فرماتے‘ ہیں کہ افضل گورو کے خلاف ایک ثبوت بھی فراہم نہیں ہوسکا، لیکن ’رائے عامہ اور اُن کے مفاد‘ کو مدنظر رکھتے ہوئے افضل گورو کو پھانسی دینا ضروری ہے۔ واہ واہ! سبحان اللہ! ڈوب مرنا چاہیئے اُن ججوں کو اپنی نام نہاد جمہوری حکومت سمیت! پوری انسانیت ہمیشہ اس شرمناک ’عدالتی قتل‘ پر شرمندہ رہے گی۔

آج ہی کے دن ٹھیک چار سال پہلے یعنی 9 فروری 2013ء کی صبح کشمیری نوجوان محمد افضل گورو کو نئی دہلی کی بدنامِ زمانہ تہاڑ جیل میں انتہائی خفیہ طور پر پھانسی دے دی گئی اور بعد ازاں بھارتی حکومت کو اپنی ’جمہوریت اور طاقت‘ پر اتنا کامل یقین تھا کہ ڈر کے مارے میت ورثاء کے حوالے کرنے کی بجائے تہاڑ جیل کے اندر ہی دفن کردی گئی۔

سابق بھارتی وزیر داخلہ اور سینئر کانگریس رہنما پی کے چدم برم کو بھی افضل گورو کے پارلیمنٹ حملے میں ملوث ہونے پر شکوک و شبہات تھے، جس پر اُنہوں نے کہا تھا کہ افضل گورو کیس سے متعلق فیصلہ درست نہیں ہوا، جس پر انتہا پسند ہندو جماعتوں نے خوب واویلا کیا۔ اِس کے علاوہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے کچھ طلباء نے بھی افضل گورو کی پھانسی پر احتجاجی مارچ کیا تھا اور اُسے عدالتی تحویل میں قتل قرار دیا۔ طلباء کی یہ جرات بھارتی نام نہاد جمہوریت کو بالکل بھی راس نہیں آئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ احتجاج کرنے والے طلباء کو گرفتار کرکے غداری کا مقدمہ درج کیا تھا۔

اُس وقت کے پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے افضل گورو کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اُن کی پھانسی کو قابل مذمت قرار دیا، یہی نہیں بلکہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارتی ظلم و زیادتی کشمیریوں کو اُن کے حقِ خود ارادیت سے دور نہیں کرسکتی۔ آصف زرداری نے مزید کہا کہ افضل گورو کے عدالتی قتل نے کشمیریوں کے جذبات کو اور بھی زیادہ بھڑکا دیا ہے۔ خطاب کے دوران انہوں نے فیض احمد فیض کے چند اشعار پڑھ کر افضل گورو کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں بھارت سے کبھی انصاف کی اُمید لگانی چاہیئے؟ میرا خیال تو یہی ہے کہ ہرگز نہیں، کیونکہ اگر بھارت اتنا ہی انصاف پسند ہوتا تو اب تک کشمیریوں کو اُن کا حقِ خود ارادیت دے چکا ہوتا، جس کا خود اُس کے بڑوں نے اقوامِ متحدہ میں عالمی طاقتوں کے سامنے اعتراف کیا تھا، لیکن بھارت کشمیریوں کو اُن کا حق دینے کے بجائے غیر قانونی طور پر کشمیریوں کی نسل کشی میں لگا ہوا ہے لیکن ساتھ ساتھ اُسے یہ بھی ڈر ہے کہ شاید اُسے کبھی نہ کبھی کشمیر میں ریفرنڈم کروانا پڑجائے، اِس مشکل صورتحال سے بچنے کے لئے وہ بھارتی شہریوں کو غیر قانونی طور پر مقبوضہ کشمیر میں رہائشی پرمٹ دے کر آباد کر رہا ہے تاکہ کشمیریوں کی آبادی کا تناسب بگاڑا جاسکے۔

بھارت جب کئی عدالتی قتال کے بعد بھی کشمیریوں کا جذبۂ آزادی کم نہ کرسکا تو اب اُس نے ماورائے عدالت قتل کا راستہ اپنالیا ہے اور اب وہ کسی کو گرفتار کرکے اُس پر مقدمہ چلانے کے ’تکلف‘ میں نہیں پڑتا، بلکہ سیدھا اپنی قابض فوج کے ہاتھوں گولی کا نشانہ بنادیتا ہے، جیسا کہ اُس نے برہان وانی کے کیس میں کیا۔ جب بھارت نے کشمیریوں میں برہان وانی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو دیکھا تو وہ عدالتی قتل کے اختیار کو بھی پسِ پشت ڈال کر سیدھا میدان میں آیا اور اُسے دہشت گرد قرار دے کر سرِعام گولی مار دی۔

بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی، خواتین کے ساتھ زیادتی، لاپتہ افراد، تشدد، عدالتی قتل اور ماورائے عدالت قتل وغیرہ جیسے حکومتی سرپرستی میں ہونے والے دیگر جرائم بھارتی نام نہاد جمہوریت پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ بھارت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث وہ واحد ریاست ہے جو اتنے بڑے پیمانے پر شہریوں کے بنیادی حقوق سلب کرنے میں ملوث ہے۔

کشمیری اپنے اوپر ہونے والے ہر ظلم و ستم کے بعد اپنی نگاہیں اپنے وکیل پاکستان کی جانب دوڑاتے ہیں۔ وہ کبھی پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے ’چِل ماحول‘ کو دیکھ کر افسردہ ہوتے ہیں تو کبھی وزیرِاعظم پاکستان کے اقوامِ عالم کےے سامنے کشمیر کی آواز بلند کرنے اور برہان وانی کا نام لینے پر خوش ہوجاتے ہیں۔ وہ کبھی پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش کی خبر سُن کر افسردہ ہوجاتے ہیں تو کبھی افواجِ پاکستان کی جانب سے یومِ یکجہتی کشمیرپر ریلیز کئے جانے والے نغمے کو سن کر خوش ہوجاتے ہیں۔ لیکن کشمیریوں کا واحد سہارا اور وکیل پاکستان ہی ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے کئی یو ٹرنز اور گہری خاموشیوں کے باوجود بھی کشمیریوں کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔

اس لئے حکومت و عوام سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً ایک دوسرے کو جگاتے رہیں اور ایک دوسرے کو احساس دلائیں کہ کشمیریوں کی ہم سے وابستہ امیدیں اگر ٹوٹ گئیں تو کشمیریوں کو اِس سے ناقابل تلافی نقصان ہوگا ہی مگر یہ پاکستان کے مفاد میں بھی اچھا نہیں ہوگا۔ ساتھ ساتھ ہمیں اقوامِ متحدہ اور اقوامِ عالم پر بھی بار بار دباؤ ڈالتے رہنے کی ضرورت ہے کہ بوند بوند قطرہ پتھر میں بھی سوراخ کر ہی لیتا ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لئے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کےساتھ [email protected] پر ای میل کریں۔
محمد حسان

محمد حسان

محمد حسان ایک نوجوان میڈیا ریسرچر، فری لانس رائٹر، بلاگر اور کارکن برائے انسانی حقوق ہیں آپ انہیں ٹوئیٹر پر @BlackZeroPK سے سرچ کر سکتے ہیں

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔