غزہ میں اسرائیلی ٹینک کی گولہ باری سے 5 اسرائیلی فوجی ہلاک، 7 زخمی

ویب ڈیسک  جمعرات 16 مئ 2024
زخمی فوجیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں متعدد کی حالت تشویش ناک ہے

زخمی فوجیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں متعدد کی حالت تشویش ناک ہے

غزہ کے علاقے جبالیہ اور رفح میں حماس اور اسرائیلی فوج کے درمیان خوں ریز لڑائی جاری ہے جس کے دوران فرینڈلی فائرنگ میں 5 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 7 زخمی ہوگئے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) کا دعویٰ ہے کہ اس کے فوجیوں کی ہلاکتیں حماس کے حملے میں نہیں بلکہ خود فوج کے اپنے ہاتھوں ہوئی ہیں۔

دوسری طرف حماس کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر اسرائیلی فوج پر حملوں اور ہلاکتوں کے ویڈیو ثبوت جاری کیے جارہے ہیں جن میں درجنوں فوجیوں کی ہلاکت کا بتایا جارہا ہے۔

روئٹرز اور ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ شمالی غزہ کی پٹی میں اسرائیلی ٹینک کی فائرنگ سے پانچ فوجی مارے گئے۔

ہلاک ہونے والے فوجیوں میں سارجنٹ ایلان کوہن، سارجنٹ ڈینیئل چیمو، اسٹاف سارجنٹ بیتزلیل ڈیوڈ شاشوہ، اسٹاف سارجنٹ گیلاد آری بوئم، کیپٹن روئے بیت یاکوف شامل ہیں۔ تمام فوجیوں کا تعلق پیرا ٹروپرز بریگیڈ کی 202ویں بٹالین سے تھا۔

فوج نے واقعے کے بارے میں بتایا 202 بٹالین کے ٹینک کی کراس فائرنگ کے نتیجے میں 5 فوجی ہلاک اور کچھ زخمی ہوئے۔

زخمی فوجیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں متعدد کی حالت تشویش ناک ہے جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا امکان ہے۔

فوج کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق جبالیہ کیمپ میں چھاتہ برداروں کے ساتھ کام کرنے والے ایک ٹینک نے ایک عمارت میں مجاہدین کی موجودگی کا سمجھ کر دو گولے فائر کیے جب کہ وہاں اسرائیلی فوجی جمع تھے۔

پہلے ٹینک فورس صبح کے وقت اس علاقے میں پہنچی تھی جس کے کئی گھنٹے بعد چھاتہ بردار دستے علاقے میں داخل ہوئے اور ایک عمارت میں اپنی چوکی قائم کی تھی۔ شام کے وقت پیراٹروپرز کا ایک اور گروپ وہاں پہنچا اور وہاں موجود دو ٹینکوں کو اطلاع دی کہ ہم عمارت میں داخل ہو رہے ہیں۔

ٹینک فورسز کو عمارت کی کھڑکیوں میں بندوق اور اسلحہ جھانکتا نظرآیا جہاں سے ان پر ممکنہ طور پر فائر بھی ہوا جس پر انہوں نے حماس کے مجاہدین سمجھ کر وہاں گولے فائر کردیے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تفتیش کی جارہی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔