ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے کیلیے آئی ایم ایف سے اجازت کی ضرورت نہیں، وزارت خزانہ

خصوصی رپورٹر  جمعـء 12 فروری 2021
تنخواہیں بڑھانے سے حکومت کو 16 ماہ میں 40 ارب روپے کے اضافی اخراجات برداشت کرنا ہوں گے (فوٹو: فائل)

تنخواہیں بڑھانے سے حکومت کو 16 ماہ میں 40 ارب روپے کے اضافی اخراجات برداشت کرنا ہوں گے (فوٹو: فائل)

 اسلام آباد: وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے لیے آئی ایم ایف سے اجازت کی ضرورت نہیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے لیے آئی ایم ایف سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ آئی ایم ایف قدغن نہیں لگاتا تاہم حکومتی آمدن بڑھانے پر زور دیتا ہے تاہم ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کرنے سے حکومت کو 16 ماہ میں 40 ارب روپے کے اضافی اخراجات برداشت کرنا ہوں گے۔

وزارت خزانہ کے حکام کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی سول ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے سے قومی خزانے پر 40 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا اور اگلے 4 ماہ میں 10 ارب جبکہ آئندہ سال تنخواہوں کا بل مزید 30 ارب بڑھ جائے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔