اسرائیل کی واحد رکاوٹ

خالد محمود رسول  ہفتہ 24 فروری 2024

اسرائیل حماس جنگ کو 140روز ہو چکے، یعنی بیس ہفتے، یعنی ساڑھے چار ماہ سے زائد کا عرصہ۔ 7اکتوبر کو شروع ہوئی اس جنگ کا آغاز انتہائی خوفناک اور حیران کن تھا۔

خلاف توقع طویل ہوتی اس جنگ کی ہولناکی ہر گزرتے دن بڑھتی جا رہی ہے۔ حماس کی مسلسل مزاحمت اور فلسطینی شہریوں کی ہمت اور حوصلے نے اس جنگ میں اسرائیل کے تمام حربوں کا مقابلہ کیا، یوں کہ اب اسرائیل کے اندر سے اکثریت کا خیال ہے کہ یہ جنگ حتمی طور پر جیتی نہ جا سکے گی۔

30ہزار سے زائد فلسطینی شہریوں کی شہادت اور 70ہزار سے زائد زخمیوں اور 1400سے زائد اسرائیلیوں کی ہلاکتوں کے باوجود میدان جنگ سرد ہونے کے آثار نہیں۔ اسرائیل کے مغوی شہریوں کو بزور آزاد کرانے کی اسرائیلی فوج کی کوششیں اب تک ناکام ثابت ہوئیں گو اس کوشش میں کیا کیا تباہی اور بربادی غزہ پر مسلط نہ کی گئی۔

غیر انسانی سلوک پر انسانی حقوق کی تنظیمیں چلا اٹھیں مگر اسرائیل اور اس کے حمایتیوں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ اسرائیل کی جیلوں میں قیدیوں سے وحشیانہ سلوک کی داستانیں اور وڈیوز دردناک ہیں مگر امریکا نے جنگ بندی کی سلامتی کونسل میں قراردادوں کو مسلسل تیسری بار ویٹو کرکے اس بربریت کو مزید کھل کھیلنے کا موقع دیا۔

جنگ کے ابتدائی دنوں میں اسرائیل کے حمایتی اور پشت پناہ ممالک کے سربراہان اور وزراء اسرائیل کے ساتھ یک جہتی اور حماس کی دہشت گردی کا ذکر کرتے نہ تھکتے۔ اسرائیل کی جنگی تیاریوں، ٹیکنالوجی، اسلحے اور ساز وسامان کی برتری کا شہرہ اس قدر تھا کہ ان ممالک کو بظاہر یقین تھا کہ اسرائیل غصے میں بھنا کر غزہ پر حملہ آور ہوتے ہی اسے ڈھیر کر دے گا۔ تاہم جو ہوا اس کے برعکس ہوا۔ سالہاسال سے محصور اور مقہور غزہ کے باسیوں کی مزاحمت نے اسرائیل اور اس کے حمایتیوں کو حیران کردیا۔

اسرائیل نے ہر جنگی کوڈ آف کنڈکٹ کو پیروں تلے روندا۔ بغیر لگی لپٹی رکھے غزہ کے باسیوں کو سیف زون کے جھانسے میں ایک کونے سے دوسرے کونے ہانکا اور چن چن کر حملے کیے۔اسپتال تک خاص نشانہ بنے۔ ایک ہی الزام، یہاں حماس کے دہشت گرد چھپے ہوئے ہیں۔ایک ایک کرکے تمام اسپتال تباہ کر دیے گئے۔

آخری بڑا صحت مرکز نصر میڈیکل کمپلیکس بھی اسرائیلی فوج کی تباہی کا نشانہ بن گیا۔ اسپتال کے نزدیک کئی روز کی لڑائی کے بعد بالآخر اسرائیلی فوج نے اسپتال کی آمدورفت قبضے میں کر لی۔ نصر اسپتال میں بجلی بند اور پانی نایاب ہے۔ میڈیکل ویسٹ اور کوڑا کرکٹ کے ڈھیر جمع ہیں جو بیماریوں کا ذریعہ بن رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے اسٹاف کے مطابق اسپتال اور اس کے آس پاس کے حالات ناقابل بیان ہیں اسپتال کے اس پاس تباہ حال جلی بلڈنگز اور حد نظر ملبے کے ڈھیر ہیں۔

انتہائی شدید زخمیوں میں سے 32مریضوں کو بمشکل مصر کے نزدیکی اسپتال میں شفٹ کیا جا سکا جب کہ 130سے زائد مریض اور 15سے زیادہ ڈاکٹرز اور نرسز اسپتال میں محصور ہیں۔حماس اسرائیل جنگ شروع ہونے سے قبل غزہ میں روزانہ 500 سے زائد ٹرک مختلف النوع اشیاء کی سپلائی لے کر داخل ہوتے۔

آمدورفت کی یہ رفتار کم ہوتے ہوتے جنوری میں 200 ٹرک روزانہ تک رہ گئی۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق فروری کے دوسرے اور تیسرے ہفتے کے درمیان میں یہ تعداد فقط57ٹرک رہی۔ اشیائے خور و نوش اور روز مرہ ضروریات کی چیزوں کی قلت کی وجہ سے قحط کی سی کیفیت ہے۔ بھوک سے تنگ لوگوں نے امدادی قافلوں کو بھی لوٹا۔

سیٹلائٹ امیجز کے مطابق مصر کی جانب سے غزہ داخلے کے لیے دو ہزار سے زائد ٹرک امدادی سامان کے ساتھ تیار ہیں لیکن اسرائیلی فوج سیکیورٹی چیک کے بہانے رخنہ ڈالے ہوئے ہے۔

دو ہفتے قبل عالمی عدالت انصاف نے جنوبی افریقہ کی جانب سے دائر پٹیشن پر فیصلے میں اسرائیل کو واضح طور پر نسل کشی کا مرتکب قرار دیا ۔جنوبی افریقہ اور52دیگر ممالک نے عالمی عدالت انصاف میں ایک اور پٹیشن دائر کی ہے جس میں اسرائیل کو نسلی امتیاز کا مجرم قرار دینے اور فلسطین پر اس کا قبضہ ناجائز قرار دینے کی گزارش کی گئی ہے۔ اس پٹیشن پر دلائل جاری ہیں۔

ساؤتھ افریقہ نے عالمی عدالت انصاف سے گزارش کی کہ وہ اسرائیل کے فلسطین پر قبضے کو غیرقانونی قرار دے۔ وقتی جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں۔ اسرائیل کے مغوی واحد نکتہ ہے جس بنا پر اسرائیل مذاکرات میں شامل ہے۔

اسرائیل کی منظم طریقے سے2.3 ملین آبادی کو سیف زون کے نام پر مسلسل بمباری کرتے ہوئے غزہ کے کونے رفاہ تک محدود کرنے اور امدادی سامان کی ترسیل بلاک کرنے پر عالمی ہاہا کار اسرائیل اور اس کے حمایتیوں کے لیے سر درد ہے۔ اس لیے شاید ایک اور وقتی جنگ بندی کی صورت بن جائے۔ حماس کی کوشش ہے کہ جنگ بندی مستقل بنیادوں پر ہو جب کہ اسرائیل فلسطینیوں کو سلامتی کا راستہ دینے سے کترا رہا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی اندرونی سیاسی پوزیشن مزید کمزور ہے لیکن حکومتی اتحاد میں شامل انتہاء پسند جماعتیں اور امریکا کی کھلی کھلی آشیر باد نے انتہائی کمزور سیاسی حکومت کو خونیں دانت فراہم کر رکھے ہیں۔مغربی کنارے میں بھی جھڑپیں، پکڑ دھکڑ اور جبر کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔اندیشہ ہے کہ غزہ کے بعد مغربی کنارہ اسرائیل کی جارحیت اور بربریت کا اگلا شکار ہوگا۔

حماس اسرائیل جنگ کے دوران مسلمان ممالک کی بے بسی اور بے حسی قابل رحم ہے۔ اسرائیل نے جس انداز میں اس جنگ میں ہر اخلاقی اور قانونی ضابطے کی دھجیاں اڑائیں، اور جس بے خوف اور بلا جھجک انداز میں مغربی دنیا نے اس پر خاموشی اختیار کی بلکہ سفارتی اور سیاسی سپورٹ فراہم کی، اس نے ورلڈ آرڈر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔

ایشیاء کے بیشتر ممالک اور پولیٹیکل سائنس کے ماہرین اس امر پر متفق نظر آتے ہیں کہ انسانی حقوق اور قانون کی عملداری پر لیکچر دینے والا مغرب وقت پڑنے پر انسانی حقوق اور قوانین کو یوں آسانی سے بلڈوز کر سکتا ہے، سب کے لیے یہ سبق آموز حقیقت ہے۔ اس لیے امریکا اور یورپ کی سرداری اور اخلاقی برتری کے بھرم پر تکیہ کرنے کی ضرورت نہیں۔

مغرب نے اپنی ساکھ حماس اسرائیل جنگ میں بھک سے اڑا دی ہے۔ اب دنیا بالخصوص ایشیاء اپنے لیے مختلف سوچنے میں حق بجانب ہوگا بلکہ اس کی ضرورت ہے کہ نئے ورلڈ آرڈر کو اپنی ترجیحات کے مطابق استوار کرے۔ روس یوکرائن جنگ کے بعد چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے پہلے ہی اس تبدیلی کی بنیاد مضبوط کر دی ہے۔

حماس اسرائیل جنگ نے مسلمانوں کی عالمی بساط پر بے حسی اور موقع پرستی کو بھی آشکار کر کے رکھ دیا ہے۔ اس پس منظر میں اسرائیل اور نیتن یاہو کی وار کیبنٹ کو کھلی چھوٹ ہے کہ جو چاہے کریں۔ ان کی واحد رکاوٹ فلسطینیوں کا جذبہ حریت ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔