الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی تیاری پر 25 ارب روپے کی لاگت کا تخمینہ

رضوان شہزاد  پير 24 مئ 2021
خرچہ صرف ایک بار، مرحلہ وار انتخابات کے معاملے پر گفتگو ہونی چاہیے، وزیر اطلاعات۔ فوٹو: فائل

خرچہ صرف ایک بار، مرحلہ وار انتخابات کے معاملے پر گفتگو ہونی چاہیے، وزیر اطلاعات۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: اگلے عام انتخابات کیلیے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی تیاری پر تقریباً 25 ارب روپے کی لاگت آئے گی۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اس رقم میں ٹیکنالوجی، سیکیورٹی، ماحولیاتی تحفظ، پریذائیڈنگ افسروں کی تربیت، ڈیٹا اسٹوریج، پرنٹنگ، نقل و حمل اور دیگر متعلقہ اخراجات شامل نہیں۔ یہ تخمینہ اس صورت میں ہے کہ پورے ملک میں عام انتخابات ایک ہی روز ہوں تاہم اگر حکومت ملک کے مختلف حصوں میں مختلف دنوں میں انہی مشینوں کے استعمال کا فیصلہ کرتی ہے تو اخراجات میں کمی آ سکتی ہے کیونکہ اس صورت میں ووٹنگ مشینوں کی تعداد کم ہو جائے گی۔

ذرائع کے مطابق اگر گزشتہ عام انتخابات میں قائم کیے گئے پولنگ بوتھ سے زیادہ پولنگ بوتھ بنائے گئے تو لاگت مزید بڑھ سکتی ہے تاہم اگر حکومت وہی مشینیں ملک کے مختلف حصوں میں مرحلہ وار استعمال کرے تو اس میں کمی آجائے گی۔

2018کے عام انتخابات میں ملک بھر میں85ہزار پولنگ سٹیشن اور 2 لاکھ 43ہزار پولنگ بوتھ قائم کیے گئے تھے۔ اگر ہر پولنگ بوتھ کیلئے الیکٹرانک ووٹنگ مشین بنائی جائے تو خرچہ 25 ارب کے قریب ہوگا، اگرچہ یہ رقم بہت زیادہ ہے تاہم یہ خرچہ صرف ایک بار کیلئے ہوگا، مستقبل میں عام انتخابات ووٹنگ مشینوں کے ذریعے کرانے پر بہت معمولی خرچہ آئے گا۔

انہوں نے بھارتی انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بھی انتخابات مختلف دنوں میں ہوتے ہیں اور ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد نتائج کیلئے ایک دن متعین کردیا جا تا ہے۔ اسی طرح حکومت یہاں بھی مختلف علاقوں میں مختلف تاریخوں پر انتخابات کروا کر ووٹنگ مشینوں کی لاگت کو کم کرسکتی ہے اور تمام حلقوں سے نتائج مرتب کرنے کے بعد نتائج کا اعلان کرسکتی ہے۔

ادھر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ اس مرحلے پر اخراجات کے متعلق نہیں بتایا جا سکتا اور یہ ہماری حکومت کی طرف سے نہیں آنے چاہئیں۔ اس کا تعین بولی کے عمل کے دوران ہوگا، اگرچہ فواد چوہدری نے ووٹنگ مشینوں کی تیاری کے لئے 25 ارب روپے کے اعداد و شمار کی تصدیق کرنے سے گریز کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ رقم 2018 کے انتخابات پر آنے والی کل لاگت کے برابر ہوگی جو میڈیا رپورٹس کے مطابق 21 ارب روپے کے لگ بھگ تھا۔ جب مشینیں تجارتی طور پر بڑے پیمانے پر تیار کی جائیں گی تو لاگت میں کمی آئے گی ،یہ خرچہ صرف ایک بار ہوگا اور مستقبل میں انتخابی اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا حکومت مختلف دنوں میں انتخابات کرانے پر غور کر رہی ہے ، چوہدری نے کہا کہ اس پر تبادلہ خیال اور بحث ہونی چاہیے کیوں کہ اس سے ووٹنگ مشینوں کی لاگت کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔