صادق سنجرانی کو قائم مقام صدر بنانے کے خلاف درخواست پر حکومت سے جواب طلب

ویب ڈیسک  جمعرات 17 مئ 2018
یہ حساس معاملہ ہے اور معاملے میں کوئی غفلت نہیں برتی جائے گی، اسلام آباد ہائیکورٹ فوٹو:فائل

یہ حساس معاملہ ہے اور معاملے میں کوئی غفلت نہیں برتی جائے گی، اسلام آباد ہائیکورٹ فوٹو:فائل

 اسلام آباد: ہائی کورٹ نے کم عمر ہونے کے باعث چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو قائم مقام صدر بنانے کے خلاف درخواست پر حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو قائم مقام صدر مقرر کیے جانے کے خلاف درخواست کی سماعت کی۔ عدالت میں بتایا گیا کہ چیئرمین سینیٹ اور دیگر فریقین نے نوٹس کا جواب نہیں دیا۔

صادق سنجرانی قائم مقام صدر نہیں بن سکتے، اہلیت چیلنج

جسٹس عامر فاروق نے رجسٹرار آفس کے نوٹس برانچ کے عملے کو ریکارڈ سمیت طلب کرتے ہوئے کہا کہ یہ حساس معاملہ ہے اور معاملے میں کوئی غفلت نہیں برتی جائے گی۔ عدالت نے اٹارنی جنرل آف پاکستان اشتر اوصاف کو پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے چیئرمین سینیٹ اور وفاق کو بھی دوبارہ نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیا۔ جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت 21 مئی تک ملتوی کر دی۔

درخواست گزار افضل خان شنواری نے موقف اختیار کیا کہ صادق سنجرانی کی بطور قائم مقام صدر تقرری آرٹیکل 49 کے خلاف ہے، آئین کے تحت صدر کی کم از کم عمر 45 برس ہونا ضروری ہے، لیکن صادق سنجرانی کی تاریخ پیدائش 14 اپریل 1978 درج ہے۔ ان کی عمر تقریباً 40 برس ہے اور قائم مقام صدر بننے کے لیے صادق سنجرانی کی عمر 5 سال کم ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔