بھائی بہن کے پیار بھرے رشتے کے تقاضے

 جمعـء 1 مارچ 2024
بسا اوقات یہ ایک دوسرے کے خلاف ہوجاتے اور دل آزاری کا سبب بنتے ہیں۔ فوٹو : فائل

بسا اوقات یہ ایک دوسرے کے خلاف ہوجاتے اور دل آزاری کا سبب بنتے ہیں۔ فوٹو : فائل

اُم میلاد عطاریہ

اﷲ پاک کی عطا کردہ بیش بہا نعمتوں میں سے ایک نعمت خونیں رشتے بھی ہیں۔ خونیں رشتوں کا لِحاظ نہایت اہم ہے، اﷲ پاک نے قرآنِ کریم میں بھی جگہ بہ جگہ اس کا تذکرہ فرمایا اور خونیں رشتوں کا احترام کرنے کا حکم دیا ہے اور صلۂ رحمی کرنے والوں کی تحسین کی گئی ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

ترجَمہ کنز العرفان: ’’اور وہ جو اسے جوڑتے ہیں جس کے جوڑنے کا اﷲ نے حکم دیا اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور بُرے حساب سے خوف زدہ ہیں۔‘‘

اسلام نے خونیں رشتوں کو مضبوط رکھنے کے ایسے احکام بیان فرمائے ہیں کہ جن پر عمل کرنے سے نہ صرف خاندان مضبوط رہتا ہے بل کہ معاشرہ بھی مضبوط ہوجاتا ہے۔ کیوں کہ خاندان ہی معاشرے کا بنیادی جز ہے، جس کی مضبوطی معاشرے کی مضبوطی ہے۔ ان خونیں رشتوں میں ماں باپ کے بعد مضبوط، طاقت ور اور طویل رشتہ بھائی بہن کا ہے۔

بھائی بہن ساتھ اٹھتے بیٹھتے، کھاتے پیتے، اور ہنستے بولتے ہیں ان کی آپس کی یہ محبت ایک دوسرے کو طاقت فراہم کرتی ہے۔ اسلام چوں کہ نہ صرف اکمل مذہب بل کہ دینِ فطرت بھی ہے لہٰذا یہ پیارا مذہب ان تعلقات کو اچھے طریقے سے نبھانے اور ان کی پاس داری کی راہ نمائی بھی فراہم کرتا ہے۔

جہاں بھائیوں کو بہنوں کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم ہے وہیں بہنوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ بھائیوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔ بھائی بہنیں ایک دوسرے کے دکھ درد کا مداوا ہوتے ہیں، مشکلات میں ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں، لیکن بسا اوقات کچھ وجوہات کی بناء پر بہن بھائی ایک دوسرے کے خلاف ہوجاتے ہیں اور اس طرح ایک دوسرے کی دل آزاری کا سبب بنتے ہیں۔

بعض بہنوں کی یہ سوچ ہوتی ہے کہ بھابھیاں ان کی خدمت کریں، ان کے حصے کے بھی کام کریں۔ بھابھیاں گھر آجائیں تو ہر طرح کے کام انھی کے سپرد ہوں، جب کہ شرعی طور پر ایسا نہیں کہ بھابھی نند کی خدمت کرے۔ بھابھی خاندان کا حصہ ہوتی ہے اور نہ صرف بھائی کی شریک حیات ہونے کی حیثیت سے بل کہ ایک مسلمان اور اﷲ کی بندی ہونے کی حیثیت سے بھی نَندوں کے لیے قابلِ احترام ہے۔

شادی شدہ بہن اگر میکے جائے تو ہرگز یہ ذہن نہ بنائے کہ بھابھی اس کی خدمت کرے، اس کے بچوں کو سنبھالے، اس کے فرمائشی کھانے بنا کر دے، یقیناً یہ بالکل نامناسب انداز ہے۔ بل کہ بہن کو چاہیے کہ جب وہ میکے جائے تو موقع کی مناسبت سے کم وقت گزارے اور میکے میں بھی اپنے کام خود کرے بل کہ بھابھی کا بھی ساتھ دے۔

بعض بہنیں بھائی سے اس کی شریکِ حیات کے بارے میں منفی اور نازیبا باتیں کرتی ہیں جیسا کہ تمہاری بیوی گھر صاف نہیں کرتی، میں آتی ہوں تو لفٹ نہیں کراتی، اَمّی کا خیال نہیں کرتی۔ اس طرح بھائی کے دل میں اپنی زوجہ کے خلاف میل اور بدگمانی آجاتی ہے جس سے اس کا انداز اپنی بیوی سے بدل جاتا ہے اور گھر کے ماحول میں خرابیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔

اسی طرح بعض بہنیں اپنی بہنوں کو ان کے شوہروں اور سسرال کے خلاف بھی بھڑکاتی ہیں۔ یہ انتہائی بُرا عمل ہے۔اگر یہ باتیں بے بنیاد ہوں تو ایسی بہنوں کو تہمت کے گناہ کے عذاب میں مبتلا کرسکتی ہیں اور ان کی دنیا اور آخرت دونوں برباد ہوسکتی ہے۔

فرمانِ خاتم الانبیاء رسول کریم ﷺ کا مفہوم ہے:

’’جو کسی مسلمان کو ذلیل کرنے کی غرض سے اس پر الزام عاید کرے تو اﷲ پاک اسے جہنّم کے پُل پر اس وقت تک روکے گا جب تک وہ اپنی کہی بات (کے گناہ) سے اس شخص کو راضی کر کے یا اپنے گناہ کی مقدار عذاب پا کر نہ نکل جائے۔‘‘

اسلامی احکامات کے لحاظ سے کئی بہنوں کا یہ رویہ نامناسب اور درست نہیں ہے، انہیں اس سے بچنا چاہیے۔

بعض بہنوں کا یہ ذہن بھی بنتا جارہا ہے کہ بھائیوں سے کچھ نہ کچھ ملتا ہی رہے گا، کبھی خوشی کے موقع پر رسم کے نام پر تو کبھی تہوار پر رواج کی صورت میں، کبھی یہ مطالبہ ہوتا ہے کہ جب بھائی کے گھر بچہ پیدا ہو تو بہن کو کوئی قیمتی تحفہ، رقم یا سونا وغیرہ دیا جائے، اس طرح کے کئی معاملات اس طرح کی بہنیں کرتی نظر آتی ہیں حالاں کہ سوال کرنے سے تو ہر حال میں بچنا چاہیے۔

آج کل کے مہنگائی کے دور میں تو بھائی کی جیب پر اس طرح کا بوجھ ڈالنا ہرگز مناسب نہیں ہے، اپنے بھائیوں کی خوشیاں دیکھ کر ان کی نعمتوں میں اضافے کے لیے اﷲ پاک سے دعا کرنی چاہیے۔ ہاں! اگر بھائی صاحبِ حیثیت ہے، خود اپنی خوشی سے دیتا ہے جیسا کہ عموماً گھروں میں معمولی تحفے تحائف دینے کا تو رجحان ہوتا ہی ہے تو اس میں شرعی لحاظ سے کچھ حرج نہیں ہے۔

ایک معاملہ جائیداد کی تقسیم کے معاملے میں دیکھنے میں آتا ہے کہ وہ بہن بھائی جو ایک چھت کے نیچے ایک ہی ماں باپ کے زیرِ سایہ پلے بڑھے ہوتے ہیں، ان کی وفات کے بعد دنیا کی اس ذلیل دولت کے پیچھے ایک دوسرے کے سخت مخالف ہوجاتے ہیں۔ وراثت میں اگرچہ بہنوں کا حصہ شرعاً مقرر ہے لیکن بعض بہنیں شرعی تقسیم کی بہ جائے بھائیوں کے برابر حصوں کا مطالبہ کرتی ہیں جو شرعاً بھی جائز نہیں ہے اور پھر یہ بہن بھائیوں میں طویل نزاع، خونیں رشتوں کے ٹوٹنے اور کئی طرح کے اختلافات کا باعث بھی بنتا ہے۔ کہیں کہیں اس بات پر خاندان کی عزت عدالتوں کی نذر ہوجاتی ہے۔

اسلام میں وراثت کے واضح اور مکمل احکامات موجود ہیں۔ بہنوں اور بھائیوں کو بھی اس کی پاس داری کرنا چاہیے اور شریعت کی رُو سے جس کا جو شرعاً جائز حصہ بنتا ہے اَحسَن انداز میں اسے قبول کرلیا جائے اس سلسلے میں شریعت کی تعلیمات پر عمل کرنے سے کئی مسائل سے بچا جاسکتا ہے۔

بہ ہر حال ایک خاندان کی خوش حالی میں ایک بہن کئی لحاظ سے اپنا کردار ادا کر سکتی ہے لہٰذا کوشش کرنی چاہیے کہ خوش گوار اور اچھا ماحول بنا کر رکھے۔

اﷲ تعالی ہم سب کو اسلامی احکامات پر مکمل عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔