قومی اسمبلی؛ یونیورسٹیوں کے قیام کے بلز پر پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میں الجھ گئے

ویب ڈیسک  منگل 1 اگست 2023
(فوٹو : انٹرنیٹ)

(فوٹو : انٹرنیٹ)

 اسلام آباد: قومی اسمبلی اجلاس کے دوران یونیورسٹیوں کے قیام کے بلز پر حکمران اتحاد آپس میں الجھ گیا، ڈپٹی اسپیکر کی کوششوں کے باوجود پی پی اور (ن) لیگ کے درمیان تنازع حل نہ ہوسکا، اسپیکر کے چیمبر میں ہونے والے 38 منٹ کے مذاکرات بھی ناکام ثابت ہوئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر زاہد اکرم درانی کی زیر صدارت شروع ہوا جس میں متعدد بلز پیش کیے گئے اور کئی منظور ہوگئے۔

قومی اسمبلی نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں ترمیم کا بل اور توشہ خانہ بل منظور کرلیا، ایوان کے رکن ڈاکٹر رمیش کمار نے اتھارٹی برائے فروغ و تحفظ گندھارا تہذیب بل 2023ء پیش کیا اسی طرح 13 نئی جامعات کے قیام کے بلز ایوان میں پیش کیے گئے۔

ڈاکٹر رمیش کمار نے مارگلہ انٹرنیشنل یونیورسٹی بل 2023ء اور تھر انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ بل 2023ء پیش کیا۔ ڈاکٹر ذوالفقار علی بھٹی نے کنگز یونیورسٹی اسلام آباد بل 2023ء اور چناب انسٹی ٹیوٹ بل 2023ء، قیصر احمد شیخ نے کنگز انسٹی ٹیوٹ آف ہائر ایجوکیشن بل 2023ء، قادر مندوخیل نے ببرک ادارہ برائے سائنس آرٹ و ٹیکنالوجی بل 2023ء، طاہرہ اورنگزیب نے اخوت انسٹی ٹیوٹ قصور بل 2023ء اور مونارک انسٹی ٹیوٹ حیدر آباد بل 2023ء پیش کیا۔

چوہدری ارمغان سبحانی نے انسٹی ٹیوٹ آف گجرات بل 2023ء، وجہیہ قمر نے فیلکن یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی بل 2023ء، ڈاکٹر ذوالفقار علی بھٹی نے میٹرو پولیٹن یونیورسٹی بل 2023ء اور ماڈرن انٹرنیشنل یونیورسٹی آف سائنسز بل 2023ء، قادر مندوخیل نے اسلام آباد یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اینڈ ایمرجنگ ٹیکنالوجیز اسلام آباد بل 2023ء پیش کیا۔

بعدازاں 13 نئی یونیورسٹیز کے قیام سے متعلق بلوں پر قانون سازی کا عمل شروع ہوا اور اتھارٹی برائے فروغ و تحفظ گندھارا تہذیب بل 2023 قومی اسمبلی سے منظور ہوا۔ مارگلہ انٹرنیشنل یونیورسٹی بل 2023ء اور تھر انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ بل 2023ء قومی اسمبلی سے منظور ہوگیا۔

کنگز یونیورسٹی اسلام آباد بل 2023ء کی باری آئی جس پر وفاقی وزیر تعلیم نے اعتراض اٹھا دیا اور کہا کہ یہ انتہائی سنجیدہ مسئلہ ہے، اس یونیورسٹی کی کوئی بنیاد موجود نہیں، اس طرح یونیورسٹی کے بل پاس کرنے سے مسائل پیدا ہوں گے، اندازہ لگائیں کہ ارکان تعلیم سے اتنی محبت کرتے ہیں 4، 4 بل پکڑے ہوئے ہیں۔ وفاقی وزیر تعلیم کے اعتراض پر ڈپٹی اسپیکر نے بل کی منظوری موخر کردی۔

آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923ء میں ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش ہوا، بل وفاقی وزیر پارلیمانی مرتضٰی جاوید عباسی نے پیش کیا۔ آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل 2023ء قومی اسمبلی نے منظور کرلیا۔ اسے وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضٰی جاوید عباسی نے ضمنی ایجنڈے کے طور پر پیش کیا۔

توشہ خانہ ریگولیشن اینڈ مینجمنٹ بل 2023ء قومی اسمبلی میں ضمنی ایجنڈے کے طور پر منظوری کے لیے پیش کیا گیا جسے ایوان نے منظور کرلیا۔

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی بل 2023ء قومی اسمبلی سے ضمنی ایجنڈے کے طور پر پیش اور منظور کرلیا گیا۔

ببرک ادارہ برائے سائنس آرٹ اینڈ ٹیکنالوجی بل 2023ء منظوری کے لیے ایوان میں پیش کیا گیا تاہم وفاقی وزیر رانا تنویر نے بل کی مخالفت کردی جس کے بعد بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔ بل کمیٹی کو بجھوانے پر قادر مندوخیل نے احتجاج کیا اور ان کی حمایت میں خورشید شاہ میدان میں آگئے۔

اخوت انسٹی ٹیوٹ قصور بل 2023ء کی باری آئی جس پر ڈپٹی اسپیکر نے اس کے لیے رائے شماری کی ہدایات  کردی۔ یونیورسٹی کے بلوں کی منظوری پر پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں اختلاف ہوا۔ یونیورسٹیوں سے متعلق قانون سازی میں حکمران اتحاد تقسیم نظر آیا۔

وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کی والدہ طاہرہ اورنگزیب کے قصور میں یونیورسٹی کے قیام کے بارے میں قانون سازی پر حکمران اتحاد میں پھوٹ پڑ گئی۔ وزیر تعلیم رانا تنویر حسین نے طاہرہ اورنگزیب کے اخوت انسٹی ٹیوٹ بل 2023ء کی حمایت کردی او رلیگی رکن ڈاکٹر ذوالفقار علی بھٹی کی کنگز یونیورسٹی بل کی مخالفت کی۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے ارکان نے وزیر تعلیم رانا تنویر حسین کو چیلنج کردیا۔

وزیر تعلیم نے کہا کہ میں بخوبی جانتا ہوں کہ اخوت انسٹی ٹیوٹ قصور کیا کام کرے گا اس لیے سپورٹ کررہا ہوں۔ اس بیان پر ارکان نے رانا تنویر حسین کے موقف پر ایوان میں ووٹنگ کرانے کا مطالبہ کردیا۔ ووٹنگ شروع ہوتے ہی پیپلز پارٹی ارکان کی اکثریت ایوان میں پہنچ گئی اور  یونیورسٹیوں کے قیام سے متعلق بل پر قانون سازی ڈیڈ لاک کا شکار ہوگئی۔

یونیورسٹیوں کے قیام کے بلز پر حکمران اتحاد میں جھگڑا بڑھتا ہی گیا، ڈپٹی اسپیکر زاہد اکرم درانی کی کوششوں کے باوجود پیپلز پارٹی اور وزیر تعلیم رانا تنویر حسین کے درمیان تنازع حل نہ ہوسکا۔

سید خورشید شاہ کی مداخلت کے باوجود وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنے موقف پر لچک پیدا کرنے سے انکار کردیا۔ ایوان میں سید خورشید شاہ اور قادر مندوخیل نے خواجہ آصف کو یونیورسٹیوں کے بلز پیش ہونے دینے کی درخواست کی تاہم خواجہ آصف اور رانا تنویر حسین نے اپنے اور پی پی پی کے ارکان کے دباؤ میں آنے سے انکار کردیا۔

حکمران اتحاد کے درمیان اسپیکر کے چیمبر میں 38 منٹ تک مذاکرات ہوئے جو ناکام رہے۔ ڈپٹی اسپیکر زاہد اکرم درانی نے اس صورتحال میں اجلاس بدھ کی صبح 11 بجے تک ملتوی کردیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔