حکومت اور اپوزیشن میں سیاسی محاذ آرائی عروج پر پہنچ گئی

ارشاد انصاری  بدھ 3 جولائ 2019
حکومت بھی اپنے پتے کھیل رہی ہے جسے اپوزیشن سیاسی انتقام کا نام دے رہی ہے۔ فوٹو: فائل

حکومت بھی اپنے پتے کھیل رہی ہے جسے اپوزیشن سیاسی انتقام کا نام دے رہی ہے۔ فوٹو: فائل

 اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے وفاقی بجٹ کے لاگو ہوتے ہی ملک بھر میں سے آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں ۔

ملک کے کاروباری طبقے سے لے کر عام آدمی تک پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔ دوسری جانب سیاسی درجہ حرارت بھی بڑھتا دکھائی دے رہا ہے اور بجٹ سے پہلے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ میں بہتری کے پیدا ہوتے آثار بجٹ کے نفاذ کے بعد سے دم توڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان فاصلے بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں اور سیاسی جوڑ توڑ کیلئے اپوزیشن و حکومت کے درمیان پنجہ آزمائی جاری ہے اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ کے باہرصف بندی میں مصروف ہے اور چیئرمین سینٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں دوسری جانب حکومت بھی اپنے پتے کھیل رہی ہے جسے اپوزیشن سیاسی انتقام کا نام دے رہی ہے اور حکومت کے خلاف آواز اٹھانے والے حزب اختلاف کے رہنماوں کو ایک ایک کرکے جیلوں میں بند کیا جارہا ہے اور پاکستان مسلم لیگ (ن)کے رہنما رانا ثناء اللہ کی حالیہ گرفتاری پر اپوزیشن سخت موقف اپنائے ہوئے ہے۔

بعض حلقوں کا خیال ہے کہ ابھی مزید ہیوی ویٹ پہلوان پابند سلاسل ہونے کو ہیں اس کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کے اتحاد کو بھی توڑنے کی بھرپورکوششیں جاری ہیں اور حزب اختلاف کی سب سے بڑے جماعت پاکستان مسلم لیگ(ن ) میں نئے فارورڈ بلاک کے قیام کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور بعض ن لیگی اراکین نے وزیراعظم سے بھی ملاقاتیں بھی کی ہیں اس حوالے سے دونوں اطراف سے دعوے جاری ہیں اور بعض کی جانب سے تردید کی جا رہی ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے دعوی کیا ہے کہ اگر وزیراعظم نے کہا تو گورنر پنجاب اڑتالیس گھنٹوں میں تبدیلی لے آئیں گے۔

پی ٹی آئی کے وزراء کے ان غیر ذمہ دارانہ بیانات سے سیاسی، سماجی و عوامی حلقوں میں احتساب کے نام پر سیاسی وفاداریاں تبدیل کروانے کیلئے سیاسی انتقام کے بیانیہ کو تقویت ملتی ہے اسی لئے بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومتی ٹیم کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیئے اور حساس نوعیت کے ایشوز پر غیر ذمہ دارانہ بیانات سے گریز کرنا چاہیئے کیونکہ اس کا خمیازہ عوام کو سیاسی عدم استحکام،معاشی ابتری، بیروزگاری اور مہنگائی کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے جس سے حکومت بھی عوامی مقبولیت کھو رہی ہے اور مہنگائی کے بے قابو جن نے عوام کیلئے جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل کردیا ہے لہٰذا جس تیزی سے مہنگائی کا سونامی بڑھ رہا ہے اگر اس کے سامنے بند نہ باندھا گیا تو اس کے اثرات بہت خطرناک ہونگے اور عوام میں پکنے والا لاوا جب پھٹے گا تو بہت تباہی پھیلائے گا۔ ایسے میں ملک کے مقتدر حلقوں کو دانشمندی کا مظاہرہ کرنا چاہیئے اور عوام کی داد رسی کرنی چاہییے ورنہ اگر یہ عوام بپھر گئی تو پھر اسے قابو کرنا مشکل ہو جائے گا۔

ابھی آئی ایم ایف سے پاکستان کیلئے قرضہ ملا نہیں ہے مگر اس سے پہلے ہی اس کی شرائط پوری کرتے کرتے عوام کا بھرکس نکال دیا گیا ہے اور حالات خطرناک رخ اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ ملک میں پائی جانیوالی بے یقینی کی فضاء نے ملکی معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچادیا ہے۔ ملک میں سرمایہ کاری آنے کی بجائے یہاں سے باہر جا رہی ہے اور بڑے پیمانے پر پاکستانی سرمایہ کار اپنی سرمایہ کاری بنگلہ دیش، سری لنکا اور ملائشیاء شفٹ کر چکے ہیں اور حکمران ہیں کہ اناء کے خول سے باہر آنے کو تیار نہیں ہیں۔

گذشتہ دس ماہ سے حکومت تمام تر مسائل کا ملبہ ماضی کی حکومتوں پر ڈال کر عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگائے ہوئے ہے اور خود کچھ ڈلیور نہیں کر پا رہی ہے۔ دوست ممالک نے اگرچہ ماضی کی طرح اس بار بھی پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کیا اور ابھی کر رہے ہیں لیکن ہمیں خود بھی اپنا خیال کرنا ہوگا اور اپنے پاوں پر کھڑا ہونے کیلئے خود بھی کچھ کرنا ہوگا کیونکہ جب ملکی نظام چلانے کیلئے بیرونی امداد پر انحصار کیا جاتا ہے تو اس سے اندرونی معاملات میں بیرونی مداخلت بھی بہت بڑھ جاتی ہے جو ملکی خودمختاری کیلئے خطرناک ہے اور آج بھی یہی حالات ہیں کہ ہمیں اپنے امور چلانے کیلئے کبھی آئی ایم ایف تو کبھی عالمی بینک اور کبھی اے ڈی بی کی جانب دیکھنا پڑتا ہے اور ہمیں ان سے فنانسنگ حاصل کرنے کیلئے انکی کڑی شرائط بھی ماننا پڑتی ہیں اور پھر عالمی طاقتوں کے درمیان جاری عالمی چودھراہٹ کی جنگ میں بھی ہم تختہ مشق بنے ہوئے ہیں۔

ایسے میں ہمارا پڑوسی دشمن ملک بھارت بھی کوئی موقع ضائع نہیں ہونے دیتا وہ پاکستان میں افراتفری و بدامنی کو ہوا دینے کیلئے پانی کی طرح پیسہ بہا رہا ہے اور ہماری مسلح افواج نے دشمن کی ان تمام سازشوں کا نہ صرف ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے بلکہ انہیں ناکام بھی بنایا ہے لیکں ایسے میں ملک کی سیاسی قیادت کی ذمہ داریاں اور بڑھ جاتی ہیں انہیں سفارتی و سیاسی محاذ پر بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا لیکن اس کے ساتھ ساتھ داخلی سطح پر بھی بھرپور توجہ کی ضرورت ہے اور ملک کی پسی ہوئی عوام کیلئے کچھ ریلیف کی ضرورت ہے۔

اس میں کوئی دورائے نہیں کہ ملک مالی مشکلات سے دوچار ہے لیکن مشکلات سے نکالنے کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ذاتی عناد اور مفادات سے بالاتر ہوکر ملک کیلئے ایک ہونا ہوگا اور جس میثاق معیشت کی باتیں گذشتہ کئی سالوں سے ہو رہی ہیں اب اسے عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے۔ اپوزیشن کو بھی چاہیئے کہ وہ مثبت کردار ادا کرے۔ اب حکومت کو اگر پانچ سال کا مینڈیٹ ملا ہے تو اسے تسلیم کیا جائے اور حکومت کو کچھ کرنے کا موقع دیا جائے اور حکومت کو بھی چاہیے کہ اداروں کو مضبوط کرے اور یہ تاثر پیدا نہ ہونے دے کہ ادارے حکومت کے تابع ہیں اور حکومت ان اداروں کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ یہ بیانیہ شائد حکومت کی عوامی و سیاسی ساکھ کو سنبھالا دینے کیلئے تو بہتر ہو سکتا ہے مگر ملکی معیشت و خودمختاری کیلئے زہر قاتل کی حیثئیت رکھتا ہے، ہمیں اپنے اداروں کو سیاست سے پاک رکھنا ہوگا اور انہیں متنازعہ ہونے سے بچانا ہوگا۔

دوسری جانب جس آئی ایم ایف پروگرام کیلئے حکومت کو مشکل فیصلے کرنا پڑے ہیں اور بجلی ،گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرکے اور بھاری ٹیکسوںکے نفاذ سے مہنگائی کے رحم و کرم پر چھوڑ کر عوام کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے اس کی منظوری کی تاریخ بھی آن پہنچی ہے اور آج (بدھ)آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ پاکستان کیلئے چھ ارب ڈالر کے پروگرام کی منظوری کا جائزہ لے گا۔ اس پروگرام کی منظوری سے پاکستانی معیشت کو کچھ آکسیجن ضرور ملے گی۔ دوسری جانب چونکہ پاکستان نے بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی مد میں اربوں ڈالر واپس کرنا ہیں جس کے باعث ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بھی شدید دباو کا شکار ہیں اور ایسے میں ملک کو دیوالیہ پن سے بچانے اور مالی بحران سے نکالنے کیلئے آئی ایم ایف سے قرض کا حصول ناگزیر تھا جس کیلئے سٹاف سطح کے ہونیوالے معاہدہ کی اب آئی ایم ایف بورڈ سے منظوری کیلئے پیش کیا جا رہا ہے لیکن ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف بجٹ کے لاگو ہوتے ہی عوامی حلقوں کی جانب ٍسے جو ردعمل سامنے آیا ہے ۔

اس نے حکومتی پریشانی کو مزید بڑھادیا ہے جس کے باعث کپتان اور اسکی معاشی ٹیم میدان میں سرگرم ہیں یہی نہیں بلکہ بیک ڈور ڈپلومیسی بھی جاری ہے اور بہت سے اہم مقتدر حلقے بھی ملکی معیشت کو سنبھالا دینے کیلئے اپنا بھرپورکردار ادا کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ڈالر کے پر بھی کاٹنا ہوں گے اور مہنگائی کا جن بوتل میں بند کرنا ہوگا کیونکہ ڈالر کے مہنگا ہونے اور بجلی و گیس کی قیمتیں بڑھنے سے ہر چیز کا گراف بلند ہو رہا ہے اور فاریکس مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ڈالرکچھ دن مزید اڑان جاری رکھے گا اورآئی ایم ایف سے پروگرام ملنے تک ڈالر کے مقابلہ میں روپیہ دباو میں رہے گا، اسکے بعد ڈالر نیچے آئے گا اور حکومت پر مالی و معاشی دباؤ کم ہوگا مگر ساتھ ہی عوامی و سیاسی دباؤ بڑھتا دکھائی دے رہا ہے اب یہ حکومت کیلئے مزید بڑا امتحان ہوگا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔