سوات واقعے پر پاکستان کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے، احسن اقبال

ویب ڈیسک  ہفتہ 22 جون 2024
فوٹو فائل

فوٹو فائل

  کراچی: وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے سوات میں ایک شخص کو توہین مذہب کے الزام پر وحشیانہ انداز میں مارنے کا معاملہ قومی اسمبلی میں اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے سے پوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے، یہ ایک واقعہ ہوتا تو درگزر کرتے مگر اس طرح کے واقعات تسلسل سے ہو رہے ہیں۔

قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران احسن اقبال نے کہا کہ سوات واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہ ایک اہم مسئلے پر توجہ دلانا چاہتا ہوں، سوات میں ایک واقعہ ہجوم کے ہاتھوں ایک شہری کے قتل کا واقعہ پیش آیا ہے، جس کے نتیجے میں آج پوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہورہی ہے۔

وزیرمنصوبہ بندی نے کہا کہ خاص طور پرہمارا ہمسایہ ملک جہاں مسلمانوں کی اسی طرح موت ہوتی ہے اس کا میڈیا بھی ہمارا مذاق اڑا رہا ہے، یہ واقعہ اگر ایک آئیسولیٹڈ ہوتا تو شاید ہم درگزر کرسکتے لیکن ایک تسلسل ہے، سیالکوٹ، جڑانوالہ، سرگودھا میں اسی قسم کا واقعہ ہوا اور اچھرے میں اسی قسم کے واقعے سے ہم بچ نکلے۔

انہوں نے کہا کہ میں خود اپنی ذاتی مثال دینا چاہتا ہوں کہ مجھے بھی اللہ نے ایک نئی زندگی دی جب ایک ایسے جنونی نے میری زندگی لینے کی کوشش کی اور وہ گولی آج بھی میرے جسم میں موجود ہے، میری استدعا ہے اس ایوان کو ایسے واقعات کا نوٹس لینا چاہیے، ہم مذہب کے نام پر اسٹریٹ جسٹس پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، دین کے نام کو استعمال کرکے آئین و قانون اور ریاست کے تمام بنیادی اصولوں کو پیروں تلے روندتے ہیں حالانکہ اسلام میں تو کفار کی لاش کی بھی بے حرمتی کی اجازت نہیں ہے۔

 

 

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کسی کو جان سے مار کر اس کی لاش جلانا کسی صورت قابل قبول نہیں ہے، اسے انارکی پھیل رہی ہے، آج دنیا میں ہم تعلیم، صحت اور سائنس میں سب سے پیچھے ہیں، علمائے کرام کا فرض ہے اس معاملے پر کردار ادا کریں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایک اسپیشل کمیٹی بنائی جائے، جس پر ڈپٹی اسپیکر غلام مصطفیٰ شاہ نے کہا کہ اپ کابینہ کا حصہ ہیں وزیر داخلہ سے اس معاملے پر بات کریں، آپ کابینہ رکن ہوتے ہوئے ایسی بات کریں گے تو بےبسی ثابت ہوگی۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے جو سڑکوں پر عوامی انصاف کی وجوہات جانے اور حل نکالے، ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ آپ وزیر ہیں آپ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا (کے پی) سے بات کریں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔