ٹیلی کام سیکٹر پر قومی ترقی کا انحصار

راجہ کامران  جمعـء 7 جون 2024
ملک اس وقت فائیو جی ٹیکنالوجی کےلیے تیار نہیں۔ (فوٹو: فائل)

ملک اس وقت فائیو جی ٹیکنالوجی کےلیے تیار نہیں۔ (فوٹو: فائل)

آج کی دنیا معلومات کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کی دنیا ہے۔ اور یہ سب ممکن ہورہا ہے دنیا میں بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی وجہ سے اب دنیا میں ہر چیز ٹیکنالوجی کی وجہ سے بدل رہی ہے۔ اب کسی بھی ملک کی ترقی کا اندازہ اس کے ڈیجیٹل فٹ پرنٹ سے لگایا جاتا ہے۔ جس ملک میں ڈیجیٹل پھیلاؤ جتنا زیادہ ہوگا، وہ ملک بھی اسی قدر ترقی یافتہ کہلائے گا۔

موبائل فونز پر انٹرنیٹ کی فراہمی کے بعد ڈیجیٹل خدمات کا دائرہ وسیع ہورہا ہے۔ ڈیجیٹل گورنمنٹ، ڈیجیٹل بینکاری، ٹیلی میڈیسن، فری لانسنگ، ای کامرس، ایپ ڈیولپمنٹ، ویب ڈیولپمنٹ، اور دیگر متعدد شعبہ جات میں کام آگے بڑھ رہا ہے۔ پاکستان میں نوجوانوں کو ڈیجیٹل شعبے میں آگے بڑھنے کے مواقع بھی مل رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان فری لانسنگ میں دنیا کا چوتھا بڑا ملک بن گیا ہے۔

اس تمام صورتحال میں اگرپاکستان کا جائزہ لیں تو یہاں پر ٹیلی کام سیکٹر تیزی سے پھیل رہا ہے۔ پی ٹی اے کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں صارفین کی تعدادا 19 کروڑ سے زائد ہے۔ جس میں سے تقریباً 12 کروڑ کے پاس تھری جی یا فور جی ٹیکنالوجی پر استعمال ہونے والے اسمارٹ فونز موجود ہیں۔ جبکہ خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کے درمیان مقابلے کے علاوہ باہمی انضمام اور فروخت کا عمل بھی جاری ہے۔ اب پاکستانی مارکیٹ میں تین آپریٹرز رہ گئے ہیں اور تمام کی تمام کمپنیاں غیر ملکی ہیں۔

پاکستان میں ٹیلی کام کمپنیوں کے انضمام یا فروخت کی بڑی وجہ مارکیٹ میں موجود انتہائی مسابقت اور اوسط فی صارف اخراجات میں ٹھہراؤ ہے۔ ٹیلی کام انڈسٹری کے مطابق 2005 میں صارفین کی تعداد 25 لاکھ تھی جو کہ اب بڑھ کر 19 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔ یعنی آبادی کے 70 فیصد افراد کے پاس موبائل فون موجود ہیں۔ 2005 میں ایک صارف ماہانہ تقریباً 250 روپے استعمال کرتا تھا، اور آج بھی فی صارف اخراجات 250 روپے ہیں۔ یعنی تقریباً 19 سال میں فی صارف اخراجات پاکستانی روپے میں اپنی جگہ منجمد ہیں۔ مگر اگر اس کو ڈالر میں دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ فی صارف اخراجات 5 سے کم ہوکر ایک ڈالر سے بھی کم رہ گئے ہیں۔ کیونکہ 2005 میں ڈالر تقریباً 60 روپے کا تھا، جو کہ اب تیزی سے روپے کی قدر گرنے کے بعد 290 تک پہنچ گیا ہے۔ اس طرح سے پاکستان میں کام کرنے والی غیر ملکی ٹیلی کام کمپنیوں کے فی صارف اخراجات میں 4 ڈالر کی نمایاں کمی ہوئی ہے۔

ٹیلی کام صنعت میں 2005 سے لے کراب تک ٹیکنالوجی میں بھی تیزی سے تبدیلی ہوئی ہے۔ ٹیلی کام سیکٹر کی سب سے پہلی ٹیکنالوجی جو ملک میں متعارف ہوئی وہ ایمز ٹیکنالوجی تھی۔ جس کے بعد ملک میں جی ایس ایم ٹیکنالوجی آئی اور ٹیلی کام صنعتوں نے ٹو جی جی ایس ایم ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی۔ اس کے بعد جی ایس ایم تھری یعنی تھری جی ٹیکنالوجی متعارف ہوئی اور اس وقت ملک میں فور جی ٹیکنالوجی استعمال ہورہی ہے۔ جبکہ دنیا اس وقت فائیو جی ٹیکنالوجی پر منتقل ہورہی ہے۔ ملک میں اس وقت ٹیلی کام خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کا دعویٰ ہے کہ لگائے گئے ٹاورز میں سے تقریباً 90 فیصد کو فور جی پر تبدیل کردیا گیا ہے۔ حکومت اب فائیو جی ٹیکنالوجی کا لائسنس فروخت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جبکہ ٹیلی کام ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک اس وقت فائیو جی ٹیکنالوجی کےلیے تیار نہیں۔

مائیکل پیٹرک فولی جو کہ ٹیلی نار پاکستان کے سربراہ رہ چکے ہیں اور ان دنوں ایک کثیر ملکی کمپنی سے وابستہ ہیں، نے چند ماہ قبل ہونے والی لیڈرز اِن اسلام آباد کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ Four G for all or five G for few.
یعنی ان کا کہنا تھا کہ ملک میں موبائل فونز استعمال کرنے والی تقریباً نصف تعداد کے پاس ٹو جی موبائل فون ہے، جس پر انٹرنیٹ کی سہولیات دستیاب نہیں ہوتی۔ پاکستان کو پہلے مرحلے میں ان افراد کو اپ گریڈ کرنا ہوگا۔ جس کے بعد فائیو جی ٹیکنالوجی پر جانے کے حوالے سے منصوبہ بندی کرنا ہوگی، کیونکہ فائیو جی ایک مکمل طور پر نئی ٹیکنالوجی ہے۔ جس میں موبائل فونز ٹاورز کی تعداد بڑھانے کے علاوہ تمام ٹاورز پر نئے آلات نصب کرنا ہوں گے اور اس پر اتنی سرمایہ کاری درکار ہوگی، جتنی سرمایہ کاری ابھی تک ٹیلی کام سیکٹر میں ہوچکی ہے۔ پاکستان میں نئی ٹیکنالوجی لانے کے بجائے ہمیں موجودہ ٹیکنالوجی یعنی فور جی کے استعمال کو آبادی کے بڑے حصے تک بڑھانے کی پالیسی اپنانا ہوگی۔

آخر ٹیلی کام کمپنیاں مقابلے اور مسابقت کے باوجود فائیو جی ٹیکنالوجی پر جانے سے کیوں گریزاں ہیں؟ اس کا جواب پی ٹی سی ایل کے چیف مارکیٹنگ آفیسر سید عاطف رضا نے کونسل آف اکنامک اینڈ انرجی جرنلسٹس کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سیل سائٹس پر ہونے والے اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ ٹیلی کام ٹاورز بلند و بالاعمارتوں کی چھتوں پر لگائے جاتے ہیں، جس کا کرایہ ہر گزرتے دن بڑھ رہا ہے۔ بجلی مہنگی ہورہی ہے اور لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے پسماندہ علاقوں میں سیل سائٹس کو آپریٹو رکھنے کےلیے جنریٹر کا استعمال کرنا پڑتا ہے یا بیٹریاں لگانی پڑتی ہیں۔ جس سے آپریشنل لاگت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ حفاظتی اخراجات اضافی ہیں۔

آپریشنل لاگت کے علاوہ پاکستان میں ٹیلی کام صنعت پر دنیا میں سب سے زائد ٹیکسز عائد ہیں۔ ایک صارف جو کہ 100 روپے اپنے موبائل فون میں ڈالتا ہے، اس کو 19.5 فیصد جی ایس ٹی اور 15 فیصد ایڈوانس ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ یعنی 100 روپے میں سے 34 روپے تو ٹیکس ہی چلا جاتا ہے۔

ملک کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور نوجوانوں کو روز گار فراہم کرنے کےلیے ملک کے طول و عرض میں موبائل فونز خدمات کو پہنچانا اور اس کو آبادی کےلیے سستا بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں ٹیلی کام صنعت کی ترقی کےلیے ضروری ہے کہ موبائل فون پر انٹرنیٹ کی دستیابی سستی، قابل رسائی اور معیاری ہو، جس کے بعد ہی ملک کی ترقی کا عمل تیز ہوسکے گا۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

راجہ کامران

راجہ کامران

بلاگر سینئر اکانومی جرنلسٹ ہیں۔ پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا میں کام کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ ان سے ٹوئٹر ہینڈل @rajajournalist پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔