پاکستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی’’را‘‘کی دہشت گردی

سید عاصم محمود  اتوار 21 اپريل 2024
بین الاقوامی اصول وقوانین پیروں تلے پامال کر کے بھارت کے ایجنٹ دن دیہاڑے پاکستانیوں کو نشانہ بنانے لگے…خصوصی رپورٹ
 ۔ فوٹو : فائل

بین الاقوامی اصول وقوانین پیروں تلے پامال کر کے بھارت کے ایجنٹ دن دیہاڑے پاکستانیوں کو نشانہ بنانے لگے…خصوصی رپورٹ ۔ فوٹو : فائل

کشمیر اورفلسطین کے مسائل نے پچھلے پچھتر برس سے عالم اسلام میں بے چینی وانتشار پیدا کر رکھا ہے۔

یہ دونوں مسائل مغربی طاقتوں کی پیداوار ہیں جنھوں نے اپنے مفادات کی خاطرجموں وکشمیر و فلسطین کے اکثریتی مسلم علاقے بھارتی و اسرائیلی حکمران طبقے کے سپرد کر دئیے۔1947ء سے یہی مغربی طاقتیں بھارت اور اسرائیل کی ڈھال بنی ہوئی ہیں۔دونوں ممالک نے کشمیر ی و فلسطینی مسلمانوں پہ جو خوفناک ظلم وستم کیا ہے،وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔

عالم اسلام کا المیہ

المیّہ یہ ہے کہ مسلمان دو ارب سے زائد ہونے کے باوجود یہ قوت نہیں رکھتے کہ بھارتی واسرائیلی ظالم حکمرانوں کو اپنے کشمیری وفلسطینی برادران ِ اسلام پہ ظلم توڑنے سے روک سکیں۔مادہ پرستی، ذاتی مفادات، عیش وعشرت کی طلب اور نااتفاقی نے اس اتحاد ِ امت کو قصہ ِ پارنیہ بنا دیا جو کبھی مسلمانوں کا طرہ امتیاز ہوا کرتا تھا۔یک جہتی کے اسی فقدان کے باعث مسلم دشمن قوتوں کے حوصلے اتنے بلند ہو چکے کہ انھوں نے اسلامی ممالک کے اندر اپنے ایجنٹوں کی مدد سے سازشوں اور دہشت گردی کا بازار گرم کر دیا ہے۔

مجاہدین جو صف آرا ہوئے

مغربی طاقتوں کی مسلم دشمن سازشوں کے خلاف سب سے پہلے سلطان میسور، حیدر علیؒ نے تلواراٹھائی۔اس کے بعد امام بونجول ؒ(انڈونیشیا)، امام شاملؒ (چیچنیا)، شیر ِ میسور ٹیپو سلطانؒ، مولوی احمد اللہؒ، جنرل بخت خانؒ، حضرت محلؒ، عبدالقادر الجزائریؒ، محمد احمد (سوڈان)، محمد عبداللہ حسنؒ المعروف بہ پاگل ملا (صومالیہ)، عمر المختارؒ (لیبیا) اور عزالدین قسامؒ (فلسطین) جیسی زبردست مسلم شخصیات نوآبادیاتی مغربی طاقتوں سے نبرآزما رہیں اور اس دوران اپنی زندگیوں کا نذرانہ بھی پیش کیا۔

دور جدید میں فلسطینی مجاہد ، عزالدین قسام پہلے مغرب مخالف رہنما ہیں جنھوں نے ارض فلسطین سے یہود ونصاری کا قبضہ ختم کرنے کے لیے1930 ء میں ایک گوریلا تنظیم ،الکف الاسود (Black Hand) کی بنیاد رکھی۔ اس کے بعد مصر، شام، پاکستان ، انڈونیشیا اور دیگر مسلم ممالک میں ایسی تنظیمیں وجود میں آ گئیں جو مغربی طاقتوں سے نبردآزما ہوئیں۔

 خطرناک عمل

جب مغرب نواز مسلم حکمرانوں نے اپنے آقاؤں کے حکم پہ ان گوریلا تنظیموں کو نشانہ بنایا تو ان کے لیڈر اپنی حکومتوں کے بھی مخالف بن گئے۔ 1981ء میں مصری صدر، انورالسادات ایسی ہی ایک گوریلا تنظیم کا ٹارگٹ بن کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔رفتہ رفتہ اس عجوبے نے جنم لیا کہ امریکا، برطانیہ، اسرائیل اور بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کے ایجنٹ بھیس بدل کر مسلم گوریلا تنظیموں میں شامل ہو گئے۔یہ ایک نہایت خطرناک عمل ثابت ہوا۔

وجہ یہ ہے کہ غیر ملکی خفیہ ایجنسیاں اسلامی مزاحمتی تنظیموں کو سرمایہ اور اسلحہ فراہم کرنے لگیں ۔مدعا یہ تھا کہ وہ اسلامی ممالک میں اپنی گوریلا کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر سکیں۔اس حکمت عملی کے نتیجے میں کئی اسلامی ممالک خانہ جنگی کا نشانہ بن گئے۔ وہاں سے امن وسکون رخصت ہوا اور معاشی ، معاشرتی و سیاسی انتشار نے پر پھیلا لیے۔

بھارتی منصوبہ

بھارتی خفیہ ایجنسیوں، خاص طور پہ ’’را‘‘  نے ان گوریلا تنظیموں کو ٹارگٹ بنایا جو پاکستان اور افغانستان میں سرگرم عمل ہیں۔پاکستان عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت ہونے کے ناتے مغربی طاقتوں کا خاص نشانہ ہے۔یہ طاقتیں پاک وطن کو کمزور کرنے کے لیے خفیہ وعیاں کارروائیوں میں منہمک رہتی ہیں۔ان کی ایک حکمت عملی یہی ہے کہ پاکستان دشمن تنظیموں کو اسلحہ و سرمایہ دیا جائے تاکہ وہ وقتاً فوقتاً ریاست کو نقصان پہنچا سکیں۔مثلاً حال ہی میں دہشت گردوں نے نوشکی میں بس پہ سوار پاکستانی شہید کر دئیے۔یہ واقعہ پاکستان میں تعصب اور انتشار پھیلانے کی عالمی سازش کا حصہ ہے جسے بھارتی خفیہ ایجنسیاں عملی جامہ پہنا رہی ہیں۔

فی الوقت حکمرانوں کی نااہلی کے باعث وطن عزیز معاشی بحران سے گذر رہا ہے۔اسی سے فائدہ اٹھا کر پچھلے تین برس سے اپنے حکمران طبقے کی ایما پہ بھارتی خفیہ ایجنسی، را نے پاکستان میں تحریک آزادی کشمیر اور خالصتان تحریک کے لیڈروں اور کارکنوں کو اپنا ٹارگٹ بنا رکھا ہے۔

برطانوی اخبار کی رپورٹ

آج بھی کئی پاکستانی یہ سمجھتے ہیں کہ بھارت کی خفیہ ایجنسیاں پاکستان میں دہشت گردی نہیں کراتیں بلکہ’’ اپنے‘‘ہی اس میں ملوث ہیں۔ لیکن کچھ عرصہ قبل مغربی طاقت، برطانیہ کے ایک موقر و مقبول اخبار، گارڈین میں شائع مضمون ’’Indian government ordered killings in Pakistan, intelligence officials claim‘‘ نے یہ سچائی افشا کر دی کہ بھارتی حکمران طبقہ پاکستان میں دہشت گردی کرانے میں براہ راست ملوث ہے۔یہ مضمون بھارتی اور پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کے افسروں و اہل کاروں سے ہوئی گفتگو کی مدد سے تیار کیا گیا۔

’’را‘‘کے ٹھکانے

اس مضون نے یہ انکشاف کیا کہ بھارتی خفیہ ایجنسیاں متحدہ عرب امارات میں اپنے ٹھکانے بنانے میں کامیاب رہی ہیں۔یہ ٹھکانے بظاہر سول عمارتیں ہیں مگر وہاں مقیم بھارتی را کے ایجنٹ ہیں۔انہی بظاہر مسلمان ایجنٹوں کے ذریعے را پاکستان اور افغانستان میں مصروف عمل جرائم پیشہ گروہوں اور جہادی تنظیموں سے رابطے کرتی ہے۔را نے مارشیس، مالدیپ اور نیپال میں بھی اپنے ’’سلیپنگ سیل‘‘ قائم کر لیے ہیں۔وہاں سے بھی ٹارگٹ کلرز کو معاوضہ ادا کیا جاتا ہے۔

طریق واردات

بھارتی خفیہ ایجنسیوں کا طریق واردات سادہ ہے۔انھیں پاکستان یا کسی بھی ملک میں اپنے ٹارگٹ کو نشانہ بنانا ہو تا تو وہ سب سے پہلے مقامی مجرموں سے رابطہ کرتی ہے۔اگر کوئی گروہ ٹارگٹ کو ختم کرنے پہ آمادہ ہو جائے تو اسے منہ مانگی رقم دی جاتی ہے۔معاوضہ ملنے پہ گروہ کے ٹارگٹ کلر اپنے نشانے کو گولیاں مار ہلاک کر دیتے ہیں۔

جس علاقے میں مجرم پیشہ گروہ متحرک نہ ہوں تو وہاں بھارتی خفیہ ایجنسیاں دوسرا طریق واردات اپناتی ہیں۔ان کے ایجنٹ پاکستان دشمن نظریاتی گروہوں میں نفوذ کر کے یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ فلاں شخص مرتد وکافر ہے۔اس کو قتل کرنے سے قاتل کو بہت اجر و ثواب ملے گا۔یہ شخص وہی ہوتا ہے جسے بھارتی اسٹیبلشمنٹ اپنی راہ سے ہٹانا چاہتی ہے۔یوں نظریاتی تنظیموں کے کسی نہ کسی لیڈر یا کارکن کے جذبات بھڑکا کر را کے ایجنٹ اسے اپنے ٹارگٹ کو ختم کرنے پہ آمادہ کر لیتے ہیں۔

بھارت کے ٹارگٹ کو قتل کرنے والا یہی سمجھتا ہے کہ اس نے مسلمانوں کو ایک مرتد وغدار سے چھٹکارا دلا دیا۔اسے یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ مسلم وپاکستان دشمن قوتوں کا آلہ کار بن چکا اور اپنی سرگرمیوں سے الٹا ایک اسلامی مملکت کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

بھارتی خفیہ ایجنسیوں کا تیسرا طریق واردات یہ ہے کہ وہ پاکستان و اسلام دشمن تنظیموں کو ہر قسم کے مالی و عسکری وسائل مہیا کرتی ہیں۔مقصد یہی ہے کہ وہ اپنی دہشت گردانہ سرگرمیوں سے مملکت پاک و اسلامی ممالک کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچا سکیں۔بھارتی حکمران طبقہ بظاہر یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ پاکستان کا بھلا چاہتا ہے اور اس کی سالمیت کے درپے نہیں۔

خفیہ جنگ

گارڈین کی رپورٹ سے مگر عیاں ہے کہ بھارتی اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان کے خلاف خفیہ جنگ چھیڑ رکھی ہے۔اس جنگ کے ذریعے پاکستان میں وقتاً فوقتاً دہشت گردانہ کارروائیاں کی جاتی ہیں تاکہ پاکستان کبھی معاشی، معاشرتی اور سیاسی طور پہ مستحکم نہ سکے۔بھارتی حکمران طبقہ یہ ہرگز نہیں چاہتا کہ پاکستان ایک ترقی یافتہ اور خوشحال مملکت بن جائے۔اور بدقستی سے پاکستان کو بھی ایسے قابل و باصلاحیت حکمران نہیں ملے جو اس آزاد دیس کے بانیوں کے سبھی خوابوں کو عملی روپ عطا کر دیتے۔

پچھلے پندرہ برس میں اپنی بے پناہ آبادی اور مغربی طاقتوں کی بھرپور مدد کے باعث بھارت معاشی طور پہ مضبوط ہو گیا۔بھارتی حکومت کے پاس اب پیسے کی فراوانی ہے۔

اسی لیے بھارتی اسٹیبلشمنٹ پیسا پانی کی طرح بہا کر پاکستان ہی نہیں امریکا، برطانیہ اور کینیڈا جیسی بڑی مغربی طاقتوں کی سرزمین پر بھی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہے۔نوجوان کینیڈین وزیراعظم نے اس بات پہ مودی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیا مگر وہ بھی بھارت کے خلاف کوئی ٹھوس عملی قدم نہیں اٹھا سکا۔

اقوام متحدہ ایک باندی!

مغربی طاقتوں کے اسی بے پروا رویّے کی وجہ سے اسرائیل اور بھارت کا حوصلہ بلند ہوتا ہے اور وہ اپنے معاصرین کے خلاف شیطانی کارروائیاں جاری رکھتے ہیں۔اقوام متحدہ تو مغربی قوتوں کی باندی ہے۔اس باعث وہ بھی بھارت اور اسرائیل کو روکنے کی طاقت نہیں رکھتی اور بس زبانی کلامی تنقید کر کے سمجھتی ہے کہ اس کا فرض پورا ہو گیا۔

گناہ کا پہلی بار اعتراف

بھارت اس سے قبل غیر ممالک میں ہوئے قتل میں ملوث ہونے کی تردید کرتا رہا ہے۔ لیکن گارڈین رپورٹ کی اشاعت کے بعد بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اس بات کی تصدیق کرتے نظر آئے کہ بھارت نے پاکستان میں چھپے دہشت گردوں کو نشانہ بنایا ہے۔

’’اگر کسی پڑوسی ملک سے کوئی دہشت گرد بھارت کو پریشان یا یہاں دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے مناسب جواب دیا جائے گا۔‘‘ سنگھ نے جمعہ کو ایک بھارتی ٹی وی نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ۔’’اور اگر وہ پاکستان فرار ہو گیا تو ہم پاکستان جائیں گے اور وہاں اسے مار ڈالیں گے۔‘‘

سنگھ نے کہا کہ ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے واضح کیا ہے کہ یہ پالیسی “صحیح” ہے اور بھارت کے پاس ایسا کرنے کی صلاحیت ہے۔ پاکستان نے بھی اسے سمجھنا شروع کر دیا ہے۔اس طرح بھارت نے سرکاری طور پہ پہلی بار غیر ملکی سرزمین پر اپنے کارندوں کے ذریعے کسی قتل کا اعتراف کر لیا۔

مودی کی عیاری

بھارت میں جلد الیکشن ہونے والے ہیں۔نریندر مودی ایک عیار و چالاک لیڈر ہے۔اس نے گارڈین کی منفی رپورٹ کو اپنی دلیری کا چرچا کرنے والا ہتھیار بنا لیا۔اس نے ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا:’’آج کا بھارت حملہ کرنے کے لیے دشمن کے علاقے میں جا رہا ہے۔‘‘گویا مودی یہ کہنا چاہتا ہے کہ اس کے دور ِ حکومت میں بھارت عسکری طور پہ اتنا طاقتور ہو چکا کہ اب وہ دشمن کے گھر میں گھس کر اپنے دشمنوں کو مارنے کی قوت وصلاحیت رکھتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسیاں پچھلے پچاس برس سے پاکستان میں اپنی شیطانی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ان کی کارروائیوں کی وجہ سے پاک وطن میں سیاسی و معاشرتی انتشار بڑھا اور مختلف قومیتوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوششیں کی گئیں تاکہ قومی اتحاد ویک جہتی کو کمزور کیا جا سکے۔مودی نے بس اقتدار سنبھال کر اپنی خفیہ ایجنسیوں کو کھلی چھٹی دے دی۔اس کے باوجود وہ پاکستان کا بال بیکا نہیں کر سکا۔سچ یہ ہے کہ پاکستان کو زیادہ نقصان غیروں نہیں اپنوں کی نااہلی ، کرپشن اور ذاتی مفادات پورے کرنے کی ہوس نے پہنچایا۔

 مبینہ تبدیلی

ہندوستانی انٹیلی جنس کارکنوں نے گارڈین کو بتایا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کی پالیسی میں مبینہ تبدیلی 2019 ء میں پلوامہ حملے کے بعد آئی ۔ان کا دعوی ہے، تب پاکستان میں مقیم مزاحمتی گروپ، جیش محمد کے عسکریت پسندوں نے کشمیر میں چالیس نیم فوجی بھارتی اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔

ہندوستانی انٹیلی جنس عہدیداروں نے دعویٰ کیا کہ بھارتی اسٹیبلشمنٹ نے اسرائیل کی خفیہ ایجنسی، موساد کی بین الاقوامی سرگرمیوں اور استنبول میں سعودی سفارت خانے میں 2018 ء میں سعودی صحافی و منحرف جمال خاشقجی کے قتل جیسے واقعات سے تحریک حاصل کی ۔

بیس مار دئیے گئے

پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے عہدیداروں نے گارڈین کو ہلاکتوں کی تحقیقات سے متعلق تفصیلی شواہد دکھائے جو مبینہ طور پر را کی طرف سے کیے گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں بیس تک کی ہلاکتوں میں بھارت کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ہندوستانی انٹیلی جنس کارکنوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا جیسے مغربی ممالک میں رہنے والے سکھ کارکن، جو علیحدگی پسند خالصتان تحریک کے پرزور حمایتی تھے، 2020 ء کے بعد را کی غیر ملکی کارروائیوں کا مرکز بن گئے ۔

واشنگٹن اور اوٹاوا کی طرف سے بھارت عوامی طور پر کینیڈا میں خالصتانی سکھ کارکن ،ہردیپ سنگھ نجار کے قتل اور گزشتہ سال امریکہ میں ایک اور سکھ، گروپتونت سنگھ پنوںپر قاتلانہ حملے میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔ بھارت نے نجار کے قتل میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ اور اطلاعات کے مطابق ایک داخلی تحقیقات نے پنون کے قتل کی ناکام کوشش کا الزام ایک “بدمعاش ایجنٹ” پر لگایا ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی گارڈین کی رپورٹ پر ردعمل دیا۔ اس نے کہا “اس نے پاکستان کے اندر بھارتی سپانسر شدہ دہشت گردانہ کارروائیوں کی بڑھتی ہوئی نفاست اور ڈھٹائی کو بے نقاب کر دیا ۔اس میں کینیڈا اور امریکہ سمیت دیگر ممالک میں مشاہدہ کیے جانے والے نمونے یا پیٹرن سے زبردست مماثلت پائی جاتی ہے۔”

پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سینئر عہدیداروں نے گارڈین کو بتایا کہ انہیں 2020 ء سے لے کر اب تک بیس ہلاکتوں میں بھارت کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔اس ضمن میں انہوں نے گواہوں کی شہادتوں، گرفتاری کے ریکارڈ، مالی بیانات، واٹس ایپ پیغامات اور پاسپورٹ سمیت سات مقدمات میں پیش کیے گئے شواہد کی طرف اشارہ کیا۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پاکستانی سرزمین پر اہداف مارنے کے لیے بھارتی جاسوسوں کی طرف سے کی جانے والی کارروائیوں کو تفصیل سے ظاہر کرتے ہیں۔ دی گارڈین نے دستاویزات دیکھی لیکن ان کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔پاکستانی انٹیلی جنس ذرائع نے دعویٰ کیا کہ 2023ء میں ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔بھارت پر تقریباً پندرہ افراد کی ہلاکتوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا۔ بیشتر کو نامعلوم بندوق برداروں نے قریب سے گولی ماری تھی۔

گارڈین رپورٹ شائع ہونے کے بعد بھارت کی وزارت خارجہ نے تمام الزامات کی تردید کی، اور اپنے ایک پہلے والے بیان کو دہرایا کہ’’یہ مضمون جھوٹا اور بدنیتی پر مبنی ہندوستان مخالف پروپیگنڈہ مہم کا حصہ ہے۔‘‘ وزارت نے بھارت کے وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر کی طرف سے کی گئی سابقہ تردید پر زور دیا کہ دوسرے ممالک میں ٹارگٹ کلنگ “حکومت ہند کی پالیسی نہیں ہے”۔

پاکستانی سیکورٹی اداروں کو اب زیادہ مستعدی اور چوکسی سے کام کرنا ہو گا تاکہ دشمن کے ناپاک عزائم خاک میں ملائے جا سکیں۔بھارت نے پاکستان کے خلاف عالمی سطح پر جو دہشت گردانہ اور معاشی جنگ چھیڑ رکھی ہے، انشااللہ اس میں اسے شکست فاش ہو گی۔

جو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے

بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کے کارندوں نے پاکستان میں مقبوضہ کشمیر میں سرگرم عمل گوریلا تنظیموں کے سابقہ یا حالیہ رہنماؤں کو نشانہ بنایا۔جبکہ تحریک خالصتان کے وہ لیڈر بھی اس مذموم قتل عام کا ٹارگٹ بنے جنھوں نے بھارتی حکومت کے مظالم سے بچ کر پاکستان میں پناہ لے رکھی تھی۔یہ سبھی قتال نامعلوم افراد نے انجام دئیے۔اگر پاکستانی سیکورٹی فورسزنے کسی قاتل کو گرفتار کی ہے تو اس کی تفصیل منظرعام پہ نہیں آ سکی۔شاید اس کے ذریعے پاکستانی قومی سلامتی کے ادارے پاکستان میں موجود’’ را‘‘ کے سبھی ایجنٹوں تک پہنچنا چاہتے ہیں۔

بھارت کا حکمران طبقہ طاقت کے نشے میں بدمست ہو گیا ہے۔وہ تمام عالمی اصول و قوانین کی نفی کرتے ہوئے پاکستان میں دُراندازی کر رہا ہے۔پاکستان ایک امن پسند ملک ہے لیکن وہ اپنے دفاع سے غافل نہیں۔دشمن کی شیطانی چالوں کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ذیل میں ان شخصیات کا تعارف پیش ہے جو پاکستان میں یا بیرون ملک بھارتی ایجنٹوں کا نشانہ بن کر دنیا سے رخصت ہو گئیں۔

٭…عامر سرفراز تمبا (14اپریل 2024ء )

لاہور کے اس رہائشی نے 2013ء میں کوٹ لکھپت جیل میں بھارتی جاسوس، سربجیت سنگھ کو ساتھی کے ساتھ مار ڈالا تھا۔چودہ اپریل کو ہیلمٹ پہنے موٹر سائیکل سواروں نے اسے گولیاں مار کے ہلاک کر دیا۔

٭… داؤد ملک (21 اکتوبر 2023 ء )

تحریک آزادی کشمیر کے معروف لیڈر، مولانا مسعود اظہر کے قریبی ساتھی ۔لشکر جبار نامی تنظیم کے بانی جو مقبوضہ کشمیر میں سرگرم ہے۔بھارت مخالف سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ انھیں شمالی وزیرستان میں نامعلوم مسلح افراد نے گولی مار کر شہید کر دیا۔

٭… شاہد لطیف (11 اکتوبر 2023ء)

مقبوضہ کشمیر میں سرگرم تنظیم ، جیش محمد (JeM) سے رہنما۔ ہندوستانی سیکورٹی ایجنسیوں کی انتہائی مطلوب فہرست میںشامل تھے ۔بھارت کا دعوی ہے کہ آپ 2016 ء کے پٹھانکوٹ حملوں کے ماسٹر مائنڈ تھے جن کے نتیجے میں سات بھارتی سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔ انہیں پاکستان کے شہر سیالکوٹ میں نامعلوم مسلح افراد نے شہید کر دیا۔

٭… ضیاء الرحمان (29 ستمبر 2023ء)

لشکر طیبہ (ایل ای ٹی) کے رکن۔بھارتی حکومت کی رو سے رحمان نوجوانوں کو بھارت کے خلاف بنیاد پرست بنانے میں ملوث تھے۔ انھیں کراچی میں موٹر سائیکل سوار نامعلوم حملہ آوروں نے گولی مار کر شہید کر دیا۔

(4) سکھدول سنگھ (21 ستمبر 2023ء)

سکھا دونیکے کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ سکھدول ایک خالصتانی رہنما ، ارشدیپ سنگھ سے منسلک تھا ۔ کینیڈا میں مقیم تھا۔ اسے کینیڈا کے شہر ونی پیگ میں قتل کر دیا گیا۔

٭… ابو قاسم کشمیری (8 ستمبر 2023ء)

جموں سے تعلق رکھنے والے کشمیری رہنما۔لشکر طیبہ سے منسلک۔محمد ریاض احمد کے نام سے بھی جانے گئے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سیکورٹی فورسز پہ حملوں میں حصہ لیا۔آپ کو راولا کوٹ میں القدس مسجد میں نماز پڑھتے ہوئے ہیلمٹ پہنے نامعلوم فرد نے گولیاں مار کر شہید کر دیا۔

٭… سردار حسین آرائیں (1 اگست 2023ء)

لشکر طیبہ کے ایک کارکن اور حافظ سعید کے قریبی ساتھی۔ آرائیں جماعت الدعوہ کے مدرسہ نیٹ ورک کے ذمہ دار تھے۔ انہیں کراچی کے علاقے نواب شاہ میں ان کی دکان کے قریب گولی مار کر شہید کیا گیا۔ سدھودیش انقلابی آرمی (SRA) نے ان کے قتل کی ذمہ داری قبول کی ۔

٭… ہردیپ سنگھ نجار (19 جون 2023ء)

خالصتان ٹائیگر فورس کے سربراہ اور گرو نانک سکھ گرودوارہ صاحب کے سربراہ نجار کو گرودوارہ کے احاطے میں ہی قتل کر دیا گیا۔ مختلف مزاحمتی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے وہ بھارتی حکمران طبقے کی نگاہوں میں خار بن کر کھٹکتا تھا۔

٭… اوتار سنگھ کھنڈا (16 جون 2023ء)

یہ برطانیہ میں مقیم خالصتان کا ممتاز رہنما تھا۔ برمنگھم کے ایک اسپتال میں پُراسرار حالات میں دم توڑ گیا۔ اس نے اسی سال کے شروع میں لندن میں ہندوستانی ہائی کمیشن میں توڑ پھوڑ کی کوشش میں کردار ادا کیا تھا۔

٭…پرمجیت سنگھ پنجوار (6 مئی 2023ء)

خالصتان کمانڈو فورس کے سربراہ جنہیں ملک سردار سنگھ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ان کو لاہور میں گھر کے قریب قتل کر دیا گیا۔ وہ بھارت کی انتہائی مطلوب فہرست میں شامل تھے۔ خالصتان کمانڈو فورس (KCF) کے اہم رہنما رہے۔

(10) سید نور شلوبر (4 مارچ 2023ء)

کشمیری رہنما۔بھارت کا الزام تھا کہ یہ وادی کشمیر میں ’’دہشت گردوں‘‘ کو بھرتی کرتے ہیں ۔نیز پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کے ساتھ تعاون کرنے پر ’’بدنام‘‘ ہیں۔ شلوبر کو پاکستان کے خیبر پختونخواہ میں باڑہ کے علاقے میں گولیاں مار کر شہید کیا گیا۔

٭…بشیر احمد پیر (20 فروری 2023ء)

کشمیر میں سرگرم تنظیم،حزب المجاہدین کے ایک اعلیٰ کمانڈر۔امتیاز عالم کے نام سے بھی جانے گئے۔ ان کو راولپنڈی، پاکستان میں شہید کیا گیا۔ وہ پندرہ سال سے زیادہ عرصے سے پاکستان میں مقیم تھے۔ انھوں نے وادی کشمیر میں گوریلا سرگرمیاں انجام دینے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

٭… سید خالد رضا (27 فروری 2023ء)

مقبوضہ کشمیر میں سرگرم تنظیم، البدر مجاہدین کے سابق کمانڈر ۔ کراچی میں شہید کیے گئے۔ آپ کے حزب المجاہدین کے سربراہ، سید صلاح الدین سے قریبی تعلقات تھے ۔ جموں و کشمیر کے کپواڑہ علاقے میں بھارتی سیکورٹی فورسز پہ حملوں میں شریک رہے۔

٭… اعزاز احمد آہنگر (14 فروری 2023ء)

مقبوضہ کشمیر کے گوریلا رہنما۔سری نگر میں پیدا ہوئے۔بھارتی سیکورٹی فورسز پہ حملے کیے۔بعد ازاں افغانستان چلے گئے اور داعش میں شامل ہوئے۔ افغانستان ہی میں نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر انھیں ہلاک کر دیا۔

٭…ہرویندر سنگھ سندھو (19 نومبر 2022ء)

تحریک خالصتان کا رہنما۔ہرویندر سنگھ رندا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ لاہور کے ایک اسپتال میں پُراسرار طریقے سے چل بسا۔ اس کا تعلق پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کے قتل سمیت اہم واقعات سے تھا۔

٭…رپودمن سنگھ ملک (14 جولائی 2022ء)

خالصتانی تنظیم ،ببر خالصہ سے وابستہ رہنما۔ ملک کو کینیڈا کے شہر سرے میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ وہ اس سے قبل 1985 ء میں ایٔر انڈیا کے فلائٹ بم دھماکے سے متعلق الزامات کا سامنا کر چکا تھا ۔

٭…ظہور مستری (1 مارچ 2022ء)

حرکت المجاہدین اور جیش محمد کے کارکن۔ان پانچ ہائی جیکروں میں شامل تھے جنھوں نے ۱۹۹۹ء میں انڈین ایٔر لائنز کا IC-814 طیارہ ہائی جیک کیا تھا۔ انھیں کراچی میں موٹر سائیکلوں پر سوار مسلح افراد نے شہید کر دیا۔

٭…سلیم رحمانی (2 جنوری 2022ء)

حرکت المجاہدین کے کارکن۔وادی کشمیر میں بھارتی سیکورٹی فورسز پہ حملے کیے۔بعد ازاں پاکستان پہنچ کر نواب شاہ میں کاروبار کرنے لگے۔مسلح افراد نے انھیں فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔n

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔