عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا

ویب ڈیسک  جمعرات 21 فروری 2019
بھارت کا کلبھوشن کے لیے ویانا کنوشن کے تحت ریلیف مانگنا سمجھ سے بالاتر ہے، خاور قریشی (فوٹو: فائل)

بھارت کا کلبھوشن کے لیے ویانا کنوشن کے تحت ریلیف مانگنا سمجھ سے بالاتر ہے، خاور قریشی (فوٹو: فائل)

دی ہیگ: عالمی عدالت انصاف  نے پاکستان میں جاسوسی کے الزام میں گرفتار کلبھوشن یادیو کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ہالینڈ کے شہر ہیگ میں واقع عالمی عدالت انصاف میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کیس کی سماعت کے  چوتھے روزبھارتی وکلا کی جانب سے گزشتہ روز دیئے گئے دلائل کے جواب الجواب میں پاکستانی وکیل خاور قریشی نے دلائل دیئے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی وکیل کی غیرمتعلقہ مثالیں

خاور قریشی نے عالمی عدالت انصاف میں حتمی دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کا عدالت میں رویہ غیرسنجیدہ رہا، بھارت نے عدالت میں ادھوری دستاویزات جمع کرائیں اور بھارتی وکلا نے اپنے دلائل کے ذریعے اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی، بھارتی دلائل میں اس کا دوغلا پن عیاں ہے۔

پاکستانی وکیل کا کہنا تھا کہ بھارت نے پاکستانی سوالوں کے جوابات ابھی تک نہیں دئیے اور میرے دلائل کی زبان پر بے بنیاد اعتراضات کرتا رہا، بھارت کی کلبھوشن کے اغواء کی کہانی افسانوی ہے، بھارت کو کلبھوشن کے لیے ویانا کنوشن کے تحت ریلیف دینا بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔

واضح رہے کہ عالمی عدالت انصاف میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کیس کی سماعت 18 فروری سے 21 فروری تک جاری رہی، 18 فروری کو بھارت نے کلبھوشن کیس پر دلائل کا آغاز کیا اور 19 فروری کو پاکستان نے اپنے دلائل پیش کیے۔

20 فروری کو بھارتی وکلا نے پاکستانی دلائل پر بحث کی اور 21 فروری کو پاکستانی وکلا نے بھارتی وکلا کے دلائل پر جواب دیئے   جب کہ سماعت مکمل ہونے کے بعد عالمی عدالت کی جانب سے فیصلہ تین سے چار ماہ کے دوران سنایا جائے گا۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔