یوکرائن؛ عالمی بحران کا مرکز

زاہدہ حنا  اتوار 20 فروری 2022
zahedahina@gmail.com

[email protected]

عالمی یا علاقائی سطح پر ہونے والی جنگوں کا جلد یا بدیر خاتمہ ہو جاتا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں ایسے تنازعات پیدا ہوجاتے ہیں جو نہ صرف کافی عرصے تک کشیدگی کا باعث بنے رہتے ہیں بلکہ ان کی بھاری مالی اور جانی قیمت بھی چکانی پڑتی ہے۔

پہلی جنگ عظیم کا آغاز جولائی 1914 کو ہوا تھا ، جو تقریباً چار سال جاری رہ کر نومبر 1918 کو ختم ہوئی۔ مذکورہ جنگ میں جرمنی ، آسٹریا ، ہنگری اور ترکی کا مقابلہ فرانس ، برطانیہ ، روس ، اٹلی ، جاپان سے تھا ، جس میں بعد ازاں امریکا بھی شامل ہوگیا تھا۔ یہ جنگ ختم ہوگئی، لیکن اس کے اثرات تا دیر قائم رہے۔

جنگ ختم کرنے کے لیے جو معاہدہ کیا گیا ، اس کے نتیجے میں 9 عدد نئے خود مختار ملک دنیا کے نقشے پر نمودار ہوگئے جن میں فن لینڈ ، آسٹریا ، چیکوسلواکیہ ، یوگوسلاویہ ، پولینڈ ،کیتھونیا ، لٹویا ، ایسٹونیا اور ہنگری شامل ہیں۔ ان ملکوں کی تخلیق سے علاقائی سطح پر خانہ جنگیوں اور دو طرفہ لڑائیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

پہلی جنگ عظیم کو ختم ہوئے تیس سال ہی گزرے تھے کہ دنیا کو ایک اور عالمی جنگ کا سامنا کرنا پڑا ، جس میں ناقابل تصور تباہی اور بربادی ہوئی۔ اس جنگ کا آغاز 1939 اور اختتام 1945 میں ہوا۔ اس بار جرمنی، اٹلی اور جاپان کا مقابلہ فرانس ، برطانیہ، امریکا اور سوویت یونین سے تھا۔ دوسری عالم گیر جنگ کے آغاز کی بڑی وجہ ان تنازعات کا حل نہ ہونا تھا ، جو پہلی جنگ عظیم کے نتیجے میں پیدا ہوئے تھے۔

ایک اندازے کے مطابق دوسری جنگ عظیم میں 4 سے 5 کروڑ لوگ ہلاک ہوئے۔ یہ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی اور ہلاکت خیز جنگ تھی۔ جاپان کے دو شہروں پر ایٹم بم گرائے گئے جن کے اثرات آج تک موجود ہیں۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں قومی آزادی کی تحریکیں شروع ہوگئیں۔ ہندوستان، انڈونیشیا اور فلپائن سمیت بہت سے ملکوں نے مغربی استعماری طاقتوں سے آزادی حاصل کی اور چین میں آزادی کے بعد اشتراکی نظام قائم ہوگیا۔ آزادی کی طویل تحریکیوں میں لاکھوں حریت پسندوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دیا اور بالآخر ایشیا، افریقا اور لاطینی امریکا نے سامراجی غلامی کا طوق اتار پھینکا۔

دو عالمی جنگوں کے بعد دنیا میں سرد جنگ کا آغاز ہوگیا جو 1991 میں اختتام پذیر ہوئی۔ سرد جنگ میں سوویت بلاک کا مقابلہ امریکی بلاک سے تھا۔ یہ ایک جدید طرز کی نظریاتی اور سیاسی جنگ تھی جس میں پوری د نیا دو حصوں میں تقسیم ہوگئی تھی۔ سرد جنگ میں متحارب ملک براہ راست ایک دوسرے کے خلاف مسلح جنگ نہیں کرتے تھے بلکہ وہ مختلف ملکوں کو اپنے نظریاتی اور سیاسی بلاک میں شامل کرنے کے لیے نیابتی جنگ کیا کرتے تھے۔

سرد جنگ بھی ختم ہوئی اور سوویت یونین شکست و ریخت سے دوچار ہوگیا۔ 25 دسمبر 1991 کو سوویت یونین ختم ہوا ، روسی فیڈریشن کا سہ رنگی جھنڈا ہوا میں لہرا دیا گیا اور ایک ریاست سے پندرہ نئی آزاد ریاستیں وجود میں آگئیں ، ان میں سے ایک کا نام یوکرائن تھا۔ یہ ریاست ان دنوں عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے جہاں روس کے خلاف امریکا ، برطانیہ اور نیٹو ممالک صف آرا ہیں۔

یوکرائن کئی حوالوں سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے ، اس کی تہذیب بہت قدیم ہے۔ اس خطے میں انسانی سرگرمیوں کے آثار 32 ہزار سال قبل مسیح سے ملتے ہیں۔ آج کا یوکرائن روس کے بعد یورپ کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ اس کا رقبہ 6 لاکھ کلومیٹر سے زیادہ ہے۔ اس کی جغرافیائی اہمیت بہت اہم اور منفرد ہے۔

یوکرائن کی سرحدیں کئی ملکوں سے ملتی ہیں جن میں روس ، بیلا روس ، پولینڈ ، ہنگری ، رومانیہ اور مالدووا نمایاں ہیں ، اس کی ساحلی پٹی بھی کافی طویل ہے۔ اس ملک کے بارے میں لوگوں کے معلومات تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جیسا کہ پہلے کہا گیا ہے یہ رقبے کے لحاظ سے یورپ کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے ، اگر روس کو یورپ میں شامل نہ کیا جائے تو یوکرائن براعظم یورپ کا سب سے بڑا ملک قرار پائے گا۔

آبادی کے اعتبار سے بھی اسے ایک بڑا ملک کہا جاسکتا ہے۔ یہاں چار کروڑ ساٹھ لاکھ لوگ رہتے ہیں۔ آبادی کا 70 فیصد حصہ یوکرائنی زبان بولتا ہے ، جب کہ 17 فیصد آبادی باہر سے لاکر بسائے گئے روسی لوگوں پر مشتمل ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ دنیا کا سب سے گہرا زیر زمین ریلوے اسٹیشن اس ملک کے دارالحکومت کیو میں واقع ہے جس کی گہرائی 100 میٹر سے زیادہ ہے۔

یوکرائن امیر ملک نہیں ہے لیکن یہاں تعلیم کی شرح بہت اونچی ہے۔ پندرہ سال سے زیادہ عمر کی 94.4 فیصد آبادی خواندہ ہے اور اسے دنیا کے چوتھے سب سے خواندہ ملک ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ یوکرائن غذائی اجناس کی پیداوار میں بھی یورپ کے کئی ملکوں سے بہت آگے ہے۔ اسے بجا طور پر یورپ کا غلہ گھر کہا جاتا ہے۔ گندم کی پیداوار بہت زیادہ ہے، جس کے لیے کئی ممالک یوکرائن پر انحصار کرتے ہیں۔

اس کا شمار سورج مکھی پیدا کرنے والے سب سے بڑے ملکوں میں ہوتا ہے۔ غذائی اجناس ، کوئلہ، خام لوہا، گیس، تیل، نمک اور سلفر سمیت کئی معدنیات سے مالا مال یہ ملک اپنے جغرافیائی محل وقوع ، قدرتی وسائل کی وجہ سے گزشتہ 100 سال سے مسلسل غیر ملکی حملوں اور فوجی مداخلتوں کی زد میں رہا ہے۔ اس ملک کے مہذب، پڑھے لکھے اور روشن خیال لوگ 21 ویں صدی میں بھی سکھ اور چین کی زندگی گزارنے سے محروم ہیں۔

پچھلے چند ماہ سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ یوکرائن میں جنگ کے شعلے کسی بھی وقت بھڑک سکتے ہیں۔ ایسا اگر ہوگیا تو امریکا اور نیٹو افواج بھی میدان جنگ میں کود پڑیں گی، پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد ملکوں کا اتنی بڑی تعداد میں ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہونے کا یہ تیسرا موقع ہوگا۔ کئی تجزیہ نگار تو یہاں تک کہتے ہیں کہ تیسری عالم گیر جنگ ہوئی تو اس کا آغاز یوکرائن سے ہی ہوگا۔

آئیے! اب دیکھیں کہ یوکرائن پر جنگ کا عذاب بار بار کیوں نازل ہو رہا ہے۔ اس کے اسباب متنوع ہیں جنھیں جاننے کے لیے ہمیں دنیا کے معاشی و سیاسی منظر نامے کا جائزہ لینا ہوگا۔ یہ حقیقت اب تسلیم کی جانے لگی ہے کہ 21 ویں صدی ایشیا کی صدی ہوگی جسکے واضح آثار نظر آنے لگے ہیں۔ ایشیا کے درجنوں ملکوں کی معیشتیں برق رفتاری سے ترقی کر رہی ہیں جس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ کورونا کی عالمی وبا کے باوجود مغرب کے برعکس ایشیا کے بہت سے ملکوں کی شرح نمو 6سے 9 فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔

دوسری جانب یورپ اور امریکا کوکئی مسائل کا سامنا ہے۔ قدرتی، انسانی، مادی وسائل، سائنس اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے امریکا دنیا کا سب سے ترقی یافتہ ملک ہے۔ اس کا رقبہ اور آبادی بھی کافی زیادہ ہے۔ یورپ کے مقابلے میں اس کے معاشی مسائل کافی کم ہیں تاہم یورپ، امریکا کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یورپی ملکوں کے خوشحال صارفین مہنگی امریکی مصنوعات خریدنے کی قوت رکھتے ہیں۔

اسی طرح یورپی ممالک کی مہنگی مصنوعات کی کھپت بھی امریکا میں ہی ممکن ہے۔ یہی وہ معاشی مفاد ہے جس نے امریکا اور یورپ کو ایک دوسرے سے سیاسی اور نظریاتی طور پر بھی متحد کر رکھا ہے لیکن صورتحال کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ یورپ اس وقت توانائی کے سنگین مسئلے سے دوچار ہے۔ اسے اپنی ضرورت کی 60 فیصد قدرتی گیس درآمد کرنی پڑتی ہے جس کا 40 فیصد روس سے درآمد کیا جاتا ہے۔ قدرتی گیس کا بڑا حصہ پائپ لائنوں کے ذریعے یوکرائن سے گزر کر آتا ہے۔

یہاں یہ ذکر ضروری ہے کہ یورپ کا معاشی طور پر سب سے طاقت ور ملک جرمنی اپنی 100 فیصد قدرتی گیس کے لیے روس پر انحصار کرتا ہے۔ روس معاشی طور پر زیادہ مستحکم نہیں، اس کی آمدنی کا غالب انحصار قدرتی گیس، پٹرول اور اسلحے کی تجارت پر ہے لہٰذا یورپ اس کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ بن گیا ہے۔ ان عوامل کے باعث یورپ ایک پیچیدہ بحران کی زد میں ہے جسکا مرکز یوکرائن بنا ہوا ہے۔ (جاری ہے)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔