کرنٹ افیئر ہیں کہاں

سعد اللہ جان برق  منگل 23 اپريل 2024
barq@email.com

[email protected]

ہمارے کچھ دوست اور کچھ دشمن جن میں اکثر ’’ٹو ان ون‘‘ ہوتے ہیں یعنی دوست بھی اور دشمن بھی

دشمنوں سے پیار ہوتا جائے گا

دوستوں کو آزماتے جائیے

ہم سے شاکی ہیں کہ ہم ادھر ادھر کی فضولیات تو ہانکتے رہتے ہیں لیکن’’کرنٹ افیئر‘‘ پر نہیں لکھتے۔ اور یہ سچ بھی ہے واقعی ہم’’کرنٹ افیئر‘‘پر نہیں لکھتے اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ’’کرنٹ افیئر‘‘ پر اتنے بڑے بڑے دانا دانشور اتنا بڑا بڑا لکھتے ہیں کہ ہر طرف نقارخانہ بن جاتا ہے۔اور اس بڑے بڑے نقارخانے میں ہم اپنا چھوٹا سا طوطا چھوڑتے ہی نہیں

ان کو شکایت کہ ہم کچھ نہیں کہتے

اپنی یہی عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا وہ کرنٹ افیئر واقعی کرنٹ افیئر ہوتے ہیں؟ ہمارے خیال میں تو گزشتہ (77) سالوں میں تو ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ہے جسے ہم ’’نیا‘‘ کہہ سکیں سب کچھ وہی چلتا ہے جو چلتا تھا چلتا ہے اور چلتا رہے گا۔

ہم جب اخبار میں ہوتے تھے تو جب بھی مخصوص’’ایام‘‘ میں سے کوئی’’یوم‘‘ آتا تھا۔تو پچھلے سال کی کاپی سے اس یوم کے مضامین نکال کر نئی کاپی میں چپکا دیتے تھے اور صبح نئے ایڈیشن میں متعلقہ ’’یوم‘‘ منالیتے تھے کیونکہ یہ ہم کو معلوم ہوتا تھا کہ متعلقہ مضامین نہ تب کسی نے پڑھے تھے اور نہ اب پڑھیں گے۔ہاں کبھی کبھی عنوانات میں تھوڑی سی تبدیلی کر دیتے۔پرانے مضمون کا اگر عنوان ہوتا۔قائد اعظم تو نئے اسی مضمون پر’’بابائے قوم‘‘ لکھ دیتے۔پرانے مضمون کا اگر عنوان ہوتا۔روزے کی برکات،تو نیا عنوان برکتوں کا مہینہ کردیتے تھے۔

کچھ اورمثالیں۔  پرانا عنوان ہوتا یوم دفاع۔نیا عنوان۔جنگ ستمبر۔ پرانا عنوان ہوتا۔قتل حسین۔تو نیا ہوتا مرگ یزید۔ پرانا فضائل حضرت علی کرم اللہ وجہہ۔نیا۔باب العلم ہوتا۔ پرانا عنوان ہوتا صدیق اکبر نیا ہوتا خلیفہ اول،پرانا عمر فاروق تو نیا عدل فاروقی۔اسی طرح عیدمیلاد النبی، رمضان اور عیدین کے ایڈیشن بھی نکلتے تھے اور یہ جو اقوام متحدہ کے ایام ہیں ان پر بھی یہی سلسلہ ہوتا تھا۔ مطلب یہ کہ بوتلوں کا صرف لیبل بدل دیتے تھے اور اگر نہ بھی بدلتے تو کیا فرق پڑتا۔کہ پاکستانیوں کو خدا نے فلم گجنی کے عامر خان سے بھی زیادہ ’’کم‘‘ حافظہ دیا ہوا ہے۔

اب ان’’کرنٹ افیئر‘‘ کی بات کریں۔تو ان میں ’’کرنٹ‘‘ کبھی ہوتا ہی نہیں تو ان پر لکھا کیسے جائے۔یہ تو ہم پہلے بھی کسی کالم میں بتاچکے ہیں کہ فلموں کی طرح سیاست میں بھی’’فارمولہ‘‘ سسٹم چل رہا ہے جھنڈوں کے رنگ بدلتے رہتے ہیں لیکن ’’ڈنڈا‘‘ سب میں ایک ہی ہوتا ہے۔آج کا اخبار اٹھا کر دیکھیے۔چینلوں کے بریکنگ نیوز پڑھیے۔ کچھ نیا ملے تو جو لیڈر کی سزا ہے وہ ہمیں دیجیے۔پر روز،ہرجگہ،ہروقت

لے آئی ہے کہاں پر قسمت ہمیں کہاں سے

یہ تو وہی جگہ ہے گزرے تھے ہم جہاں سے

کیا مسلم لیگ ن۔ق۔ر۔چ۔خ نئی ہیَ اس کے ممتاز لیڈر ممتاز رہنما یا ممتاز رہزن نئے ہیں ۔کچھ بھی تو نیا نہیں،تو آخر کرنٹ افیئر کہاں سے آئے اور کوئی ان پر کیا لکھے۔کبھی یہ تو کبھی وہ ، وہ جو عوام کے منتخب نمایندے کہلاتے ہیں وہ بھی دوباری،سہ باری، چارباری اور پانچ باری۔اگر یہ کرنٹ افیئر ہیں تو خرانٹ فئیر کسے کہیں گے

یونہی ہمیشہ الجھتی رہی ہے ظلم سے خلق

نہ ان کی رسم نئی ہے نہ ان کی جیت نئی

یونہی ہمیشہ کھلائے ہم نے آگ میں پھول

نہ اپنی ہار نئی ہے نہ ان کی جیت نئی

وہی بدنصیب گھوڑا ہے اور وہی بانصیب کوچوان۔اس بدقسمت گھوڑے اور خوش قسمت کوچوان کا قصہ تو آپ کو یاد ہوگا۔کسی سواری نے تانگے کا مریل گھوڑا دیکھ کر کوچوان سے کہا۔تمہارا گھوڑا بہت ہی کمزور ہے اسے کھلایا پلایا کرو۔تو کوچوان نے کہا کہ اس میں میرا کوئی قصور نہیں بلکہ خود اس گھوڑے کی قسمت خراب ہے۔ شام تک میں اتنا کما لیتا ہوں جس میں یا تو گھوڑے کی گھاس آسکتی ہے یا میری شراب۔ مطلب یہ کہ صرف ایک ہی کام ہوسکتا ہے چنانچہ میں ’’ٹاس‘‘ کرلیتا ہوں اور یہ بدنصیب آج پانچواں دن ہے مسلسل ٹاس ہار رہا ہے۔کچھ ایسا ہی معاملہ حکومت اور عوام کا ہے۔ملک کی جو کمائی ہے۔

اس میں یا تو عوام کا پیٹ بھرا جاسکتا ہے اور یا لیڈروں کے بینک اور تجوریاں۔چنانچہ’’ٹاس‘‘ کرلیا جاتا ہے جسے لوگ انتخابات بھی کہتے ہیں اور(77) سال سے ’’گھوڑا‘‘ ٹاس ہار رہا ہے۔اب جب گھوڑا اور کوچوان بھی وہی ہیں۔

ٹاس بھی وہی ہے اور دونوں کا’’لک‘‘ بھی وہی ہے۔تو اس میں ’’کرنٹ‘‘ کہاں سے  آئے؟یقین نہیں آتا تو چلیے۔آج کا اخبار بھی سامنے  رکھیے اور(77) سال پہلے کا کوئی اخبار بھی نکالیں دونوں پر تاریخ بدل دیجیے اور آپس میں گڈمڈ کرکے پھر پڑھیے۔کوئی نئی خبر ملی؟ نہیں ملی اور نہ ملے گی۔دونوں میں کوئی کرنٹ ہے نہ خبر صرف بیانات ہی بیانات ہیں اور بیانات میں وہی گا۔گے،گی کی تکرار۔(77) سال پہلے بھی ملک ’’نازک‘‘ حالات سے گزر رہاتھا اور آج بھی نازک حالات سے گزر رہا ہے، (77) سال پہلے بھی ’’ بحران‘‘ تھا اور آج بھی بحران۔(77) سال پہلے بھی’’ مسائل‘‘ کی مرغی کو مسائل کے’’انڈوں‘‘ پر بٹھا کر مسائل کے ’’چوزے‘‘ نکالے جاتے تھے اور پھر ان چوزوں کو پال پوس کر’’انڈے‘‘ یا بانگ دینے کے قابل بنایا جاتا تھا۔ اور آج بھی یہ سلسلہ رواں دواں ہے البتہ اتنی تبدیلی ضرور ہوئی ہے کہ اب یہ کام’’مرغی‘‘ سے نہیں بلکہ ’’اتکوبٹیر‘‘ سے کیا جاتا ہے وہی چال بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے۔

اوراس اتکوبٹیر کا نام آئی ایم ایف ہے جو بیک وقت بے شمار چوزے نکالتا ہے پھر ان چوزوں کو پولٹری فارموں عرف پارٹیوں میں تقسیم کرتا ہے اور وہ ان کو پال پوس کر،مرغوں اور مرغیوں کی صورت میں چرنے کے لیے اس کھیت پر چھوڑتے ہیں جس کا نام پاکستان ہے جہاں کوئی بھی بات نئی بات نہیں ہوتی۔وہی طوطے ہیں جو شکاری کے نرکل پر الٹے لٹکے ہوئے آموختہ دھرا رہے کہ ہم شکاری کے نرکل پر کبھی نہیں بیٹھیں گے اور اگر بیٹھیں گے تو پھڑ پھڑا کر اڑجائیں گے۔ لیکن اڑتے نہیں بلکہ شکاری آرام سے ان کو ایک ایک کرکے پکڑتا اور بوری میں ڈال کر بازار میں بیچتا ہے،ایسے میں ہم’’کرنٹ افیئر‘‘ ڈھونڈیں کہاں۔لائیں کہاں سے اور پھر ان پر لکھیں کیا؟ اور اگر لکھیں بھی تو فائدہ کیا

پہلے ہر چیز تھی اتنی مگر اب لگتا ہے

اپنے گھر ہی میں کسی دوسرے گھر کے ہم ہیں

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔