پاکستانی نظام تعلیم اور معیشت

راجہ کامران  جمعـء 14 جولائی 2023
پاکستان میں تعلیم کی صورتحال مخدوش ہے۔ (فوٹو: فائل)

پاکستان میں تعلیم کی صورتحال مخدوش ہے۔ (فوٹو: فائل)

پاکستان دنیا میں آبادی کے لحاظ سے پانچ بڑے ملکوں میں شامل کیا جاتا ہے۔ دنیا میں زیادہ آبادی ایک بوجھ نہیں بلکہ معیشت کا اہم ترین ستون ہے۔ دنیا میں آبادی کے لحاظ سے پانچ بڑے ملک یعنی چین، بھارت، امریکا، انڈونشیا اور پھر پاکستان ان تمام پانچ ملکوں کا دنیا کے جی ڈی پی میں حصہ 45 فیصد ہے۔ اور اگر آبادی کے لحاظ سے دس بڑے ملکوں کا جائزہ لیا جائے تو ان کا حصہ عالمی معیشت میں 10 فیصد سے بھی تجاوز کرجاتا ہے۔ مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان کا حصہ دنیا کے جی ڈی پی میں کتنا ہے؟ آپ کو یہ جان کر شاید حیرت ہو کہ پاکستان کا دنیا کی مجموعی آبادی کا 2.83 فیصد ہے مگر دنیا کی مجموعی پیداوار میں حصہ صرف 0.4 فیصد ہے۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟

ملکی تعلیم کے حوالے سے ڈاکٹر امجد وحید کا تعلیم کو معیشت سے جوڑتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ ایک انسانی مسئلہ نہیں بلکہ معاشی مسئلہ بھی ہے۔ ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ تعلیم معیشت کا مسئلہ ہے۔ عالمی بینک کے مطابق پاکستان میں ایک بچے کی متوقع اوسط تعلیم 9 سال کی ہے۔ 149 ملکوں میں پاکستان 143 کی سطح پر ہے۔ پاکستان سے تعلیم کے حوالے سے نیچے ملک موریطانیہ، تنزانیہ، سوڈان، مالی، چاڈ اور نائیجر ہیں۔ اگر ملک میں آپ ایک سال کی اسکولنگ میں اضافہ کرتے ہیں تو پاکستان کے جی ڈی پی میں 40 ارب ڈالر کا اضافہ کرتے ہیں۔ ایک ڈالر کی تعلیم میں سرمایہ کاری جی ڈی پی میں 20 ڈالر کا اضافہ کرتی ہے۔

تعلیم سے وابستہ تنظیم الف اعلان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں بچوں کی اوسط تعلیم میں کمی کے علاوہ بچوں کی ایک بڑی تعداد اسکول ہی داخل نہیں ہوتی۔ پاکستان کی مجموعی آبادی میں پانچ کروڑ 20 لاکھ بچے، جن کی عمریں 5 سے 15 سال ہیں، ان میں سے دو کروڑ 30 لاکھ بچے اسکول میں داخلہ تک نہیں لیتے جو کہ مجموعی بچوں کی آبادی کا 44 فیصد ہے۔ جو بچے اسکول جاتے ہیں ان میں سے 30 فیصد سرکاری اسکولوں میں پانچویں تک تعلیم حاصل کرنے والے بچے اپنا نام درست طور پر لکھنے کے اہل نہیں۔ صرف 20 فیصد بچے کم درجے کے نجی اسکول جاتے ہیں، جہاں کسی حد تک تعلیم دی جاتی ہے۔ ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔

پاکستان میں ایک طرف تو تعلیم کی صورتحال مخدوش ہے اور سروس ڈیلیوری اس قدر بھی نہیں کہ وہ پاکستان کی تعلیم کو جنوبی ایشیائی ملکوں کے مساوی لے آئے۔ مگر پاکستان میں تعلیم سے وابستہ بیوروکریسی کی تعداد ہوش ربا ہے۔ عالمی بینک کی رپورٹ برائے ورلڈ وائیڈ بیوروکریٹک انڈیکیٹرز کے مطابق پاکستان میں مجموعی سرکاری ملازمتوں میں سے شعبہ تعلیم میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کی تعداد مجموعی سرکاری ملازمین کی تعداد کا 35 فیصد ہے، جو کہ جنوبی ایشیائی ملکوں میں سب سے زائد ہے۔

حکومتی سطح پر تعلیم ایک مہنگا عمل ہے، اس کےلیے وسائل دینا ہوں گے۔ ہم 1.5 سے 1.7 فیصد تعلیم پر خرچ کرتے ہیں۔ پاکستان سے چھوٹے ملک بھی 4 فیصد اخراجات کرتے ہیں۔ آدھے اسکولوں میں بنیادی سہولیات تک نہیں ہیں۔ 2018 میں ملک میں تعلیمی اخراجات پر ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی۔ اس رپورٹ میں ہر صوبہ اپنے پرائمری سطح کے بچوں پر کتنے پیسے خرچ کرتا ہے، کی تفصیلات بھی درج تھیں۔ اس رپورٹ کے مطابق مالی سال 2014 سے 2019 کے درمیان وفاقی سطح پر تعلیمی بجٹ میں 41 جبکہ صوبائی سطح پر 47 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔ قومی سطح پر پرائمری اسکول کے بچوں پر سالانہ 20145 روپے حکومتی خزانے سے خرچ ہوتے ہیں۔ جس میں آزاد جموں و کشمیر 38293 روپے، بلوچستان 37957 روپے، گلگت بلتستان 30207 روپے، اسلام آباد 27498 روپے، سندھ 23760 روپے، خبیر پختونخوا 22333 روپے، فاٹا 20903 روپے اور پنجاب 16069 روپے خرچ کرتا ہے۔

ڈاکٹر امجد وحید اس نظام کو ٹھیک کرنے کےلیے دو تجاویز دیتے ہیں۔ پہلی تجویز یہ ہے کہ اسکولوں میں احتساب کا نظام ہونا چاہیے جس میں شعبہ تعلیم سے وابستہ بیوروکریٹس، اسکولوں کے پرنسپل اور اساتذہ شامل ہوں۔ جبکہ دوسرا نظام ہے کہ اسکولوں میں تعلیم کےلیے بچوں کے والدین کو فیس واؤچر فراہم کردیا جائے اوریہ واؤچر فیس کی جگہ نجی اسکولوں میں جمع کرایا جاسکے۔

اس حوالے سے سیاسی حکومتیں بھی پریشان نظر آتی ہیں اور انہوں نے دونوں نظاموں کو اپنانے کی کوشش کی ہے۔ ایک کوشش سندھ میں کی گئی جہاں صوبائی حکومت نے آئی بی اے سکھر کی مدد سے اسکول کے بچوں کا امتحان لیا، جس میں صرف 25 فیصد طلبا ریاضی اور سائنس میں پاس ہوئے۔ حکومت سندھ نے اس پروگرام کو بند کردیا، کیونکہ نتائج سامنے آنے پر ہونے والی تنقید سیاسی حکومت برداشت نہ کرسکی۔ ہونا تو یہی چاہیے تھا کہ حکومت ان امتحانی نتائج پر اسکولوں کے پرنسپل اور اساتذہ کے احتساب کا نظام وضع کرتی اور ایسے اسکول جن کا معیار کم ہوتا انہیں بہتری کےلیے وقت دینے کے ساتھ ساتھ ان کے اساتذہ کی تربیت یا مالی مراعات میں کمی کی جاتی۔

جہاں تک فیس واؤچر اسکیم کا طریقہ کار ہے، اس حوالے سے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل بھی اپنے حالیہ خطابات میں کہہ چکے ہیں، یعنی حکومت کے پاس اسکولز بنانے کےلیے رقم نہیں تو وہ جو رقم فی بچہ خرچ کررہے ہیں، اس رقم کے مساوی واؤچر والدین کو فراہم کریں جو کہ اسکولوں میں انہیں جمع کرا کر اپنے پسند کے اسکول میں بچوں کو پڑھا سکیں۔ ان اسکولوں کے معیار کو جانچنے کا طریقہ کار بھی وہی ہونا چاہیے جو کہ سرکاری اسکولوں کا ہو۔ اور جس نجی اسکول کا بچہ مقررہ تعلیمی معیار پر پورا نہ اتر سکے اس کو اسکیم سے باہر کردیا جائے۔ کیا یہ واؤچر اسکیم قابل عمل ہے؟ اس کا جواب صوبہ پنجاب سے مل گیا ہے۔

تعلیمی واؤچر اسکیم کا اجرا صوبہ پنجاب میں ایجوکیشن واؤچر اسکیم کے نام سے صوبے کے 36 اضلاع میں کیا گیا ہے۔ جس میں شہری، دیہی اور کچی آبادیوں میں رہنے والے 4 لاکھ بچوں، جن کی عمریں 5 سے 16 سال ہیں، کو تعلیمی واؤچرز جاری کیے جارہے ہیں۔ اس اسکیم کے تحت 1730 اسکول پنجاب میں کام کررہے ہیں۔ ان واؤچرز کو اسکول فیس کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس اسکیم سے متوسط طبقے اور غریب طبقے کے بچوں کے درمیان تعلیم کا فرق ختم یا کم کیا جاسکتا ہے۔ یہ اسکیم بچوں اور ان کے والدین کو یہ آزادی فراہم کرتی ہے کہ وہ کس جگہ اور کہاں سے تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس اسکیم میں اسکولوں کی جانب سے مستحق طلبا کے نام ایک آن لائن پورٹل کے ذریعے محکمہ تعلیم کو ملتے ہیں۔ تصدیق کے بعد متعلقہ بچوں کو واؤچر اسکیم میں شامل کرلیا جاتا ہے۔

اگر یہ اسکیم کامیاب ہوتی ہے تو اس کے ذریعے نجی شعبہ حکومت کے ساتھ مل کر تعلیم کو فروغ دے سکتا ہے۔ اس اسکیم پر نگرانی اور یہ جانچنے کے لیے کہ بچوں کو معیاری تعلیم مل رہی ہے، ان کے امتحان لینے کا طریقہ کار سیکنڈری بورڈ کی طرز کی کسی آزاد اتھارٹی کے ذریعے لیا جاسکتا ہے۔ اس بحث سے یہ بات تو ثابت ہوتی ہے کہ پاکستان میں معاشی گراوٹ کی اہم وجہ تعلیم کی کمی ہے۔ اور پاکستان تعلیم میں افریقا کے ملکوں کے مساوی یا ان سے پیچھے ہے۔ جس کی بڑی وجہ ہے کہ حکومت کی جانب سے تعلیمی نظام پر خطیر رقم خرچ کرنے کے باوجود یہ نظام بچوں کو تعلیم دینے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے۔ صوبے اور وفاق سے وسائل دور دراز علاقوں کو تو چھوڑیں کراچی اور کوئٹہ جیسے شہروں کے اسکولوں تک نہیں پہنچ پا رہے۔ اس لیے واؤچر نظام کے نتائج اور اس میں خامیوں کو دور کرتے ہوئے صوبہ پنجاب سے باہر دیگر صوبوں میں بھی متعارف کرایا جانا چاہیے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

راجہ کامران

راجہ کامران

بلاگر سینئر اکانومی جرنلسٹ ہیں۔ پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا میں کام کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ ان سے ٹوئٹر ہینڈل @rajajournalist پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔