عورت ہی مجرم کیوں؟

مہوش فضل  جمعرات 28 مارچ 2024
دنیا کے ہر حصے میں عورت ہی ظلم کا شکار ہے۔ (فوٹو: فائل)

دنیا کے ہر حصے میں عورت ہی ظلم کا شکار ہے۔ (فوٹو: فائل)

عورت ایک ماں، بہن، بیٹی، بیوی، ہر رشتے میں ہی معتبر ہے لیکن جو بے قدرے لوگ ہوتے ہیں ان کےلیے شاید یہ رشتے کھوکھلے دعووں اور تعنوں کے سوا کچھ نہیں۔

خواتین پر تشدد، خاص کر قریبی خواتین پر تشدد ایک بہت بڑا مسئلہ اور خواتین کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان میں خواتین بنیادی طور پر شادی بیاہ، ملازمت کی جگہ، جنسی ہراسانی، گھریلو تشدد اور غیرت کے نام پر قتل کے ذریعے تشدد کا سامنا کررہی ہیں۔

2024 میں اب تک صرف پنجاب میں خواتین پر تشدد کے 12 ہزارکے قریب مقدمات درج ہوچکے ہیں اور جو مقدمات درج نہیں کروائے گئے وہ الگ ہیں۔ گھریلو تشدد صرف جسمانی ہی نہیں ہوتا ایک عورت کی عزت نفس کو مجروح کرنا بھی تشدد کا حصہ ہے۔

عورت پر تشدد اور ہراسانی کوئی نئی بات نہیں، ہر دور ہر معاشرے میں عورت کی ذات کو ہی مجروح کیا جاتا ہے، مجرم نہ ہوتے ہوئے بھی اسے مجرم ٹھہرایا جاتا ہے۔ پاکستان کے کسی بھی خطے میں عورت اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتی ہے۔ ذہنی دباؤ اور فیملی ٹارچر سے تنگ آکر لڑکیاں کچھ غلط کام کرنے پر بھی مجبور ہوجاتی ہیں۔

کچھ دنوں پہلے کی بات ہے، ہمارے علاقے میں ایک فیملی رہائش پذیر تھی۔ بہت ہی باپردہ، گھر سے نہیں نکلنا، عورت کو سات پردوں میں رکھنے کے پابند، لیکن لڑکی نے پسند سے شادی کرنے کی خواہش ظاہر کی اور یہی خواہش اس کو بدکرداری کا دھبہ دے گئی۔ احادیث میں بھی لڑکا یا لڑکی کی مرضی جاننے کے بارے میں درج ہے، پھر یہ دقیانوسی سوچ کیوں؟ خیر لڑکی پر تشدد کیا گیا۔ اس سارے عمل سے لڑکی باغی ہوئی اور گھر سے بھاگ کر کورٹ کا سہارا لیا۔ کورٹ میں نکاح تو ہوگیا لیکن کیا وہ ان دونوں کو تحفظ فراہم کرپائے گا؟ یہ بھی ایک سوالیہ نشان ہے، کیونکہ اکثر ایسے کیسز میں کورٹ تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہی رہا ہے، سیکڑوں جوڑوں کو کورٹ کی سیڑھیوں پر ہی موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔

پاکستان میں برسوں سے غیرت کے نام پر قتل ہورہے ہیں لیکن کئی بار اس طرح کے قتل کو جرم کی حیثیت سے نہیں دیکھا جاتا۔ اس سب کو روکنے کے لیے قانون بھی موجود ہے لیکن خواتین ہر دور میں مظلوم ہی رہیں۔ ’جہیز اموات‘ کو پاکستان میں گھریلو تشدد کی ایک شکل قرار دیا ہے۔ اگر سسرال والے دلہن کا جہیز ناکافی سمجھتے ہیں تو ان پر زندگی تنگ کردی جاتی ہے اور کئی خواتین کو قتل بھی کیاگیا ہے۔

ہر دور میں، ہر حال میں، گھر ہو یا آفس ہمیشہ ایک عورت ہی کیوں یہ سب برداشت کرتی ہے؟ عورت ہی کیوں مجرم ٹھہرائی جاتی ہے؟ بس اسٹاپ پر کھڑے کوئی اوباش آپ کو تنگ کر رہا ہے تو اس کو سبق سکھانے کے بجائے کہا جاتا ہے آپ اپنی کنوینس لگوا لیں۔ یہ جانے پوچھے بغیر مشورہ دیا جاتا ہے کہ کوئی مجبوری سے باہر نکلتا ہے۔ کسی پارک میں لڑکیاں جائیں تو ان کو ہراساں کرنے والوں کو کچھ نہیں کہا جاتا، لڑکیوں کو کہا جاتا ہے آپ یہاں کیا کرنے آئی تھیں؟

کیسا لباس پہنا ہے، گھر سے باہر کیوں جارہی ہے، برقعہ کیوں نہیں پہنا، چادر کیوں نہیں لی وغیرہ۔ اگر بیوی ہے تو کھانا کیوں نہیں بنا، سوئی کیوں ہوئی ہو، کپڑے استری نہیں ہوئے، چھوٹی چھوٹی بات پر مارپیٹ، کیا عورت صرف اس لیے ہی بنائی گئی ہے کہ ہر کوئی اسے چابی کے کھلونے کی طرح چلانے کی کوشش کرے اور جب دل بھر جائے تو توڑ دو۔

پاکستان میں تیزاب گردی کی متعدد وجوہات بتائی گئی ہیں، جیسے عورت نامناسب لباس زیب تن کرتی ہے یا شادی کی تجویز کو مسترد کرتی ہے۔ تیزاب حملے کی پہلی معلوم مثال مشرقی پاکستان میں 1967 میں ہوئی تھی۔ ہر سال 150 تک حملے ہوتے ہیں۔ ان حملوں کا نتیجہ اکثر گھریلو زیادتیوں میں اضافہ ہوتا ہے، اور زیادہ تر متاثرین خواتین ہیں۔

غربت سے عموماً جہالت اور گھریلو تشدد کو جوڑا جاتا ہے۔ مالی وجوہات کی بنا پر تعلیم کی کمی ہی خواتین کے حقوق کے بارے میں شعور کی کمی پیدا کرتی ہے۔ مزید برآں، چونکہ کم آمدنی والے علاقوں میں ذہنی صحت کی ناخواندگی خاص طور پر پھیلی ہوئی ہے، بہت ساری خواتین گھریلو تشدد کے بعد مناسب علاج معالجہ حاصل نہیں کرسکتیں۔

کچھ معاملات میں، خود خواتین خاص طور پر ساس، بہو کے سلسلے میں پدرسری اور گھریلو زیادتی کو ہمیشہ برقرار رکھتی ہیں۔ بہت سی خواتین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ گھریلو ملازم ہوں اور کلیدی گھریلو فرائض سرانجام دیں، تاہم، اگر کوئی عورت اپنی ساس کے معیار کے مطابق اپنے فرائض سرانجام نہیں دے رہی ہے تو ساس اس عورت کو اپنے بیٹے کے ذریعے سزا دینے کی کوشش کرتی ہے۔ اور یہ ساس ہمیشہ اس بات کو فراموش کرجاتی ہے کہ وہ خود بھی عورت ہے اور وہ بھی اسی مقام سے گزر کر یہاں تک پہنچی ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

مہوش فضل

مہوش فضل

بلاگر نجی نیوز چینل سے بطور پروڈیوسر وابستہ ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔