بیمار جگر کو صحت مند بنائیے

سید عاصم محمود  جمعرات 7 مارچ 2024
روزے رکھنے کا متبرک عمل نہایت اہم عضو کو ازسرنو جوان بنا کر ہمیں تندرستی کی بیش بہا دولت عطا کرتا ہے ۔ فوٹو : فائل

روزے رکھنے کا متبرک عمل نہایت اہم عضو کو ازسرنو جوان بنا کر ہمیں تندرستی کی بیش بہا دولت عطا کرتا ہے ۔ فوٹو : فائل

انسان کے بدن میں جگر فلٹریشن پلانٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اللہ تعالی نے اسی عضو کو یہ ذمے داری سونپی ہے کہ وہ انسانی جسم میں داخل ہونے والے یا پیدا شدہ زہریلے عناصر کو نکال باہر کرے۔ اسی لیے جگر خراب ہو جائے تو انسان بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔

یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ہم دل، گردوں اور دماغ کی صحت عمدہ رکھنے کے لیے تو مختلف اقدام کرتے ہیں مگر جگر کو تندرست رکھنے پہ زیادہ دھیان نہیں دیتے۔ حالانکہ اپنی اہمیت کے لحاظ سے یہ عضو دماغ، دل اور گردوں کی طرح ہی اہم ہے۔ جگر کی اہمیت کا اندازہ اس سچائی سے لگائیے کہ ماہرین کے مطابق یہ ہمارے بدن میں ’’پانچ سو سے زائد‘‘ افعال انجام دینے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔

جگر (جلد کے بعد) جسم ِ انسانی کا سب سے بڑا عضو ہے۔ جب ہم کوئی بھی چیز کھائیں یا پئیں تو جگر ہی اس سے غذائیت (Nutrients) نکال کر جسم کو فراہم کرتا ہے۔ اس غذائی چیز کا بچا کھچا حصہ ہی زہریلا کہلاتا ہے۔ وہ جگر سے گذرتے خون میں شامل ہو جاتا ہے۔ یا پھر جگر ایک مادہ، بائل (Bile) یا صفرا خارج کرتا ہے۔ یہ مادہ بھی بدن سے زہریلی چیزیں نکال باہر کرنے میں کام آتا ہے۔

جگر میں بنے جو زہر صفرا میں شامل ہوں، وہ پہلے ہماری آنتوں سے گذرتے ہیں۔ پھر فضلے کی صورت خارج ہو جاتے ہیں۔ جگر میں پیدا شدہ جو زہریلے مادے خون کا حصہ بن جائیں، ان کی صفائی گردے کرتے ہیں۔ وہ پھر پیشاب میں شامل ہو کر جسم سے باہر نکلتے ہیں۔

یہ حقیقت عیاں ہے کہ اگر جگر اور گردے خراب ہو جائیں یا اپنی ذمے داری صحیح طرح انجام نہ دیں تو رفتہ رفتہ زہریلے مادے انسانی جسم میں جمع ہونے لگیں گے۔ یہی مادے پھر انسان کو بیمار کرتے ہیں اور ان کا بروقت تدارک نہ کیا جائے تو وہ مریض کو موت کے منہ میں بھی دھکیل سکتے ہیں۔

جگر کو خرابیوں سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم خاص طور پہ اچھی غذا کھائیں۔ وجہ یہی کہ ہمارے بدن میں جگر ہی غذا کو پروسیس کرتا ہے۔ اگر ہم زیادہ کھانا کھانے لگیں۔ اور اس کھانے میں چکنائی، مسالے، چینی اور نمک زیادہ ہو تو ایسی غذا طویل المعیاد لحاظ سے جگر کو نقصان پہنچاتی ہے۔ پھر ایسی ناقص اور زیادہ غذا کو ٹھکانے لگانے کے لیے جگر کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔ یہ ضرورت سے زیادہ مشقت بھی جگر پہ منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔

ماہرین طب کی رو سے رمضان المبارک کا مقدس مہینا خصوصاً ہمارے جگر کے لیے خوش خبری اور رحمت بن کر آتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اس مہینے میں سارا دن انسان کھانے پینے سے پرہیز کرتا ہے۔ یوں جگر کو آرام و سکون کی دولت میسّر آتی ہے جو عام مہینوں میں اسے نصیب نہیں ہو پاتی۔

مشینری ہو یا کوئی بھی پرزہ، مسلسل استعمال سے وہ خراب ہو جاتا ہے۔ اسے وقتاً فوقتاً تیل یا گریس دینے کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔ کچھ ایسا ہی حال انسانی عضوؤں کا بھی ہے۔ اگر دل، جگر اور گردے خاص طور پہ مسلسل کام کرتے رہیں اور انھیں مناسب ارام نہ ملے تو ان میں خرابیاں جنم لیتی ہیں۔ یہی خرابیاں انسان میں مختلف امراض پیدا کرتی ہیں، مگر اسے عموماً سمجھ نہیں آتی کہ وہ کیوں ان بیماریوں کا شکار ہوا؟

رمضان المبارک طبی لحاظ سے انسانوں کے لیے اللہ تعالی کا بہت بڑا تحفہ ہے۔ کیونکہ اس ماہ جب مسلسل تیس دن تک روزانہ کھانے پینے سے دور رہے تو اس کے تمام اہم اعضا، خصوصاً جگر اور گردوں کو مناسب آرام مہیا ہوتا ہے۔ اور گیارہ مہینے متواتر کام کرنے سے جو خرابیاں جنم لیتی ہیں، انھیں دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔

گویا رمضان کے مہینے میں بیمار جگر کو یہ سنہرا موقع ملتا ہے کہ وہ خود کو صحت مند بنا لے اور اپنی بہت سی خرابیاں دور کر لے۔ دن کے بیشتر اوقات میں وہ فارغ رہتا ہے اور اس پہ کام کا دباؤ نہیں ہوتا۔آرام کا یہ وقفہ جگر کو اس قابل بنا دیتا ہے کہ پچھلے گیارہ ماہ کے دوران اس میں جو نقائض پیدا ہو گئے ہیں، ان کی اصلاح کر سکے۔ یاد رہے، اللہ تعالی نے جگر کو یہ خاصیت عطا فرمائی ہے کہ وہ اپنے خراب حصوں سے چھٹکارا پا کر تندرست حصے بنا سکتا ہے۔

رمضان کے مبارک مہینے جگر کو مگر اسی وقت بھرپور فائدہ پہنچتا ہے جب انسان عمدہ غذا کھائے۔ اگر سحری اور افطار میں غذا کا وافر حصہ چکنائی، تیل، نمک اور چینی پہ مشتمل ہے تو جگر کو روزوں سے وہ فوائد حاصل نہیں ہو پاتے جو کہ ملنے چاہیں۔

وجہ یہ ہے کہ ہمارے جگر کا ’’10‘‘ فیصد حصہ چکنائی کے خلیوں سے بنا ہے۔ اگر ناقص غذا کھانے کے باعث چکنائی کے خلیوں کی تعداد بڑھ جائے تو جگر میں خرابی پیدا ہوتی ہے۔ تب جگر ’’فیٹی‘‘(Fatty)کہلاتا ہے اور یہ حالت بدستور رہے تو جگر کینسر کا نشانہ بن جاتا ہے۔ رمضان میں انسان روزمرہ غذا سے پرہیز کرے تو جگر میں چکنائی کے خلیوں کی تعداد گھٹ جاتی ہے۔ یوں اسے صحت مند ہونے میں مدد ملتی ہے۔

اسی لیے دیکھا گیا ہے کہ رمضان میں بہت سے لوگ تندرستی و طبعیت میں تازگی و فرحت محسوس کرتے ہیں۔ یہ مثبت و خوشگوار تبدیلی جنم لینے کی اہم وجہ یہی ہے کہ کھانے پینے کے معمول سے نجات پا کر بیمار جگر خود کو تندرست و توانا بنا لیتا ہے۔ حتی کہ نئے خلیے پیدا ہو کر جگر جیسے اہم عضو کو ازسرنو جوان کر دیتے ہیں۔

یہ صرف دو برس قبل ہی انکشاف ہوا ہے کہ روزے کی حالت میں جگر نئے خلیے بنانے لگتا ہے۔ ورنہ اس سے قبل یہ سچائی مستور تھی۔ مگر اللہ تعالی نے صدیوں قبل ہی مسلمانوں پہ روزے فرض کر دئیے تھے تاکہ وہ روحانی کے ساتھ ساتھ جسمانی صفائی کا بہترین وسیلہ بھی بن سکیں۔

ایک اور اہم و صحت بخش نکتہ قابل ذکر ہے۔ جب جگر میں چکنائی کے خلیوں کی تعداد بڑھ جائے تو وہ سوزش (Inflammation ) کا شکار بھی ہو جاتا ہے۔ جگر کی سوزش سے پھر پورے جسم میں بھی سوزش پھیلنے لگتی ہے کیونکہ اس عضو کا احاطہ پورے بدن پہ محیط ہے۔ یوں انسان بے چینی وگھبراہٹ محسوس کرتا ہے۔ اس سوزش کو معمولی نہ سمجھیے، ماہرین کہتے ہیں کہ اسی سوزش کے باعث انسان جلد بوڑھا ہونے لگتا ہے۔ رمضان میں جب چکنائی کے خلیوں کی افزائش رک جائے تو جگر کی سوزش بھی جاتی رہتی ہے۔ جگر کو افاقہ ہونے سے جسم میں بھی سوزش کم ہوتی ہے۔ یہ تبدیلی بھی انسان کی طبیعت باغ و بہار بنادیتی ہے۔ تبھی روزوں کے بھرپور فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔

غرض رمضان المبارک کا مبارک مہینا خاص طور پہ ہمارے جگر کے لیے خوشی ومسّرت کا پیغام لاتا ہے۔ اور جب ہمارا جگر تندرست ہو جائے تو انسان بھی صحت و توانائی کی لازوال دولت پا لیتا ہے … اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔