ہیپاٹائٹس: تشخیص، احتیاطی تدابیر اور علاج

عائشہ صدیقہ  جمعرات 3 اگست 2023
فوٹو : فائل

فوٹو : فائل

ہیپاٹائٹس جگر کی بیماری ہے، اس کے معنی جگر کی سوزش کے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق وائرل ہیپاٹائٹس عالمی سطح پر اموات کی آٹھویں بڑی وجہ ہے۔ اس وقت تقریباً 35 کروڑ سے زائد لوگ ہیپاٹائٹس بی یا سی سے متاثر ہیں۔

پاکستان میں تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس بی یا سی میں مبتلا ہیں۔ ہیپاٹائٹس کے ہر سال ڈیڑھ لاکھ نئے کیسز سامنے آتے ہیں۔ ہر سال 28 جولائی کو مرض کی آگاہی کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس خطے میں ہیپاٹائٹس کے مریضوں کا 80 فیصد بوجھ پاکستان اور مصر برداشت کرتے ہیں۔

ہیپاٹائٹس وائرس کی پانچ اہم اقسام ہیں: جن کو A B, C, D, اور E کہا جاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہیپاٹائٹس کی کچھ اقسام کو ویکسی نیشن کے ذریعے روکا جا سکتا ہے۔

ہیپاٹائٹس کن چیزوں سے ہوسکتا ہے؟

ہیپاٹائٹس اے اور ای (پیلا یرقان) عام طور پر آلودہ کھانے اور پانی سے پھیلتا ہے جبکہ ہیپاٹائٹس بی، سی اور ڈی (کالا یرقان) عام طور پر جسمانی رطوبتوں سے ایک انسان سے دوسرے میں منتقل ہوتا ہے۔ اس کا وائرس جلد، خون اور رطوبتوں کے ذریعے جگر تک پہنچ کر اسے نقصان پہنچا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ کچھ دوسرے وائرس وغیرہ ، جرثومے، کیڑے، الکوحل، کیمیکلز، دواؤں میں بہت زیادہ مقدار میں پیراسٹامول، ٹی بی اور مرگی کی کچھ دوائیں، ایڈز کی دوا، مانعِ حمل دوائیں، کچھ انٹی بایوٹکس، جگر پر چکنائی، autoimmune اور metabolic، جینیاتی وجوہات اور جگر کی نالیوں کی پیدائشی خرابی سے بھی یہ بیماری لاحق ہو سکتی ہے۔ خون کی فراہمی اچانک کم ہونے سے بھی ہیپاٹائٹس یا جگر کی سوزش ہوسکتی ہے۔

کم مدتی ہیپاٹائٹس (Acute Hepatitis) کیسے ہوتا ہے؟

کم مدتی ہیپاٹائٹس (Acute Hepatitis) چھے ماہ سے کم مدت میں ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اس کی علامات یہ ہیں: مریض کو پیٹ کے اوپر والے حصے میں درد ہوتا ہے، الٹی یا متلی رہتی ہے، تھکن بہت زیادہ ہوتی ہے، آنکھیں پیلی ہو جاتی ہیں، پیشاپ پیلا آتا ہے اور بخار بھی ہو سکتا ہے۔

٭  ہیپاٹائٹس اے کم مدتی ہوتا ہے اور مریض ایک مہینے میں ٹھیک ہو جاتا ہے۔

٭  ہیپاٹائٹس بی کے تقریباً 95 فیصد کیسز میں، جو خون یا جلد کے ذریعے ہوتے ہیں، کم مدتی ہیپاٹائٹس ہوتا ہے اور تین چار مہینے میں ٹھیک ہو سکتا ہے۔

٭  ہیپاٹائٹس سی کے دس فیصد کیسز میں کم مدتی ہیپاٹائٹس ہوتا ہے۔

کیا کم مدتی ہیپاٹائٹس (Acute Hepatitis) بگڑ سکتا ہے؟

عموماً یہ چند ہفتوں میں ٹھیک ہوجاتا ہے۔ لیکن کبھی کبھار، بہت کم ایسا بھی ہوتا ہے کہ fulminant hepatitis ہو جاتا ہے۔ اس میں جگر کا کام شدید متاثر ہونے سے مریض کے خون کے جمنے میں مسئلہ ہو جاتا ہے اور کہیں سے خون بہنا شروع ہوجاتا ہے، یا غنودگی طاری ہوکر مریض بیہوش ہوجاتا ہے۔

fulminant hepatitis کا امکان اس وقت ہوتا ہے جب :

٭  ہیپاٹائٹس بی کے ساتھ ہیپاٹائٹس ڈی ہوجائے،

٭  حمل کے دوران ہیپاٹائٹس ای ہو جائے،

٭  دواؤں سے ہیپاٹائٹس ہو،

٭  یا hepatitis autoimmune ہو۔

٭  حمل کے دوران ہیپاٹائٹس ای ہونے سے ماں کی زندگی کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اسقاطِ حمل اور وقت سے پہلے ولادت ہو سکتی ہے، اور بچے کا کم وزن ہو سکتا ہے۔

طویل مدتی یا chronicہیپاٹائٹس کیسے ہوتا ہے؟

یرقان چھ مہینے سے زیادہ رہے تو اسے hepatitis chronic کہتے ہیں۔ یا اس مریض کو (carrier) حاملِ مرض کہتے ہیں۔ یہ بغیر علامت کے بھی ہوسکتا ہے، پیچیدہ بھی ہوسکتا ہے اور دوسروں کو منتقل بھی ہو سکتا ہے۔

ہیپاٹائٹس بی اور سی سے جو جگر کی سوزش ہوتی ہے، وہ چھ مہینے سے زیادہ رہ سکتی ہے۔ عرف عام میں اسے کالا یرقان کہتے ہیں۔ ہیپاٹائٹس ڈی ان لوگوں کو ہوتا ہے جنہیں ہیپاٹائٹس بی ہوتا ہے۔ طویل مدتی ہیپاٹائٹس اس لیے زیادہ خطرناک ہے کہ اس میں جگر سکڑ جاتا ہے، جسے cirrhosis کہتے ہیں۔

Cirrhosis یا جگر سکڑنے میں کیا ہوتا ہے؟ یہ کتنے مریضوں کو اور کب ہوتا ہے؟

Cirrhosis یا جگر سکڑنے میں جگر کا کام ختم ہونے لگتا ہے۔ یہ ہیپاٹائٹس سی کے کرونک کیسز کے 30 فیصد مریضوں میں ہوجاتا ہے۔ اور یہ ہونے میں بیس سے تیس سال کا عرصہ لگتا ہے۔ اس عمل کو پلٹایا نہیں جاسکتا لیکن اسی حد پر روکنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

جگر سکڑنے یا cirrhosis سے جگر

کا کام متاثر ہونے کی علامات کیا ہیں؟

خواتین میں ایام بے قاعدہ ہونا اور چہرے پہ بال آنا، مرد و خواتین میں تلی بڑھنا، پیٹ میں پانی بھرنا، خون کی الٹی ہونا، قبض کے ساتھ کالا خون آنا ،یرقان والی علامات ہونا، گردے متاثر ہونا، جسم پر سوجن آنا، سانس سے بو آنا، ہتھیلی کا سرخ ہونا، ہاتھوں میں کپکپی اور غنودگی ہونا۔ ایسے مریضوں کو جگر کا سرطان بھی زیادہ ہوتا ہے۔ cirrhosis کے کئی اثرات اور سرطان جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔

cirrhosis کے مریض کو کیا احتیاطیں کرنا چاہیں؟

٭  قبض نہ ہونے دیں اور ہو تو اس کی دوا لے لیں۔

٭جوعلامات اوپر دی ہیں، ان میں سے کوئی شروع ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

٭  اس کے علاوہ بھی ڈاکٹر سے تفصیلی معائنہ کرواکر ضروری چیزیں مثلاً انڈوسکوپی وغیرہ کرا لیں۔

٭   سگریٹ نوشی سے بچیں، اس سے جگر کے کینسر کا امکان مزید بڑھ جاتا ہے۔

پیلیا یا یرقان ایک علامت ہے جس میں آنکھیں اور پیشاب پیلے ہو جاتے ہیں۔ یہ ہیپاٹائٹس یعنی جگر کی بیماری میں بھی ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ خون کی کچھ حالتوں اور جگر کی رطوبت میں رکاوٹ کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے۔ مثلاً پیدائشی پیلیا ہیپاٹائٹس کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ یہ لگنے والی بیماری نہیں ہے اورکچھ دن میں صحیح ہو جاتا ہے۔

ہیپاٹائٹس اے اور ای سے کیسے بچیں؟

’احتیاط علاج سے بہتر ہے۔‘ ہیپاٹائٹس اے اور ای کھانے کے ساتھ جسم میں داخل ہوتے ہیں۔ اس لیے:

٭  صاف پانی پییں۔

٭  سبزیاں، پھل دھو کر استعمال کریں۔

٭  ٹھیلے والوں کی کٹی ہوئی چیزوں کو دھو کرخود مسالہ لگالیں۔ یا اپنے سامنے دھلوائیں۔

٭  کھانے سے پہلے ہاتھ دھوئیں اور پھر کھانے کے سوا کسی چیز کو نہ لگائیں۔

٭  رفعِ حاجت کے بعد ہاتھ صابن سے دھوئیں۔ اور بچوں کو عادت ڈلوائیں۔

ہیپاٹائٹس بی اور سی سے کیسے بچیں؟

یہ وائرس خون، رطوبتوں، جنسی عمل کے ذریعے اور حمل و زچگی کے دوران ماں سے بچے میں داخل ہوتے ہیں۔ اس لیے:

٭  انجکشن لگوانے سے پہلے اطمینان کرلیں کہ سرنج پہلے سے استعمال شدہ نہیں۔

٭  صرف بہت ضروری انجکشن یا ڈرپ لگوائیں اورطبی عملہ سے بات کرکے جہاں انجکشن یا ڈرپ کے بغیر علاج ہوسکتا ہو، وہ کروائیں۔

٭  شیو خواہ خود کریں یا حجام سے کروائیں، بلیڈ یا ریزر نیا ہونا چاہیے۔

٭  ڈاکٹر یا کسی سے دانتوں کی صفائی کروائیں تو اوزاروں کی صفائی کا اطمینان کرلیں۔ اسی طرح ختنہ اور دیگر سرجری کے لیے مستند عملہ سے رجوع کریں اور اوزار کے متعلق اپنا اطمینان بھی کریں۔

٭  زچگی، ڈائلسز، انڈوسکوپی، حجامہ اور آکوپنکچر کے آلات کی صفائی کے متعلق بھی طبی عملے سے اطمینان کرلیں۔

٭  مینی کیور، پیڈی کیور، جلد پر استعمال ہونے والے بیوٹی پارلرز اور سیلونز کے دیگرآلات، ناک کان چھیدنے اور الیکٹرولسس (electrolysis) والے آلات کے متعلق بھی معلوم کریں کہ وہ جراثیم سے پاک ہوں۔

٭  خون لگوانے کی ضرورت پیش آئے تو بلڈ بینک سے تصدیق شدہ خون کو یقینی بنائیں۔

٭  جن افراد کو یہ بیماری ہے ، ان کا کنگھا اور ناخن تراش نہ استعمال کریں۔

٭  ہیروئن اور دیگر نشے سوئی کے ذریعے لیے جاتے ہیں۔ نشہ باز ایک ہی سوئی استعمال کرتے جاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ ’ہرنشہ آور چیز خمر ہے اورہر خمر حرام ہے‘ (مسلم) اس لیے نشوں سے ویسے بھی بچنا چاہیے اور اس طرح سے ہیپاٹائٹس بی اور سی اور دیگر بیماریوں کا امکان کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

٭  جسم کے کسی حصے پر نام یا نقش نہ کھدوائیں، Tattoos نہ بنوائیں۔ نبی کریمﷺ نے جسم پر گودنے سے منع فرمایا ہے۔ (بخاری) اور اللہ تعالیٰ نے گدوانے والے پر لعنت کی ہے (بخاری)۔ اللہ تعالیٰ کی لعنت سے بچنے کے لیے اس عمل سے رکیں۔ اس سے ہیپاٹائٹس بی اور سی سے بچاؤ بھی ہوتا ہے۔

٭  شریکِ حیات میں سے کسی کو ہیپاٹائیٹس بی یا سی ہے تو معالج سے مشورہ لے لیں۔ اپنے آپ کو عقدِ نکاح کے اندر تعلق تک محدود رکھیں۔ یہ گناہ سے بچاؤ کے ساتھ، صحت کے لیے بھی بہترین ہے۔

٭  ہم جنسیت، متعدد افراد سے جنسی تعلقات اور سیکس ورک ہیپاٹائٹس بی اور سی کے پھیلاؤ کا بڑا ذریعہ ہیں۔ جنسی بے راہ روی سے بچیں۔ ’زنا کے قریب بھی نہ پھٹکو‘ (سورہ بنی اسرائیل، ۳۲) اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کوعقدِ نکاح کے اندر رہنے، ہم جنسیت سے بچنے، عورتوں کے ساتھ بھی غیر فطری عمل اور ماہواری کے دوران جنسی عمل سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ ان سارے افعال سے ہیپاٹائٹس اور ایڈز کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ ناجائز ساتھی کے صحت سرٹیفکیٹ کے بجائے اصل برائی سے رکیں۔ غیر فطری اور گندے طریقوں کے بجائے فطری اور طیب طریقے اختیار کریں۔

٭  اپنا ٹوتھ برش الگ رکھیں۔

٭  کوئی کٹ یا زخم ہوجائے تو اس کی صفائی کا اہتمام کریں اور اسے ڈھک کر رکھیں۔ خصوصاً اگر کسی چیز سے انفیکشن لگنے کا امکان ہو۔

جن افراد کے ساتھ ان میں سے کوئی بے احتیاطی ہوئی ہے یا خطرے کا امکان ہے، انہیں ڈاکٹر سے پوچھ کر اپنے ہیپاٹائٹس بی اورسی کے ٹیسٹ کرانا چاہئیں۔ خصوصاً دورانِ حمل،کسی جراحت سے پہلے، جن مریضوں کا ڈائلسز ہوتا ہو یا بار بار خون چڑھتا ہو، طبی اور نیم طبی عملہ کے افراد کو ٹیسٹ کرانا چاہییں۔ گھر کے کسی فرد کو یہ بیماری ہے تو باقی افراد اپنے ٹیسٹ کرا کے اسکریننگ کروائیں اور پھر ڈاکٹر کے مشورے سے حفاظتی ٹیکے یا علاج کا اہتمام کریں۔

اگر ہیپاٹائٹس بی یا سی ٹیسٹ

میں مثبت آجائے تو کیا کریں؟

مستند ماہر ڈاکٹرسے رجوع کریں۔ ان کے علاج موجود ہیں۔ پاکستان میں ضلع اور تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں مفت ٹیسٹ اور علاج کی سہولت موجود ہے۔ اس کے علاوہ بھی ایسے ادارے موجود ہیں جو ہیپاٹائٹس کا مفت علاج کرتے ہیں۔

جن افراد کو وائرل ہیپاٹائٹس بی

اور سی ہے، وہ کیا احتیاطیں کریں؟

٭  وہ خون نہ دیں۔کہیں زخم لگ جائے یا خون نکلے تو کسی کو لگنے نہ دیں اور صاف کرلیں۔

٭  اپنا ریزر، بلیڈ، بالیاں، برش ، تولیہ دوسروں کو نہ دیں۔

٭  اپنے تمام ڈاکٹرز، خصوصاً سرجن، دانتوں کے یا جلد کے ڈاکٹر کو اپنے مرض سے آگاہ کریں۔

٭  اپنی بیماری کا کارڈ اپنے ساتھ رکھیں۔

٭  ہیپاٹائٹس سی والی ماں تشخیص کے بعد علاج کے چھ ماہ مکمل ہونے تک حمل مؤخر کردے۔

٭  ہیپاٹائٹس اے والے مریض یرقان ظاہر ہونے کے تین ہفتے بعد تک دوسروں کے لیے کھانا نہ بنائیں۔

وائرل ہیپاٹائٹس کے ساتھ رہنے والے کیا

رویہ رکھیں؟ کیا ایسے مریضوں سے دور رہیں؟

٭  مریض سے نفرت نہ کریں

٭  ان کو الگ نہ کریں۔ عام انسانوں کی طرح میل جول رکھیں۔

٭  ان کے ساتھ رہنے اور کھانے پینے میں حرج نہیں ہے۔

٭  ہیپاٹائٹس والی ماں اپنے بچے کو دودھ پلاسکتی ہے۔لیکن نپل پر زخم کا خیال رکھیں۔

الکوحل یا شراب سے ہیپاٹائٹس

کا کتنا خطرہ ہے؟

الکوحل بھی ہیپاٹائٹس کی بہت بڑی وجہ ہے۔ جن ممالک میں ان وائرس کو روکنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں، ان میں ہیپاٹائٹس کی اہم وجہ الکوحل ہے۔ ’ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور خمر حرام ہے‘ (حدیثِ نبویﷺ۔مسلم) ایک مومن کو اپنی جسمانی صحت کے ساتھ ذہنی صحت کا بھی خیال رکھنا چاہیے اور ان دونوں وجوہات سے الکوحل سے بچنا چاہیے۔ اوررسول ﷺ کی ہدایت کے مطابق اس کا ایک قطرہ بھی نہیں لینا چاہیے۔

جگر پر چکنائی کی وجہ سے جو ہیپاٹائٹس ہوتا ہے، اس سے بچنے کے لیے کیا کیا جاسکتا ہے؟

٭  رسول ﷺ کی ہدایت کے مطابق بسیارخوری سے بچیں۔ معدے کے صرف ایک تہائی حصے کو کھانے سے بھریں۔

٭  دن میں بار بار نہ کھائیں۔

٭  بہت مرغن اور تلی ہوئی چیزیں کم کردیں۔

٭  اسلام کو محنتی اور جفاکش لوگ پسند ہیں جو مشکل برداشت کرسکیں۔ تن آسانی اور عیش کوشی سے بچیں۔ جسمانی محنت والے کام کریں۔

٭  اپنے وزن کو معیار پر لانے کے لیے ڈیڈ لائن بنائیں۔ اور قوتِ ارادی کو مضبوط رکھیں۔

حجام، بیوٹی پارلرز، سیلونز، جلد پر کوئی کام کرنے والوں، ختنہ یا چھوٹی جراحت کرنے والوں کے لیے پیغام:

اپنے اوزار و آلات کی صفائی کا خیال رکھیں، انہیں جراثیم سے پاک رکھیں۔ جہاں نئے آلات استعمال کرنا ہوں ، وہ کریں۔ دوسروں کو نقصان پہنچانے کے گناہ سے بچیں۔ رسول اللہ ﷺ کی ہدایت کے مطابق دوسروں کے لیے وہ پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں۔ دین خیرخواہی کا نام ہے اور انسانوں میں بہترین وہ ہے جو لوگوں کو نفع پہنچانے والا ہے۔

کیا ان بیماریوں کے لیے

حفاظتی ٹیکوں کا فائدہ ہے؟

ہیپاٹائٹس اے اور بی کے حفاظتی ٹیکے یا ویکسین موجود ہے۔ ہیپاٹائٹس بی کے ٹیکوں کا کورس کرلیں تو زندگی بھر کے لیے بچاؤ ہوجائے گا۔ ان شاء اللہ۔

یاد رکھیں! ہیپاٹائٹس بی اور سی چھونے، چھوٹے بچوں کو پیار کرنے، ساتھ اٹھنے بیٹھنے یا ساتھ کھانے پینے سے نہیں پھیلتا۔ اس میں مبتلا افراد کے ساتھ نفرت کا رویہ اختیار کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ ان کو الگ نہیں کرنا چاہیے، عام انسانوں کی طرح ان سے میل جول رکھنا چاہیے۔ اگر آپ ہیپاٹائٹس بی یا سی کا شکار ہیں تو پریشان نہ ہوں۔ اس کا مناسب علاج موجود ہے۔ فوری طور پر کسی مستند ماہر امراض سے رجوع کریں۔ صحت اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے جس کی حفاظت اور استعمال کے متعلق سوال کیا جائے گا۔ یہ ایک امانت ہے جس میں خیانت نہیں ہونا چاہیے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: بے شک تمہارے بدن کا بھی تم پر حق ہے (بخاری)۔ مزید فرمایا: دو نعمتیں ایسی ہیں (جن کی ناقدری کر کے) اکثر لوگ نقصان میں رہتے ہیں، صحت اور فراغت (بخاری)۔ اسی اہمیت کے پیش نظر پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) کا شعبہ عوامی آگاہی برائے صحت ، عوام الناس سے رابطے کے ذریعے، جسمانی روحانی ذہنی نفسیاتی اور معاشرتی مسیحائی کے جذبے کے ساتھ ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے کوشاں ہے۔

(ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کراچی میں بطور جنرل فزیشن (میڈیسن) خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ آپ پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) خواتین ونگ کی سینٹرل ایگزیکٹو کونسل کی رکن ہیں)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔